کیا پاکستان ایران اور چین کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے امریکہ کے دباؤ میں ہے؟

پاکستان

?️

سچ خبریں:پاکستان کے اپنے اہم ہمسایہ ممالک ایران اور چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی ہمیشہ امریکیوں کی نظر میں رہی ہے اور واشنگٹن نے ہمیشہ پاکستان کے لیے پریشانیاں پیدا کی ہیں، اسی لیے پاکستانی مبصرین اپنے طاقتور پڑوسیوں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات۔کی وجہ سے اس ملک پر امریکی دباؤ ہونے پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔

پاکستان کی معاشی اور سیاسی صورتحال کی ماہر محترمہ آفرین مرزا نے اپنے ایک تجزیے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ اس ملک کے 6.5 بلین ڈالر کے قرض کے پروگرام کو بحال کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں تعطل کا ذکر کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا کہ کیا امریکی پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا استعمال کر رہے ہیں؟ اس پاکستانی ماہر نے کہا کہ امکان ہے کہ خطے کی اہم طاقتوں تہران اور بیجنگ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کی اسلام آباد کی خواہش پر امریکی تشویش بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات میں تعطل کی وجہ ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اتحادی حکومت کو کئی مسائل کا سامنا ہے، جن میں سرفہرست واشنگٹن میں مقیم قرض دہندگان کی اسلام آباد کی طرف عدم دلچسپی ہے،اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کی وجہ سیاسی نقطہ نظر ہے، جس کا بنیادی محور پاکستان کا ایران اور چین کی طرف رجحان ہے،اس رپورٹ میں پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا بیان کا حوالہ دیا گیا ہے کہ انہوں نے اس ملک پر دباؤ کے حوالے سے کسی بھی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات کا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے کوئی تعلق نہیں، لیکن معاشی ماہرین اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ یہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ تعلقات کو پیچیدہ بنا دے گا۔

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا نے بھی اس حوالے سے کہا کہ چین کا کردار بہت مثبت رہا ہے اور اس نے حالیہ ہفتوں میں اسلام آباد کے قرضوں کی بڑی رقم ادا کرکے بہت مدد کی ہے جس سے پاکستان کی مالی حالت بہتر ہوئی ہے، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ تہران کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات واشنگٹن کے لیے ایک مسئلہ ہیں،حافظ پاشا نے مزید کہا کہ لیکن ایران اور سعودی عرب کے تعلقات معمول پر آنے کے بعد اس حوالے سے صورتحال بدل گئی ہے اور اس صورتحال نے مشرق وسطیٰ کے حالات میں بہتری لائی ہے نیز اس مرحلے پر پاکستان کو اپنے ماضی کے کچھ وعدوں کو پورا کرنا ہےجیسے کہ ایران نے جو پائپ لائن بنائی تھی لیکن اسلام آباد کی عدم دلچسپی کی وجہ سے وہ روکی ہوئی ہے، اس لیے اس بات کا امکان ہے کہ امریکہ جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سرکردہ رکن ممالک میں سے ایک ہے، اس پر اعتراض کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق، سیستان و بلوچستان میں پاکستان کے ساتھ ایران کے پہلے سرحدی بازار اور پولان-جیبڈ پاور ٹرانسمیشن لائن پر بروز جمعرات 28 اپریل کو اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی موجودی میں کام شروع کر دیا گیا جہاں صدر مملکت نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ایران اور پاکستان کے درمیان بہت گہرے تعلقات ہیں جو دونوں ممالک کی مشترکہ تہذیب اور مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، کہا کہ آج ایران اور پاکستان کے درمیان یہ عزم ہے کہ ان تعلقات کی سطح کو موجودہ سطح سے اوپر لے جایا جائے ، انہوں نے تاکید کی کہ پاکستان کی سلامتی ایران کی سلامتی ہے اور اسی طرح ایران کی سلامتی بھی پاکستان کے لیے اہم ہے۔یہ مسئلہ خطے میں ہمارے لیے انتہائی اہم ہے جبکہ غیر ملکیوں کی مداخلت سے خطے میں کسی بھی طرح مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ان کی موجودگی خطرہ ہی رہی ہے۔

یاد رہے کہ سب ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران اور پاکستان کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری میں امریکہ ہمیشہ پیش پیش ہے جبکہ پاکستانی سیاسی مبصرین ہمیشہ امریکہ پر علاقائی تعاون کی بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگاتے رہے ہیں، خاص طور پر ایران اور چین کے ساتھ پاکستان کے تعاملات کی راہ میں امریکہ کی جانب سے روڑے اٹکانے کا اسلام آباد کے رہنما بارہا اعتراف کر چکے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے توانائی کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کا دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے ہمیشہ اسلام آباد کے بیجنگ کے ساتھ اسٹریٹجک رابطوں کو نشانہ بنایا ہے اور اسے پاکستان کے لیے نقصان دہ تصور کیا ہے،اسی دوران رواں سال مئی کے وسط میں اسلام آباد کے دورے کے دوران چینی وزیر خارجہ نے امریکہ کی تخریب کاری کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کے عوام بہتر جانتے ہیں کہ کون سا ملک تعاون اور مدد کے لیے عملی اقدامات کرے گا،انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ بیان بازی کرنے کے بجائے پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے عملی اقدام کرے،انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، لیکویڈیٹی کی کمی کے ساتھ، آخری حربے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی طرف سے فراہم کردہ ذمہ داریوں اور شرائط کی خلاف ورزی کرنے کی تاریخ رکھتا ہے، لیکن اس ملک کو اپنے آپ کو بچانے کے لیے اس بین الاقوامی ادارے سے مالی امداد کو بحال کرنا ہوگا۔

مشہور خبریں۔

صارفین کو بجلی کے بلوں کی اقساط پر 14 فیصد سود ادا کرنا ہوگا

?️ 6 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) بجلی کی بُلند قیمتوں کا سامنا کرنے والے

موساد کے نئے سربراہ کی تقرری پر شدید اندرونی اختلافات

?️ 14 اپریل 2026سچ خبریں:صیہونی میڈیا کے مطابق موساد کے نئے سربراہ کی تقرری پر

پی ٹی آئی کا رویہ یہی رہا تو عمران خان کی اڈیالہ جیل سے منتقلی ہوسکتی ہے۔ رانا ثناءاللہ

?️ 10 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) مشیر وزیرِاعظم سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا

عام آدمی کو فائدہ پہنچانے کے لئے ملک میں تبدیلی ضروری ہے

?️ 22 نومبر 2021لودھراں (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا

آزادی کی حدیں بھی ہم طے کریں گے، ٹویٹر نے سیکڑوں اکاؤنٹ بند کر دیے

?️ 24 فروری 2021سچ خبریں:امریکی کمپنی ٹویٹر نے اعلان کیا ہے کہ ایف بی آئی

Meet Indonesia’s first female longboard surfer: Elly Whittaker

?️ 18 جولائی 2021 When we get out of the glass bottle of our ego

دو سو امریکی کمپنیوں پر سائبر حملہ

?️ 3 جولائی 2021سچ خبریں:ایک سائبرسکیوریٹی کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ 200 امریکی کمپنیوں

2023 میں عالمی جنگ کے آغاز کے لیے پانچ ممکنہ منظرنامے

?️ 1 جنوری 2023سچ خبریں:      رابرٹ فارلی نے 1945 میں کہا تھا کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے