افغان امن عمل میں پاکستان کا اہم کردار اور امریکہ کی مسلسل وعدے خلافیاں

افغان امن عمل میں پاکستان کا اہم کردار اور امریکہ کی مسلسل وعدے خلافیاں

?️

(سچ خبریں) افغانستان میں امن کے قیام کے لیئے پاکستان نے ہمیشہ سے سے کوششیں کی ہیں اور اب بھی مسلسل یہی کوشش کی جارہی ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن قائم ہو اور کوئی بھی غیرملکی، افغناستان کے مسائل میں مداخلت نہ کرے۔

اگرچہ امریکہ یہ دعوے کرتا ہے کہ وہ افغانستان میں امن چاہتا ہے لیکن امریکہ نے قیام امن کے لیئے کیئے گئے وعدوں پر عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے ابھی تک یہ کوششیں کسی نتیجے تک نہیں پہونچی ہیں، جبکہ پاکستان مسلسل یہ کوشش کررہا ہے کہ اپنے پڑوسی ملک میں ایک پائیدار امن قائم کراسکے جس کا فائیدہ دونوں ممالک کو ہو۔

اسی سلسلے میں آرمی چیف اور امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان مفاہمت زلمے خلیل زاد کے مابین اہم ملاقات ہوئی، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان مفاہمت زلمے خلیل زاد اور جنرل آسٹن اسکاٹ ملر کی ملاقات میں باہمی دلچسپی، علاقائی سیکورٹی اور جاری افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا، مہمانوں نے امن عمل میں پاکستان کے کردار کی تعریف بھی کی جب کہ افغانستان میں منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کے عمل میں تیزی لانے کی ضرورت پر زور دیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق، ملاقات جی ایچ کیو میں ہوئی، امریکی نمائندے نے کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں، اور خطے کے ممالک سے اس حوالے سے قریبی مشاورت جاری رکھے گا کہ کیسے ہم مشترکہ طور پر امن عمل کی حمایت کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بین الافغان امن عمل کا آغاز گزشتہ برس ستمبر میں ہوا تھا لیکن امریکا میں جو بائیڈن کے صدر منتخب ہونے کے بعد معاملات کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے اس عمل کو روک دیا گیا تھا۔

امریکی سیکرٹری اسٹیٹ بلنکن نے افغان صدر اشرف غنی کو ایک خط میں لکھا تھا کہ امریکہ یکم مئی تک مکمل فوجی انخلا پر غور کر رہا ہے، یہ حقیقت ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کے پر امن انخلا کا دارومدار بین الافغان مذاکرات کی کامیابی پر ہے، پاکستان کا یہ موقف سب کے سامنے ہے، جس کا اعادہ وہ ایک عرصے سے کرتا چلا آرہا ہےکہ افغانستان کے مسئلے کا حل صرف اور صرف پرامن مذاکرات ہیں۔

صد شکر کہ افغان مسئلے کے فریقین کو پاکستان کے موقف کی سمجھ آگئی اور جنگ وجدل کے بجائے بات چیت کا آغاز ہوا، اب افغانوں کو مذاکرات کے دوران یہ امر پیش نظر رکھنا ہوگا کہ آخر ان کی سرزمین کب تک دوسری قوتوں کی پنجہ آزمائی کیلئے اکھاڑابنی رہےگی۔

یہ قضیہ پرامن طریقے سے حل کرنے کا اہم ترین موقع ہے کہ دنیا جنگ سے معیشت کی طرف رواں دواں ہے، افغان قوم دہائیوں سے چلنے والی اس جنگ کو ختم کرکے اپنی آئندہ نسلوں کو ایک پر امن اور مستحکم ملک دینے کی سعی کرے۔

مشہور خبریں۔

انقرہ-ابوظہبی تعلقات میں وسعت؛ یمن جنگ میں ترک ہتھیاروں کا استعمال

?️ 20 فروری 2022سچ خبریں:متحدہ عرب امارات ترکی سے ہتھیار خریدنے اور انہیں یمن کے

ڈیجیٹل دہشت گردی کیا ہے؟ فوج اس لفظ کو کیوں استعمال کرتی ہے؟

?️ 23 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے سوموار

پنجاب حکومت سیلاب زدگان کی مدد کرنے میں ناکام ہوچکی۔ وقار مہدی

?️ 7 اکتوبر 2025کراچی (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر وقار مہدی کا کہنا

امریکی دارالحکومت میں جرائم کولمبیا اور میکسیکو سے زیادہ ہیں: ٹرمپ

?️ 12 اگست 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اعلان کیا

ہروشیما کے خوف سے جوہری طاقت کی ضرورت تک، جاپان ایک نازک موڑ پر

?️ 21 جون 2026سچ خبریں:جاپان میں بدلتی دفاعی پالیسی، امریکہ کی کمزور ہوتی حمایت اور

وال اسٹریٹ جرنل کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات میں ایک اور چیلنج

?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مرکزی بینک کے چیئرمین کی

الضبه بندرگاہ پر ڈرون حملہ محض ایک سادہ وارننگ تھی:یمن

?️ 22 اکتوبر 2022سچ خبریں:یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ یمن

ٹی20 ورلڈکپ میں عاطف اسلم کے ترانہ گانے کی خبریں

?️ 13 اکتوبر 2021کراچی (سچ خبریں) 17 اکتوبر سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا آغاز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے