?️
سچ خبریں:روسی مورخ اور صحافی آرتم کرپیچنوک نے اپنے تجزیے میں دبئی کے معاشی ماڈل کی نزاکت اور حالیہ علاقائی جنگ کے نتیجے میں اس کی مصنوعی سلامتی کے خاتمے کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
روسی صحافی اور مورخ آرتم کرپیچنوک نے جمہوریہ آذربائیجان کے میڈیا آؤٹ لیٹ کالیبر میں شائع ہونے والے ایک تحلیلی مضمون میں متحدہ عرب امارات کی سلامتی کے دعووں اور دبئی کے معاشی ماڈل کی کمزوریوں کا پردہ چاک کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے دبئی کے ایک محفوظ نخلستان ہونے کے تصور کو پاش پاش کر دیا ہے۔
مصنوعی تصویر اور تلخ حقیقت
کرپیچنوک لکھتے ہیں کہ ایک طویل عرصے تک متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے بھاری سرمایہ کاری کے ذریعے دبئی کی ایک ایسی مصنوعی تصویر کشی کی جیسے یہ شہر مشرقِ وسطیٰ کے پر آشوب حالات سے بالکل الگ تھلگ کوئی محفوظ جگہ ہو۔ جب پڑوس میں حکومتیں گر رہی تھیں اور جنگیں جاری تھیں، تب دبئی کو صحرا میں ایک خوبصورت نخلستان کے طور پر پیش کیا گیا جس نے ٹیکس چھوٹ اور پرتعیش طرزِ زندگی کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کا سنگاپور بننے کی کوشش کی۔
ماہی گیروں کی بستی سے فلک بوس عمارتوں تک
روسی مورخ کے مطابق دبئی کی موجودہ چمک دمک کی بنیاد 1958 میں شیخ راشد بن سعید آل مکتوم نے رکھی تھی، جنہوں نے بھانپ لیا تھا کہ صرف تیل پر انحصار کافی نہیں ہوگا۔ 1960 کی دہائی میں نیویارک کی ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کو دیکھ کر دبئی کے حکمرانوں نے فلک بوس عمارتوں کا خواب دیکھا۔ آج دبئی کی جی ڈی پی میں تیل کا حصہ 1 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے، جبکہ ابوظہبی اب بھی توانائی کی آمدنی پر منحصر ہے۔
خطے کی تباہی پر استوار خوشحالی
مضمون میں ایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ دبئی کی ترقی بڑی حد تک خطے کے دیگر ممالک کی عدم استحکام اور تباہی کی مرہونِ منت ہے۔ 1970 کی دہائی میں بیروت کی خانہ جنگی نے لبنان کا مالیاتی مرکز ہونے کا اعزاز چھین لیا، جس کا فائدہ دبئی نے اٹھایا۔ جنگ زدہ علاقوں جیسے شام، لیبیا اور حال ہی میں روس اور یوکرین سے فرار ہونے والے امیر خاندانوں نے اپنا سرمایہ دبئی منتقل کیا، جس کے نتیجے میں 2024 تک امارات کی آبادی بڑھ کر 11.3 ملین تک پہنچ گئی۔
سلامتی کا وہم اور دبئی نشانے پر
کرپیچنوک کے مطابق، سرمایہ کاری ہمیشہ سلامتی اور پیش گوئی کی محتاج ہوتی ہے۔ تاہم حالیہ جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ خلیجی ممالک میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں ہیں۔ دبئی اچانک ایک پرتعیش نمائش گاہ سے ایک انتہائی حساس ہدف میں تبدیل ہو گیا ہے۔ حیاتیاتی ڈھانچے پر حملوں کے خطرے کے سائے میں ہزاروں سیاحوں کا انخلاء اس شیشے کے شہر کے وقار کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔
مستقبل پر سوالیہ نشان
اگرچہ اعمار جیسی کمپنیوں کے سربراہان اسے ایک عارضی لہر قرار دے رہے ہیں، لیکن روسی صحافی کا نتیجہ یہ ہے کہ اب یہ دعویٰ کرنا کہ دبئی کو کوئی خطرہ نہیں، ایک خام خیالی بن چکا ہے۔ دبئی اب بھی امیر ہے، لیکن اس کا معاشی ماڈل علاقائی طوفانوں کے سامنے اس سے کہیں زیادہ کمزور ثابت ہوا ہے جتنا تصور کیا جاتا تھا۔


مشہور خبریں۔
قسام کے مجاہدین صیہونیوں کے لیے موت کے فرشتے
?️ 5 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونی فوجیوں کے قسام فورسز کے چنگل میں پھسنے اور
نومبر
مصر اور قطر کے وزرائے خارجہ کا لبنان اور غزہ کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال
?️ 12 اکتوبر 2024سچ خبریں: مصر اور قطر کے وزرائے خارجہ نے لبنان اور غزہ
اکتوبر
افغانستان ميں قیام امن کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے: وزیر خارجہ
?️ 21 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے
جون
انسانی دماغ میں پہلی بار کمپیوٹر چپ نصب
?️ 30 جنوری 2024سچ خبریں: (سچ خبریں) ارب پتی بزنس مین ایلون مسک نے اعلان
جنوری
لاہور دھماکے میں اہم حقائق کا انکشاف
?️ 21 جنوری 2022لاہور ( سچ خبریں ) لاہور کے علاقے انارکلی میں ہونے والے
جنوری
اسرائیلی فوج کے مغربی کنارے پر حملے جاری
?️ 6 فروری 2026 سچ خبریں: صہیونی ریاست کے فوجیوں نے آج مغربی کنارے کے
فروری
کیا یہ جمہوریت ہے جو آپ کے ساتھ تو ٹھیک ورنہ غدار۔ بیرسٹر گوہر
?️ 1 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے
دسمبر
تل ابیب کے خلاف ایران کے تباہ کن حملوں کے پانچ مقاصد کیا تھے؟
?️ 3 اکتوبر 2024سچ خبریں: ایک عراقی مصنف اور علاقائی مسائل کے تجزیہ کار احمد عبد
اکتوبر