لبنان میں جنگ کی صورتحال اور حزب اللہ کی پالیسی 

حزب اللہ

?️

سچ خبریں:جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اسرائیل کی زمین سوختہ پالیسی اور حزب اللہ کی طویل المدتی فرسایشی حکمت عملی کے درمیان تصادم کی عکاسی کرتی ہے، جس کے علاقائی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔

لبنان میں جاری جنگی صورتحال، جو وسیع تر علاقائی کشمکش کا حصہ سمجھی جا رہی ہے، اسرائیلی حکمت عملی زمین سوختہ اور حزب اللہ کی فرسایشی جنگی پالیسی کے درمیان واضح تصادم کو ظاہر کرتی ہے۔ جنوبی لبنان اب روایتی جنگی میدان نہیں رہا جہاں کامیابی کا اندازہ صرف جانی و مالی نقصانات سے لگایا جائے، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر اور طویل المدتی دباؤ کی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے جس میں عسکری کارروائیوں کے ساتھ سیاسی پیغامات اور نفسیاتی حربے بھی شامل ہیں۔

تل ابیب کے حسابات اور کشیدگی میں اضافہ

جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا جائزہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ تل ابیب مزاحمتی محور کو کمزور کرنے کی منظم کوشش کر رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق داخلی سیاسی عوامل، خصوصاً آئندہ انتخابات اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سیاسی بقا، بھی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ بعض سابق اسرائیلی عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ سیاسی دباؤ کے تناظر میں عسکری اقدامات میں اضافہ خارج از امکان نہیں۔

زمین سوختہ پالیسی بمقابلہ فرسایشی حکمت عملی

میدانی رپورٹس کے مطابق سرحدی دیہاتوں سے بڑی تعداد میں شہری نقل مکانی کر چکے ہیں اور رہائشی و زرعی ڈھانچے کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ بجلی، پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جسے بعض مبصرین ایک منظم دباؤ کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں۔

دوسری جانب حزب اللہ نے محدود مگر ہدفی کارروائیوں کے ذریعے فرسایشی دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ رپورٹس میں سرحدی چوکیوں، فوجی گاڑیوں اور نگرانی کے مقامات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات دی گئی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں بھی جانی و مالی نقصانات کا اعتراف کیا گیا ہے، اگرچہ سرکاری سطح پر معلومات محدود جاری کی جاتی ہیں۔

 ٹیکنالوجی کا بدلتا کردار

اس کشمکش میں ڈرون ٹیکنالوجی، خصوصاً فائبر آپٹک سے منسلک FPV ڈرونز، کے استعمال کا ذکر کیا جا رہا ہے جنہیں الیکٹرانک جیمنگ سے نسبتاً محفوظ اور زیادہ درستگی کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کی ٹیکنالوجی زمینی افواج کی نقل و حرکت کو زیادہ محتاط بنانے پر مجبور کر سکتی ہے اور جنگی لاگت میں اضافہ کرتی ہے۔

اسی کے ساتھ میڈیا وار بھی شدت اختیار کر چکی ہے، جہاں کارروائیوں کی ویڈیو دستاویزات نفسیاتی اثرات مرتب کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔

علاقائی صورتحال

لبنان کا محاذ وسیع تر علاقائی توازن طاقت کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ بعض تجزیوں کے مطابق اسرائیل محدود دائرے میں کنٹرولڈ کشیدگی برقرار رکھتے ہوئے بڑے پیمانے کی جنگ سے گریز کرنا چاہتا ہے، تاہم وہ ممکنہ علاقائی پیش رفت کے لیے تیاری بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

مقامی آبادی کی واپسی اور روزمرہ سرگرمیوں کی بحالی کو بعض مبصرین طویل المدتی استحکام کے عنصر کے طور پر دیکھتے ہیں، اگرچہ جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح وقت سامنے نہیں آیا۔

نتیجہ

علاقائی سطح پر مختلف فریق اس تنازع کو ایک وسیع تر اسٹریٹجک تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ بعض تجزیہ کار جبهوں کی وحدت کی حکمت عملی کا ذکر کرتے ہیں، جس کے مطابق مختلف محاذ ایک دوسرے سے مربوط سمجھے جاتے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں بھی اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا مختلف محاذ واقعی الگ ہیں یا عملی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے۔

ماہرین کے مطابق حالیہ جھڑپیں نہ صرف عسکری بلکہ نفسیاتی اور اسٹریٹجک اثرات بھی رکھتی ہیں، اور خطے میں طاقت کے توازن پر ان کے طویل المدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

ایران کے بارے میں بن سلمان کے نظریے میں اچانک تبدیلی

?️ 29 اپریل 2021سچ خبریں:سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ایران

عید کے بعد وفاقی کابینہ میں بڑی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں

?️ 13 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں)  تفصیلات کےمطابق عید کے بعد وفاقی کابینہ میں

بھارتی سفارت کار ناپسندیدہ شخص قرار، پاکستان کا 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم

?️ 13 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں اسلام

وزیراعظم عمران خان سے ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف نے ملاقات کی

?️ 14 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے ایرانی

امریکا نے شمالی کوریا کے ساتھ روابط کے حوالے سے اہم بیان جاری کردیا

?️ 2 مئی 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکا نے شمالی کوریا کے ساتھ روابط کے حوالے

حرمین شریفین صہیونیوں کے لیے حلال، فلسطینیوں کے لیے حرام!

?️ 5 اپریل 2022سچ خبریں:تل ابیب میں واقع "بنی براک” کے علاقے میں شہید "ضیا

لاہور ہائی کورٹ: عمران خان کی 9 مقدمات میں حفاظتی ضمانت منظور

?️ 18 مارچ 2023لاہور:(سچ خبریں) لاہور ہائی کورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان

لبنان سے معاہدہ ایک بڑی غلطی ہوگی:صیہونی وزیر داخلہ

?️ 26 نومبر 2024سچ خبریں:صیہونی وزیر داخلہ ایتمار بن گویر نے لبنان کے ساتھ کسی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے