جارجیا، ایران اور یوریشیا؛ تہران کے لیے علاقائی تعاون اور ٹرانزٹ نیٹ ورک کی نئی راہیں

جارجیا نے ایران

?️

سچ خبریں:جارجیا نے ایران کے خلاف یورپی یونین کی بیشتر پابندیوں میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے، جس سے ایران کو روس، وسطی ایشیا اور بحیرہ اسود کے ذریعے یوریشیائی تجارتی و ٹرانزٹ نیٹ ورک سے جڑنے کا موقع مل سکتا ہے۔

جارجیا نے مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ایران کے خلاف یورپی یونین کی بیشتر پابندیوں میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔ یہ پالیسی تہران کے لیے یوریشیا کے وسیع تر ٹرانزٹ اور اقتصادی نیٹ ورک سے جڑنے کا ایک اہم موقع فراہم کرسکتی ہے۔

جارجیا گزشتہ برسوں کے دوران یوریشیا کے جغرافیائی سیاسی ماحول میں کثیرالجہتی خارجہ پالیسی کی ایک اہم مثال بن کر ابھرا ہے۔ تبلیسی ایک جانب امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھنے اور مغرب سے وابستہ اقتصادی و سیاسی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب بالخصوص یوکرین جنگ کے بعد روس، ایران اور اپنے دیگر علاقائی ہمسایوں کے ساتھ براہ راست اقتصادی محاذ آرائی میں شامل ہونے سے گریز کرتا رہا ہے۔ ایران کے حوالے سے بھی جارجیا نے یہی پالیسی اختیار کی ہے۔

یورپی یونین نے جارجیا سے متعلق اپنی 2025 کی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ یورپی یونین کے مؤقف اور پابندیوں کے نظام کے ساتھ جارجیا کی ہم آہنگی میں کمی آئی ہے اور اکتوبر 2025 تک یہ شرح تقریباً 40 فیصد رہ گئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جارجیا نے روس، بیلاروس اور ایران کے خلاف یورپی یونین کی بیشتر پابندیوں میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ 2024 کی رپورٹ میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا تھا اور یورپی یونین کی مشترکہ خارجہ و سکیورٹی پالیسی کے ساتھ جارجیا کی ہم آہنگی کی شرح 49 فیصد بتائی گئی تھی۔

تاہم اس صورتحال کا مطلب یہ نہیں کہ جارجیا امریکہ کی پابندیوں کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے کا مرکز بن گیا ہے۔ اپریل 2024 میں جارجیا کے نیشنل بینک نے ایران کے امور میں امریکہ کے خصوصی نمائندے سے ایران سے متعلق پابندیوں کے نفاذ کے بارے میں بات چیت کی اور اس سلسلے میں اپنے اقدامات پر زور دیا۔ اس لیے جارجیا کی جانب سے پابندیوں کے نظام میں باضابطہ طور پر شامل نہ ہونے اور جارجیا کے بینکوں و کمپنیوں پر عائد لازمی پابندیوں کی تعمیل میں فرق کرنا ضروری ہے۔

ان پابندیوں کے باوجود ایران اور جارجیا کے تعلقات میں موجود امکانات موجودہ دوطرفہ تجارت سے کہیں زیادہ ہیں۔ بحیرہ اسود کے مشرقی ساحل پر جارجیا اور خلیج فارس و بحیرہ عمان میں ایران کا محل وقوع، اگر روس اور وسطی ایشیا کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سے منسلک ہوجائے، تو ایران کے لیے ایک اہم جغرافیائی اقتصادی خطہ تشکیل دے سکتا ہے۔

ایسا نیٹ ورک تجارتی راستوں میں تنوع پیدا کرکے، مغربی کنٹرول والے راستوں پر انحصار کم کرکے اور ایران کی سودے بازی کی طاقت بڑھا کر بیرونی دباؤ کے مقابلے میں اس کی اقتصادی اور اسٹریٹجک لچک میں اضافہ کرسکتا ہے۔

جارجیا ایران کے خلاف پابندیوں میں کیوں شامل نہیں ہوا؟

جارجیا کی کثیرالجہتی خارجہ پالیسی اس کی سب سے اہم وجوہات میں شامل ہے۔ 2008 میں روس کے ساتھ جنگ کے بعد تبلیسی نے امریکہ اور یورپ کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کیے، لیکن ان تعلقات کا مطلب مغرب کی تمام پابندیوں کی مکمل حمایت نہیں ہے۔

روس سے جغرافیائی قربت اور تجارت، سیاحت، ٹرانسپورٹ اور علاقائی سرمایہ کاری پر اپنی معیشت کے نمایاں انحصار کے باعث جارجیا مغرب اور ماسکو کے درمیان تمام اقتصادی و سیاسی تنازعات میں آسانی سے شامل نہیں ہوسکتا۔

اس کے علاوہ روس کے ساتھ فوجی تنازع اور اس کے سنگین نتائج کی تلخ یاد بھی جارجیا کے پیش نظر ہے۔

ایران کے بارے میں بھی کسی حد تک یہی منطق کارفرما ہے۔ جارجیا کے لیے ایران کوئی فوجی خطرہ نہیں بلکہ ایک ہمسایہ ملک، ممکنہ بڑی منڈی، توانائی کی قابل اعتماد فراہمی کا ذریعہ اور قفقاز و مغربی ایشیا کے مواصلاتی نیٹ ورک کا حصہ ہے۔

چنانچہ تبلیسی نے 2 مقاصد کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے: ایک طرف مغربی اقتصادی نظام تک رسائی برقرار رکھنا اور دوسری طرف امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست محاذ آرائی کا فریق بننے سے گریز کرنا۔

یورپی یونین کی رپورٹس میں بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے۔ یورپی یونین نے جارجیا کی مشترکہ یورپی خارجہ پالیسی کے ساتھ کم سطح کی ہم آہنگی پر تنقید کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ جارجیا ایران سے متعلق بیشتر پابندیوں میں شامل نہیں ہوا۔

جارجیا کے اقتصادی مفادات بھی اس پالیسی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایران اور جارجیا کے درمیان تجارت کا حجم اب بھی نسبتاً محدود ہے، تاہم اس میں اضافہ ہوا ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت تقریباً 322 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جو اس وقت تک کی بلند ترین سطح تھی۔

اس رقم کی اہمیت صرف اس کے حجم میں نہیں بلکہ اس میں موجود توسیع کے امکانات میں ہے۔ ایران جارجیا کے لیے جنوبی اور مشرقی ایشیا میں ایک بڑی منڈی فراہم کرسکتا ہے، جبکہ جارجیا بحیرہ اسود، مشرقی یورپ اور یورپی ٹرانسپورٹ نیٹ ورک تک رسائی کا دروازہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے تبلیسی کے نقطہ نظر سے تہران کے ساتھ اقتصادی تعلقات مکمل طور پر ختم کرنا منطقی نہیں۔

امریکہ اور جارجیا کے تعلقات میں آنے والی شدید خرابی کو بھی اس پالیسی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ 30 نومبر 2024 کو امریکہ نے جارجیا کی حکومت کی جانب سے یورپی یونین کی رکنیت کے مذاکرات معطل کرنے کے فیصلے اور واشنگٹن کے بقول جمہوریت مخالف اقدامات کے ردعمل میں امریکہ اور جارجیا کی اسٹریٹجک شراکت داری معطل کردی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ جارجیا کی جارجین ڈریم پارٹی کی قیادت میں حکومت کی جانب سے یورپی یونین میں شمولیت کے عمل کو روکنے کا فیصلہ دونوں ممالک کے اسٹریٹجک شراکت داری کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔

اس کے بعد 27 دسمبر 2024 کو امریکی محکمہ خزانہ نے جارجین ڈریم پارٹی کے بانی اور اعزازی سربراہ بیدزینا ایوانیشویلی کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا۔

واشنگٹن نے ان پر جارجیا کے جمہوری اور یورو اٹلانٹک مستقبل کو روس کے مفاد میں کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔ یہ صورتحال تبلیسی میں بڑھتی ہوئی سیاسی سخت گیری اور امریکہ کے مخالف سمجھے جانے والے ممالک، خصوصاً روس اور ایران، کے ساتھ بڑھتے روابط کے بعد سامنے آئی۔

جارجیا کی توانائی سلامتی میں ایران کا کردار بھی دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک اہم شعبہ ہے۔ جارجیا اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بیرونی ذرائع پر انحصار کرتا ہے اور گزشتہ برسوں میں اس نے ایک یا چند محدود سپلائرز پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

اگر قانونی، مالی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مناسب انتظامات کیے جائیں تو ایران جارجیا کے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے، بالخصوص گیس کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

2006 میں ایران کی جانب سے جارجیا کو گیس کی فراہمی کا تجربہ اور سوآپ کے امکانات بھی اس سلسلے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔ اس اعتبار سے ایران جارجیا کے لیے صرف ایک منڈی نہیں بلکہ توانائی کے تحفظ کی حکمت عملی کا بھی حصہ بن سکتا ہے۔

ٹرانزٹ کے اعتبار سے بھی جارجیا خود کو خطے میں توانائی اور ٹرانزٹ کا مرکز قرار دیتا ہے۔ جارجیا کی وزارت اقتصادیات نے 2025 میں اعلان کیا تھا کہ تبلیسی ٹرانزٹ کی صلاحیت اور علاقائی توانائی مرکز کے طور پر اپنا کردار بڑھانا چاہتا ہے۔

اس لیے جارجیا فطری طور پر ایسے ملک میں دلچسپی رکھتا ہے جو جنوب سے زیادہ مقدار میں سامان اس کے بندرگاہی اور ریلوے نیٹ ورک تک پہنچا سکے، اور ایران اس حوالے سے اہم صلاحیت رکھتا ہے۔

ایران اور جارجیا کے درمیان عملی تعاون کے اہم امکانات میں خلیج فارس سے بحیرہ اسود تک ٹرانسپورٹ کوریڈور کا قیام اور اسے مضبوط بنانا شامل ہے۔

ایران، آرمینیا اور جارجیا نے آذربائیجان کے ساتھ مل کر حالیہ برسوں میں خلیج فارس اور بحیرہ اسود کے درمیان نئے ٹرانزٹ راستے قائم کرنے پر بات چیت کی ہے۔

ایران، آرمینیا اور جارجیا کا راستہ جغرافیائی سیاسی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ایران کو ترکی کی سرزمین سے گزرے بغیر بحیرہ اسود کے نیٹ ورک سے جوڑ سکتا ہے اور اس حریف ملک کی اجارہ داری کو محدود کرسکتا ہے۔ یہ راستہ جارجیا، بلغاریہ، رومانیہ اور مشرقی یورپ کی منڈیوں میں ایرانی برآمدات کے لیے اہم ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب ایران جارجیا کے لیے خلیج فارس، بھارت اور جنوبی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی کا راستہ بن سکتا ہے۔ اس لیے ایران اور جارجیا کے تعلقات کو محض دوطرفہ تجارت کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اسے شمال، جنوب ٹرانزٹ نیٹ ورک کے وسیع تر ڈھانچے کا حصہ سمجھنا چاہیے۔

بین الاقوامی شمال، جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور ایران کو بحیرہ کاسپین اور روس کے ذریعے شمالی یوریشیا سے جوڑتا ہے۔ یہ تقریباً 7,200 کلومیٹر طویل نیٹ ورک ہے جو روس، ایران، قفقاز، بحیرہ کاسپین، خلیج فارس اور بھارت کو آپس میں ملاتا ہے۔

اگر اس نیٹ ورک کو جارجیا اور بحیرہ اسود کے راستوں سے جوڑ دیا جائے تو ایران ایک یا 2 محدود راستوں پر انحصار کرنے کے بجائے متعدد متبادل تجارتی راستے حاصل کرسکتا ہے، جن میں روس، بحیرہ کاسپین، ایران اور خلیج فارس کا راستہ؛ وسطی ایشیا، بحیرہ کاسپین، قفقاز، جارجیا اور بحیرہ اسود کا راستہ؛ اور ایران، آرمینیا، جارجیا اور بحیرہ اسود کا راستہ شامل ہیں۔ اس راستوں کے تنوع میں خود ایک اہم جغرافیائی سیاسی فائدہ پوشیدہ ہے۔

ریلوے کے شعبے میں رشت، آستارا ریلوے لائن کی تکمیل، شمالی ایران کی بندرگاہوں کی ترقی اور روس کے ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ روابط میں بہتری بتدریج ایران کی یوریشیائی تجارت میں اہمیت بڑھا سکتی ہے۔

دوسری جانب جارجیا بھی مشرق، مغرب کوریڈورز میں اپنی پوزیشن مضبوط کررہا ہے۔ یہ ملک یوریشیا کے مختلف کوریڈورز، جن میں مڈل کوریڈور اور شمال، جنوب راستہ شامل ہیں، کے درمیان مسابقت میں بتدریج اہم مقام حاصل کررہا ہے۔ ایران اور جارجیا کے درمیان تعاون ان دونوں نیٹ ورکس کو ایک دوسرے سے جوڑ سکتا ہے۔

دونوں ممالک دوطرفہ تجارت میں اضافے کے لیے 5 سالہ منصوبہ بھی تشکیل دے سکتے ہیں۔ ایران کو خوراک و زراعت، تعمیراتی سامان، پیٹروکیمیکل مصنوعات، ادویات و طبی آلات، صنعتی مصنوعات، مشینری، علم پر مبنی مصنوعات، قالین و دستکاری اور فنی و انجینئرنگ خدمات کے شعبوں میں برتری حاصل ہے۔

اس کے مقابلے میں جارجیا ایران کے لیے لاجسٹکس، بحیرہ اسود کی بندرگاہوں کے استعمال، سیاحت، قانونی مالی و تجارتی خدمات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، غذائی صنعت اور ٹرانزٹ خدمات کے شعبوں میں مواقع پیدا کرسکتا ہے۔

موجودہ تجارت میں تجارتی توازن ایران کے حق میں ہے، اس لیے ایرانی برآمدات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایران میں جارجیائی اشیا اور خدمات کی درآمد بڑھانے کے لیے بھی طریقہ کار وضع کرنا ضروری ہے۔

2024 کے 322 ملین ڈالر کے تجارتی حجم سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں معیشتوں کے درمیان موجود حقیقی صلاحیت ابھی پوری طرح استعمال نہیں ہوئی۔

سیاحت دونوں ممالک کے تعلقات کو کم لاگت میں فروغ دینے کا ایک اہم شعبہ ہے۔ 2024 میں تقریباً 146,000 ایرانی سیاح جارجیا گئے۔ دوسری جانب ایران بھی جارجیائی سیاحوں کے لیے تاریخی، ثقافتی، طبی، قدرتی اور زیارتی مقامات کے حوالے سے پرکشش ثابت ہوسکتا ہے۔

براہ راست پروازوں میں اضافہ، مشترکہ ٹورز اور سیاحتی ادائیگیوں میں آسانی پیدا کرکے بھاری سرمایہ کاری کے بغیر دونوں ممالک کے اقتصادی روابط مضبوط کیے جاسکتے ہیں۔

اگر ایران اور جارجیا اپنے تعلقات کو اقتصادی ہمسائیگی سے اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کی سطح تک لے جانا چاہتے ہیں تو توانائی اس شراکت داری کا ایک بنیادی ستون ہونی چاہیے۔

ایران کے پاس گیس اور تیل کے بڑے ذخائر ہیں، جبکہ جارجیا اپنے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ جارجیا کو ایرانی گیس کی برآمدات بحال کرنا اس شعبے میں تعاون کی ایک اہم کڑی ثابت ہوسکتا ہے۔

تاہم پابندیوں کے موجودہ ماحول میں توانائی کے شعبے میں تعاون کے لیے قانونی امور کا باریک بینی سے جائزہ اور موجودہ رکاوٹوں کا حل ضروری ہے۔ اس لیے بجلی، قابل تجدید توانائی، سوآپ اور تکنیکی تعاون کے نسبتاً چھوٹے اور شفاف منصوبے بھی عملی راستہ فراہم کرسکتے ہیں۔

ایران اور جارجیا کے باہمی تعاون کی اہمیت اس وقت کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہے جب اسے روس، قازقستان، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان اور کرغیزستان پر مشتمل وسیع تر نیٹ ورک کا حصہ بنایا جائے۔

ایسا نیٹ ورک سیاسی اتحاد کی سمت پیش رفت کے ساتھ ساتھ یوریشیا میں اقتصادی رابطوں کا ایک وسیع ڈھانچہ بھی تشکیل دے سکتا ہے۔ اس کے ذریعے ایران کے لیے تجارت کے متعدد آزاد راستے پیدا ہوں گے۔

امریکی دباؤ کے ماحول میں ایران کی ایک بڑی کمزوری محدود مالی، بحری اور تجارتی راستوں پر انحصار ہے۔ ایران، بحیرہ کاسپین، روس، وسطی ایشیا اور جارجیا کا نیٹ ورک دستیاب راستوں کی تعداد بڑھا سکتا ہے اور بھارت سمیت خلیج فارس کے جنوبی ساحل کے بعض ممالک کو بھی اس سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ایسی صورتحال میں امریکہ کی جانب سے کسی ایک راستے پر دباؤ، پابندیوں یا فوجی کشیدگی کے باعث پورے خطے کی تجارت لازماً معطل نہیں ہوگی۔

ایران وسطی ایشیا اور کھلے سمندری راستوں کے درمیان پل کا کردار بھی ادا کرسکتا ہے۔ وسطی ایشیا کے ممالک خشکی میں گھرے ہوئے ہیں اور انہیں کھلے سمندری راستوں تک رسائی کے لیے دوسرے ممالک کے راستوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

ایران کو خلیج فارس، بحیرہ عمان، بحیرہ کاسپین اور شمال و جنوب کے ریلوے نیٹ ورک تک بیک وقت رسائی حاصل ہے۔

اس لیے ایران قازقستان، ترکمانستان، تاجکستان، کرغیزستان اور ازبکستان کے لیے جنوبی منڈیوں تک رسائی کے اہم راستوں میں سے ایک بن سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں یہ ممالک ایران کی ضروریات کے لیے وسائل، مصنوعات اور منڈیاں فراہم کرسکتے ہیں۔

اس طرح باہمی انحصار کا ایسا مثبت نظام تشکیل پاسکتا ہے جو محض دوطرفہ تجارت بڑھانے سے کہیں زیادہ اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔

اس نیٹ ورک میں روس کا کردار بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں کا سامنا کرنے والا روس بھی متبادل تجارتی راستوں کی تلاش میں ہے۔

اسی وجہ سے شمال، جنوب کوریڈور کی ترقی میں روس اور ایران کے مفادات بڑی حد تک ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوگئے ہیں۔ روس کی جانب سے اس کوریڈور پر بڑھتی توجہ کو مغربی کنٹرول سے باہر سپلائی چینز کی ازسرنو تشکیل کی کوشش کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔

اگر روس، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک ریلوے، بندرگاہوں اور کسٹمز کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں تعاون کریں اور جارجیا بھی بحیرہ اسود کے ذریعے اس نیٹ ورک سے منسلک ہوجائے تو ایک کثیرالجہتی تجارتی نیٹ ورک تشکیل پاسکتا ہے۔

یہ نیٹ ورک ایران کو امریکہ کے دباؤ کا مقابلہ کرنے میں کئی طریقوں سے مدد دے سکتا ہے۔ سب سے پہلے ٹرانزٹ کے شعبے میں کمزوری کم ہوگی۔ پابندیوں کا اثر اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب وہ کسی ملک کے تجارتی راستوں کو محدود کردیں۔

اگر ایران کے پاس متعدد متبادل راستے ہوں تو کسی ایک راستے پر دباؤ کے اثرات محدود رہیں گے۔ اس لیے ایران کی حکمت عملی صرف پابندیوں کو نظرانداز کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ تجارتی راستوں کے اختیارات میں اضافہ بھی بنیادی ترجیح ہونا چاہیے۔

دوسرا فائدہ سودے بازی کی طاقت میں اضافہ ہے۔ جتنے زیادہ ممالک ایران کے ساتھ تجارت میں اقتصادی مفاد دیکھیں گے، ان پر امریکی ثانوی پابندیوں کا دباؤ ڈالنے کی لاگت بھی اتنی ہی بڑھے گی۔

اگر ایران صرف چند ممالک کے ساتھ تجارت کرے تو اس کی سودے بازی کی طاقت محدود رہے گی، لیکن روس، وسطی ایشیا، قفقاز اور بحیرہ اسود کی بندرگاہوں پر مشتمل نیٹ ورک قائم ہونے کی صورت میں معاملہ دوطرفہ تعلقات سے آگے بڑھ کر کئی ممالک کے مشترکہ مفادات کا مسئلہ بن جائے گا۔

تیسرا فائدہ مغرب کے زیر اثر بحری راستوں پر انحصار میں کمی ہے۔ ایران کو جنوب میں کھلے سمندری راستوں تک رسائی حاصل ہے، لیکن عالمی بحری تجارت کا ایک بڑا حصہ مغربی بحری طاقتوں کے اثر و رسوخ کی زد میں ہے اور امریکہ نے آبنائے ہرمز میں بھی ایران کے لیے چیلنج پیدا کیا ہے۔ شمالی زمینی اور ریلوے راستوں کی بیک وقت ترقی سے کسی ایک بحری راستے پر انحصار کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

چوتھا فائدہ ٹرانزٹ آمدنی میں اضافہ ہے۔ ایران کو صرف اشیا کی برآمد پر توجہ نہیں دینی چاہیے بلکہ خود کو یوریشیا کے لیے ایک ٹرانزٹ ملک اور کوریڈور کا مرکز بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

وسطی ایشیا سے ایران کے راستے خلیج فارس جانے والی ہر ٹرین یا ٹرک ایران کے لیے آمدنی پیدا کرسکتا ہے، خواہ اس میں موجود سامان ایرانی ملکیت نہ بھی ہو۔ یہ ماڈل ایران کے لیے نسبتاً مستحکم اور طویل مدتی زرمبادلہ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

تاہم ایران اور جارجیا کے تعاون کے امکانات کا تجزیہ کرتے ہوئے ضرورت سے زیادہ خوش فہمی سے بھی گریز کرنا چاہیے۔

اول، جارجیا کے امریکہ اور یورپ کے ساتھ اب بھی قریبی تعلقات ہیں۔

دوم، جارجیائی بینک اور کمپنیاں امریکی ثانوی پابندیوں کے خطرے سے دوچار ہیں اور یہی خطرہ ایران اور جارجیا کے درمیان مالی تعلقات کی توسیع میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

سوم، تبلیسی اپنی سرزمین کو ایسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کے معاملے میں حساس ہے جو مغربی پابندیوں یا دباؤ کا باعث بن سکتی ہیں۔

چہارم، جارجیا کی ایران کے ساتھ براہ راست زمینی سرحد نہیں ہے۔ لہٰذا ایران اور جارجیا کے درمیان زمینی رابطے کے لیے آرمینیا یا آذربائیجان سے گزرنا ضروری ہے۔

پنجم، جارجیا خود علاقائی کوریڈورز کے درمیان مسابقت کا حصہ ہے اور ممکن ہے کہ وہ مڈل کوریڈور، ترکی، روس اور ایران کے راستوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرے۔

اس لیے ایران کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ جارجیا تیزی سے ایک جغرافیائی سیاسی اتحادی میں تبدیل ہوجائے گا۔ پہلے مرحلے میں زیادہ حقیقت پسندانہ ہدف جارجیا کو ایک ٹرانزٹ، تجارتی اور اقتصادی شراکت دار بنانا ہے۔

ایران کو کوریڈورز کی ترقی کے لیے ایران، جارجیا اسٹریٹجک کونسل قائم کرنی چاہیے، جس میں وزارت ٹرانسپورٹ، وزارت اقتصادی امور، وزارت تیل، وزارت خارجہ اور نجی شعبے کے نمائندے شامل ہوں تاکہ مشترکہ منصوبوں کا جائزہ لیا جاسکے۔

ایران کی بنیادی حکمت عملی شمال، جنوب کوریڈور کو خلیج فارس، بحیرہ اسود کے راستے اور اس کے بعد وسطی ایشیا کے نیٹ ورک سے جوڑنا ہونی چاہیے۔ اگر یہ 3 راستے آپس میں منسلک ہوجائیں تو ایران یوریشیا کے اہم ترین ٹرانزٹ مراکز میں شامل ہوسکتا ہے۔

اس کے ساتھ ایران کے اندر بنیادی ڈھانچے کی تکمیل بھی ضروری ہے۔ رشت، آستارا ریلوے لائن کی تکمیل اور شمالی بندرگاہوں کی ترقی کے بغیر یوریشیائی کوریڈورز میں ایران کے بڑے کردار کی بات عملی شکل اختیار نہیں کرسکتی۔

ایران اور جارجیا داخلی قوانین اور قابل اطلاق بین الاقوامی ضوابط کے دائرے میں قانونی بارٹر تجارت اور ادائیگی کے ایسے طریقہ کار بھی تیار کرسکتے ہیں جو دوطرفہ تجارت کے ایک ہی مالی چینل پر انحصار کو کم کریں۔

اس سے تجارتی تنوع اور مالی شفافیت میں اضافہ ہوسکتا ہے اور بیرونی دباؤ کے باعث تعاون میں رکاوٹ کے امکانات کم کیے جاسکتے ہیں۔

مشترکہ لاجسٹک مراکز کا قیام بھی اہم ہے۔ ایران شمالی بندرگاہوں اور سرحدی علاقوں میں جارجیا اور وسطی ایشیا کی اشیا کے لیے خصوصی لاجسٹک مراکز قائم کرسکتا ہے، جبکہ ایرانی کمپنیاں بحیرہ اسود میں جارجیائی بندرگاہوں کی صلاحیت سے اپنی برآمدات کے لیے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

توانائی کے شعبے میں گیس سوآپ، بجلی، قابل تجدید توانائی اور تکنیکی تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ ایرانی گیس جارجیا کے لیے توانائی کی درآمدات کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کے حوالے سے خاصی اہم ہوسکتی ہے۔

اس کے علاوہ ایران، روس، وسطی ایشیا اور جارجیا کی شرکت سے ریلوے، بندرگاہوں، گوداموں، مشترکہ نقل و حمل، توانائی، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت اور غذائی صنعت جیسے شعبوں میں کثیرملکی کنسورشیم قائم کیے جاسکتے ہیں۔ دوطرفہ تعلقات پر مکمل انحصار کے بجائے کثیرملکی اقتصادی منصوبوں پر توجہ زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

آخرکار جارجیا کا ایران کے خلاف یورپی یونین کی بیشتر پابندیوں میں شامل نہ ہونا محض تبلیسی کی تہران سے سیاسی قربت کا نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ جارجیا دراصل توازن پر مبنی ایسی خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے جس میں وہ امریکہ اور یورپ کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے روس، ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی و جغرافیائی سیاسی مفادات بھی محفوظ رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔ 2024 اور 2025 کی یورپی یونین کی سرکاری رپورٹس بھی جارجیا کی کم سطح کی ہم آہنگی کی تصدیق کرتی ہیں۔

اسی کے ساتھ جارجیا نے ایران سے متعلق تمام پابندیوں کو نظرانداز نہیں کیا۔ 2024 میں جارجیائی بینکنگ حکام اور ایران کے امور میں امریکی خصوصی نمائندے کے درمیان ملاقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تبلیسی ایک طرف تہران کے ساتھ اقتصادی تعاون برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف اپنے بینکوں و کمپنیوں کو امریکی ثانوی پابندیوں کی زد میں آنے سے بچانا چاہتا ہے۔

اس لیے ایران کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہوگی کہ جارجیا کو یوریشیا کے ٹرانزٹ اور اقتصادی نیٹ ورک کے ایک اہم مرکز میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔

اس حکمت عملی میں تعاون کی 3 سطحیں اہم ہیں۔

پہلی سطح دوطرفہ ہے، جس میں تجارت، سیاحت، توانائی، فنی خدمات اور سرمایہ کاری میں اضافہ شامل ہے۔

دوسری سطح علاقائی ہے، جس میں آرمینیا کے ذریعے ایران کو جارجیا سے جوڑنا اور خلیج فارس، بحیرہ اسود کوریڈور کو ترقی دینا شامل ہے۔ تیسری سطح یوریشیائی ہے، جس میں اس راستے کو روس، قازقستان، ترکمانستان، ازبکستان اور وسطی ایشیا کے دیگر ممالک سے شمال، جنوب نیٹ ورک اور بحیرہ کاسپین کے مواصلاتی نظام کے ذریعے جوڑنا شامل ہے۔

اگر ایسا نیٹ ورک قائم ہوجاتا ہے تو اس کے اثرات جارجیا کے ساتھ چند سو ملین ڈالر کی تجارت بڑھانے سے کہیں زیادہ ہوں گے۔ ایران ایک ایسے ملک سے، جو پابندیوں کے دباؤ میں ہے، یوریشیائی تجارت کے ایک ضروری مرکز میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں امریکی پابندیاں ایران کے لیے لاگت ضرور پیدا کرتی رہیں گی، لیکن واشنگٹن کی ایران کو علاقائی معیشت سے مکمل طور پر منقطع کرنے کی صلاحیت نمایاں طور پر کم ہوسکتی ہے۔

جب یوریشیائی تجارتی نیٹ ورک سے ایران کو خارج کرنا متعدد ممالک کے لیے بھی اقتصادی نقصان کا باعث بننے لگے گا تو یہ امریکی توسیع پسندانہ پالیسی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

جارجیا اپنی بحیرہ اسود تک رسائی، ٹرانزٹ محل وقوع، یورپ اور وسطی ایشیا کے ساتھ روابط اور روس و قفقاز سے جغرافیائی قربت کے باعث اس نیٹ ورک کی ایک اہم کڑی بن سکتا ہے۔

تاہم اس صلاحیت کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ایران کو جارجیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو محدود سیاسی روابط اور دوطرفہ تجارت سے آگے بڑھا کر کثیرالجہتی ٹرانزٹ اور اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنا ہوگا۔

بالآخر ایران، روس، وسطی ایشیا، قفقاز اور بحیرہ اسود کا امتزاج بیرونی دباؤ کے مقابلے میں ایران کی اقتصادی لچک بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ یہ پابندیوں کا خاتمہ کردے گا، بلکہ اس لیے کہ اس سے پابندیاں عائد کرنے کی لاگت بڑھے گی اور ایران کے اقتصادی و جغرافیائی سیاسی اختیارات میں تنوع پیدا ہوگا۔

شمال، جنوب کوریڈور کی ترقی اور یوریشیا کے مختلف ٹرانزٹ راستوں کے درمیان بڑھتی مسابقت ظاہر کرتی ہے کہ یہ محض ایک نظری امکان نہیں بلکہ تجارت اور ٹرانسپورٹ کے یوریشیائی نیٹ ورک کی حقیقی ازسرنو تشکیل کا حصہ بنتا جارہا ہے۔

ایران کے لیے جارجیا محض ایک تجارتی شراکت دار سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ یہ یورپ تک رسائی کا ایک اسٹریٹجک پل، وسطی ایشیا کی جانب ایک ٹرانزٹ کوریڈور اور آزاد خارجہ پالیسی کے ذریعے امریکی پابندیوں کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کی ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔

 

 

مشہور خبریں۔

سعودی اتحاد کا سب سے اہم کمانڈر مأرب میں ہلاک

?️ 13 دسمبر 2021سچ خبریں:جارح سعودی اتحاد کا اہم ترین کمانڈر جنوبی مأرب میں انٹیلی

امریکی خصوصی ایلچی کے دورہ عراق کے خطرناک مقاصد:عراقی میڈیا

?️ 20 جون 2026سچ خبریں:عراقی میڈیا نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی

صہیونی سکیورٹی سیکٹرز میں 6 فلسطینی قیدیوں کا اسرورسوخ

?️ 22 ستمبر 2021سچ خبریں: صہیونی حکومت کی جیلوں سے 6 فلسطینی قیدیوں کا فرار

فیس بک کا ایک عہدیدار نیتن یاہو کی کابینہ میں کام کرنے کے لیے مقرر

?️ 14 جنوری 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر نے مقبوضہ

غزہ کی پٹی میں فلسطینی پناہ گزینوں کی پناہ گاہ پر بمباری

?️ 5 اکتوبر 2024سچ خبریں: لبنان اور غزہ کی پٹی کے خلاف صیہونی حکومت کے

بلوچستان زلزلہ: وزیراعظم کا متاثرین کو ہرممکن تعاون فراہم کرنے کی ہدایت

?️ 7 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے بلوچستان میں زلزلے

گورنر سندھ نے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کردیا

?️ 23 جنوری 2026کراچی (سچ خبریں) گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے