?️
سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر عالمی میڈیا نے مختلف تجزیے پیش کیے ہیں۔ عرب، روسی، چینی اور صہیونی ذرائع ابلاغ نے اسرائیل کی عسکری ناکامی، خطے میں بڑھتی مزاحمت اور ایران امریکہ مذاکرات کے پیچیدہ مستقبل پر روشنی ڈالی ہے۔
ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی فوجی جارحیت کے آغاز سے نہ صرف اس جنگ کے اعلان کردہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے بلکہ جارح قوتوں کے لیے اسٹریٹجک تعطل، عسکری ناکامی اور سیاسی مشکلات کی علامات بھی مسلسل نمایاں ہوتی جا رہی ہیں۔
یہ جنگ وسیع حملوں اور عام شہریوں خصوصاً معصوم طلبہ کے قتل سے شروع ہوئی، لیکن جلد ہی اس نے انسانی، سلامتی اور اقتصادی بحران کی شکل اختیار کر لی۔ اگرچہ دو ہفتے کی جنگ بندی عمل میں آئی اور بعد ازاں ٹرمپ نے اس میں توسیع بھی کی، تاہم اس تنازع کے مکمل خاتمے تک کا راستہ اب بھی پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔
دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے اپنے اپنے زاویوں سے اس جنگ کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اور ان تجزیات کا مطالعہ خطے کی اصل صورتحال کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
عرب اور علاقائی میڈیا کا مؤقف
المیادین نے اپنے ایک تجزیاتی کالم میں لکھا کہ اسرائیل امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کو اپنی علاقائی حیثیت کے لیے ایک اسٹریٹجک خطرہ سمجھتا ہے، اسی لیے وہ ایسے کسی بھی سمجھوتے کو ناکام بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
تجزیہ کے مطابق تل ابیب کا خیال ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان قربت مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل کر سکتی ہے اور ایران و محور مقاومت کے اثر و رسوخ کو بڑھا سکتی ہے۔ اسی لیے اسرائیل خطے میں مسلسل کشیدگی اور عدم استحکام برقرار رکھنا چاہتا ہے تاکہ اپنی عسکری برتری قائم رکھ سکے۔
المیادین نے غزہ اور لبنان میں اسرائیل کی ناکامیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کسی بھی محاذ پر فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔ تجزیے میں کہا گیا کہ حزب اللہ نے اپنی عسکری قوت کا ایک حصہ دوبارہ بحال کر لیا ہے اور قوت مدافعت کی طاقت کو برقرار رکھا ہے۔
تجزیہ میں اتمار بن گوئر سمیت نتن یاہو حکومت کے انتہا پسند عناصر کو جنگی پالیسیوں میں شدت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، تجزیہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ مسلسل جنگ اور طاقت کے بے دریغ استعمال نے اسرائیل کی سیاسی و اخلاقی ساکھ کو عالمی سطح پر شدید نقصان پہنچایا ہے۔
دوسری جانب الشرقق الاوسط نے اپنے تجزیہ میں لکھا کہ سیاسی شور و غوغا کے باوجود امریکہ اور ایران دونوں کو کسی نہ کسی سمجھوتے کی ضرورت ہے، کیونکہ مسلسل بحران دونوں فریقوں کے لیے مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔
اس تجزیہ کے مطابق ممکنہ طور پر ٹرمپ کا مجوزہ معاہدہ 2015 کے جوہری معاہدے سے مشابہ ہو سکتا ہے، جس میں بنیادی توجہ ایران کے جوہری پروگرام کے بدلے پابندیوں میں نرمی پر مرکوز ہو گی۔
المسیرہ نے اپنے تجزیے میں کہا کہ لبنان میں صیہونی کشیدگی بڑھانے کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کو ناکام بنانا اور خطے کو نہ جنگ، نہ امن کی کیفیت میں رکھنا ہے۔
المسیرہ کے مطابق اسرائیل ایک وسیع جنگ سے خوفزدہ ہے کیونکہ اسے داخلی بحران، فوجی تھکن اور انسانی و اقتصادی نقصانات کا سامنا ہے، اسی لیے وہ محدود حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے مزاحمتی قوتوں کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔
چینی اور روسی میڈیا کی رپورٹیں
چینی خبر رساں ادارے شینہوا نے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ؛ قریب یا مبہم؟ کے عنوان سے شائع رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک ایک جزوی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کا سب سے اہم حصہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مکمل بحالی ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کا مسئلہ آئندہ مذاکرات کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔
شینہوا نے دعویٰ کیا کہ ممکنہ معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی، ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر کی رہائی اور بعض پابندیوں میں نرمی شامل ہو سکتی ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ باہمی عدم اعتماد، آبنائے ہرمز کے انتظام اور ایران کے خودمختار حقوق سے متعلق اختلافات اس معاہدے کے لیے بڑی رکاوٹ ہیں، جبکہ اسرائیل بھی اس کی سخت مخالفت کر رہا ہے۔
آر ٹی عربی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کے تسلسل سے خوفزدہ ہے اور کسی امن معاہدے کی جانب بڑھنا چاہتا ہے۔
آر ٹی عربی کے مطابق امریکی عوام کی اکثریت جنگ کے خلاف ہے اور بھاری مالی و عسکری اخراجات واشنگٹن کو مذاکرات کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
اسی ادارے نے ایک اور رپورٹ میں کہا کہ بنیامین نیتن یاہو کی مشرق وسطیٰ کو دوبارہ تشکیل دینے کی کوششیں الٹا اسرائیل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد نتن یاہو نے مطلق سلامتی کی پالیسی اپناتے ہوئے غزہ، لبنان، شام، عراق، یمن اور ایران سمیت کئی محاذوں پر بیک وقت تصادم کا راستہ اختیار کیا، لیکن نہ حماس کا خاتمہ ممکن ہوا، نہ حزب اللہ کمزور ہوئی اور نہ ہی ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر روکا جا سکا۔
صہیونی میڈیا کی تشویش
صہیونی اخبار یروشلم پوسٹ نے لکھا کہ اسرائیل کو شمالی سرحدوں پر بازدارندگی کے تصور کو ترک کر دینا چاہیے کیونکہ زمینی حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ حزب اللہ اب بھی حملہ کرنے کی صلاحیت اور ارادہ رکھتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد بھی لبنان میں 11 صیہونی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ حزب اللہ کے ڈرون مسلسل شمالی صیہونی بستیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
اسی طرح ٹائمر آف اسرائیل نے لکھا کہ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی، لیکن اب اس کے خاتمے کے فیصلوں سے تقریباً باہر ہو چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نتن یاہو ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں، جبکہ ایران اب بھی اپنے اسٹریٹجک اثاثے اور آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اخبار نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ اہم مذاکرات اسرائیل کی شمولیت کے بغیر آگے بڑھا رہی ہے، جس سے تل ابیب میں تشویش پائی جاتی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل ہیوم نے رپورٹ دی کہ امریکی حکومت کے اندر ایران مذاکرات کے حوالے سے اختلافات بڑھ رہے ہیں، خصوصاً منجمد اثاثوں، یورینیم ذخائر اور افزودگی کے مستقبل پر۔
اسرائیل ہیوم کے مطابق قطر ان مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور تہران و دوحہ کے درمیان اقتصادی تعاون میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
طالبان کا انسانی حقوق کے امریکی دعوے پر ردعمل
?️ 29 دسمبر 2021سچ خبریں:طالبان نے انسانی حقوق بالخصوص افغانستان میں خواتین کی صورتحال کے
دسمبر
متعدد صہیونی ہسپتال سائبر حملوں کا شکار
?️ 18 اکتوبر 2021سچ خبریں:صہیونی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ متعدد سائبر حملوں اور
اکتوبر
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن خطے سے فرار
?️ 15 اگست 2026سچ خبریں: امریکی بحریہ کے قائم مقام وزیر نے ایک سرکاری بیان
اگست
مراکش کے 45 شہروں میں اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے خلاف احتجاج
?️ 29 ستمبر 2026سچ خبریں:مراکش کے 45 شہروں میں فلسطین کی حمایت اور اسرائیل سے
ستمبر
اسرائیلی رہنما غزہ کے مستقبل پر متفق نہیں
?️ 6 فروری 2025سچ خبریں: اسرائیلی چینل 12 ٹیلی ویژن نے غزہ کی پٹی میں
فروری
امریکی معیشت کو ۲۰۲۶ میں درپیش سب سے بڑا خطرہ، ٹرمپ کی غیر یقینی تجارتی پالیسیاں
?️ 23 دسمبر 2025امریکی معیشت کو ۲۰۲۶ میں درپیش سب سے بڑا خطرہ، ٹرمپ کی
دسمبر
وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی عالمی برادری سے اپیل
?️ 30 اگست 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے عالمی برادری پر
اگست
طاہر اشرافی کا 21مئی کو یوم یکجہتیٔ فلسطین منانے کا اعلان
?️ 18 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی حافظ طاہر اشرفی نے 21مئی کو
مئی