?️
سچ خبریں:ریپبلکن سینیٹر جان کرٹس نے ایران کے خلاف جاری غیر اعلانیہ جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر 60 دن سے زائد فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کریں گے۔
امریکی ریاست یوٹاہ سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر جان کرٹس نے ایران کے خلاف جاری فوجی جارحیت پر امریکی صدر کے اختیارات کی حد بندیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس غیر اعلانیہ جنگ کے تسلسل کی حمایت نہیں کرتے۔
امریکی ویب سائٹ دی ہل کی رپورٹ کے مطابق، سینیٹر کرٹس نے مقامی اخبار ڈیزرٹ نیو میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں 1973 کے وار پاورز ریزولوشن (جنگی اختیارات کی قرارداد) کا حوالہ دیا، جو کسی بھی فوری خطرے کے خلاف امریکی صدر کے فوجی ردعمل کی مدت کو محدود کرتی ہے۔
کرٹس نے اپنے کالم میں لکھا کہ امریکہ کا آئین صدر کے یکطرفہ اختیارات کو محدود کرتا ہے۔ میں امریکی مفادات اور عوام کے تحفظ کے لیے صدر کے اقدامات کی حمایت کرتا ہوں، لیکن کانگریس کی منظوری کے بغیر 60 دن کی قانونی مدت سے تجاوز کرنے والی کسی بھی فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کروں گا۔
انہوں نے ویتنام جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جنگی اختیارات کی قرارداد ویتنام کے تجربے کے بعد ایک منطقی سمجھوتہ کے طور پر سامنے آئی تھی تاکہ امریکی صدور کو خطرات کا جواب دینے کا موقع ملے لیکن ساتھ ہی ان پر قدغن بھی رہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ویتنام جنگ جیسی المناک قیمت دوبارہ کبھی بھی کانگریس کے باقاعدہ اعلانِ جنگ کے بغیر امریکی قوم کے بہترین خون سے ادا نہ کی جائے۔
سینیٹر کرٹس نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ دفاعی صنعت کو مضبوط بنانے اور چین کے خلاف بازدار صلاحیت کو برقرار رکھنے کی ضرورت کو سمجھتے ہیں، لیکن وہ کانگریس کے جائزے کے بغیر فوجی آپریشنز کے لیے فنڈز کی فراہمی کی حمایت نہیں کر سکتے۔
ایران کے خلاف جنگ کے لیے فوجی بجٹ کی مخالفت
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس ٹیڈ لیو نے بھی سینیٹر کرٹس کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ آئین واضح ہے کہ صرف کانگریس ہی جنگ کا اعلان کر سکتی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایران کے خلاف جنگ واضح طور پر ایک جنگ ہے، میں ایران کے خلاف جنگ کے لیے فوجی بجٹ کے ایک حصے کے حق میں بھی ووٹ دینے کا سوچ نہیں سکتا جب تک کہ کانگریس اس کی منظوری نہ دے دے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ فوجی جارحیت 28 فروری سے جاری ہے، جس کے دوران آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کا واقعہ بھی پیش آیا۔
دریں اثنا، مغربی میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون (امریکی وزارتِ دفاع) کے متعدد اہلکار وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کی کارکردگی اور جنگ کے حوالے سے ان کے رویے پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ اگرچہ صدر ٹرمپ تاحال ہیگستھ کی حمایت کر رہے ہیں، لیکن پینٹاگون کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ دفاع کے سخت اور جذباتی بیانات نے اطمینان کے بجائے خدشات کو جنم دیا ہے اور وہ اس جنگ کو ضرورت سے زیادہ ہلکا اور جذباتی انداز میں پیش کر رہے ہیں۔


مشہور خبریں۔
بی جے پی حکومت نے کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کررکھے ہیں:حریت کانفرنس
?️ 22 دسمبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل
دسمبر
سیاسی تعطل ختم کرنے کیلئے پلڈاٹ کا فریقین سے مذاکرات کا سلسلہ بحال کرنے کا مطالبہ
?️ 18 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ)
مئی
بلاول بھٹو کا دورہ تہران
?️ 14 جون 2022تہران (سچ خبریں)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول
جون
فن لینڈ میں موسم خزاں کے آغاز کا انوکھا انداز
?️ 3 اکتوبر 2023سچ خبریں:فن لینڈ کے دائیں بازو کے وزیر اعظم پیٹری آرپو کی
اکتوبر
پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل صبح 10 بجے طلب، گورنر نے سمری پر دستخط کردیے
?️ 22 فروری 2024لاہور: (سچ خبریں) گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس
فروری
صیہونی ریاست کا طرزِ عمل انسانی اور بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک واضح خطرہ ہے:برطانیہ
?️ 21 مارچ 2025 سچ خبریں:برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لَمی نے اسرائیل کے غزا
مارچ
یمن پر امریکی اور برطانوی حملوں کے پیچھے کیا مقاصد ہیں؟
?️ 23 جنوری 2024سچ خبریں: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انصاراللہ کے ٹھکانوں پر
جنوری
غزہ کی حمایت ایک مذہبی فریضہ
?️ 9 جون 2024سچ خبریں: حالیہ مہینوں میں غزہ پر صیہونی حکومت کے حملوں اور فلسطین
جون