قرضوں کا بوجھ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ کو بتادیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے اقوام متحدہ سے قرضوں کی پائیداری کے مسائل سے نمٹنے میں ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے اپنے عزم کو مضبوط کرنے کی گزارش کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اس بوجھ کو صفی مساوات اور موحولیاتی تبدیلی کی کاوشوں میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے ان پیچیدہ معاملات پر معاونت بڑھانے کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔

خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے ’ گروپ آف فرینڈز آن جینڈر پیریٹی’ کے زیرِاہتمام ایک تقریب میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے قرضوں کی پائیداری، ماحولیاتی فنانس اور غیر ملکی قبضے والے علاقوں میں خواتین کی حالت زار کے درمیان اہم تعلق کو اجاگر کیا۔

انہوں نے کہا کہ قرض کی ادائیگی بہت سے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے کیونکہ وہ موسمیاتی تبدیلی اور قرضوں کے بوجھ کے دوہری چیلنجوں سے نبرد آزما ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قرض کی پائیداری کے ساتھ موسمیاتی فنانس کی ضرورت کو متوازن کرنے کے لیے جدید فنانسنگ میکانزم کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ موسمیاتی مالیات کو قرض سے نجات کی حکمت عملیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے سے، ترقی پذیر ممالک موسمیاتی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے اور زیادہ پائیدار اور لچکدار مستقبل کی تعمیر کر سکتے ہیں اور اپنی مالی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتے ہیں۔

منیر اکرم نے دلیل دی کہ یہ ترقی پذیر ممالک کو بااختیار بنائے گا کہ وہ اپنی مالی ذمہ داریوں کو مؤثر طریقے سے سنبھال سکیں اور ساتھ ہی ساتھ موسمیاتی کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک پائیدار مستقبل کو فروغ دیں۔

بالخصوص بھارت کے زیرِ تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں غیر ملکی قبضے کے تحت خواتین کو درپیش چیلنجوں کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے، سفیر منیر اکرم نے انتظامی جبر سے لے کر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں تک کی مشکلات کا خاکہ پیش کیا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان حالات میں خواتین کو تشدد، استحصال اور امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور ان کے حقوق اکثر استثنیٰ کے ساتھ پامال ہوتے ہیں۔

2021 میں اقوام متحدہ کے سینئر انتظامی سطح پر صنفی مساوات میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے، سفیر منیر اکرم نے خواتین کو بااختیار بنانے اور کام کی جگہوں پر خواتین کی شمولیت اور معاشروں کی تشکیل میں صنفی مساوات کے اہم کردار پر زور دیا۔

تاہم، انہوں نے اقوام متحدہ میں مساوی جغرافیائی نمائندگی پر زور دیتے ہوئے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کی خواتین کی نمائندگی میں موجودہ عدم توازن کی طرف توجہ مبذول کروائی، سفیر منیر اکرم نے دلیل دی کہ اس طرح کی نمائندگی تنظیم کو مزید متحرک، مضبوط اور تمام خطوں اور براعظموں کے لوگوں کی امنگوں کی حقیقی عکاسی کرے گی۔

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کی طرف سے ایک جامع نقطہ نظر، صنفی مساوات، آب و ہوا کی کارروائی، اور قرض کی پائیداری کا مطالبہ سب کے لیے زیادہ جامع اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کے تقاضوں کے مناسبت ہے۔

جمعہ کو سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوٹیرس نے خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ اجلاس میں تفصیلات بتاتے ہوئے دنیا بھر میں خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے لیے ایک منصوبہ شروع کیا۔

سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا کہ مساواتوقت کی ضرورت ہے، اسے حاصل کرنے کے لیے ہمیں وسائل کے ساتھ بیان بازی کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

چارجنگ کے بغیر نصف صدی تک چلنے والی بیٹری تیار کرنے کا دعویٰ

?️ 16 جنوری 2024سچ خبریں: چینی کمپنی نے ایک ایسی بیٹری تیار کرنے کا دعویٰ

تھر کول بلاک ون کے بجلی گھر پر 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی، 3 ہزار افراد کو روزگار ملا، سید مراد علی شاہ

?️ 8 اکتوبر 2025کراچی: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے

ڈنمارک کی جانب سے مغربی کنارے پر اسرائیل کے فیصلے کی مذمت 

?️ 11 فروری 2026 سچ خبریں:ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ صیہونی

دمشق کے ساتھ مفاہمت بھی اور شمالی شام پر قبضہ بھی؛اردگان کا متضاد موقف

?️ 21 مئی 2023رجب طیب اردگان نے شام کے ساتھ مفاہمت کے لیے آمادہ ہونے

امریکہ کے پاس ایران کے لیے کوئی اچھا آپشن کیوں نہیں؟

?️ 18 مئی 2026سچ خبریں:ڈونلڈ ٹرمپ کے چین دورے اور مشرق وسطیٰ و مشرقی ایشیا

وینزویلا کا روس کی حمایت کرنے کا اعلان

?️ 24 فروری 2022سچ خبریں:وینزویلا کے صدر نے کہا ہے کہ کراکس یوکرائن کی صورتحال

شام کے بحران کا مقصد روس کی توجہ یوکرین سے ہٹانا

?️ 10 دسمبر 2024سچ خبریں: روسی اکیڈمی آف سائنسز کے سینٹر فار سیکیورٹی اسٹڈیز کے

سندھ:7جون سے  نئی انسداد پولیو مہم کا آغاز

?️ 5 جون 2021کراچی(سچ خبریں) سندھ میں 7 جون سے 7 روزہ انسداد پولیو مہم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے