?️
سچ خبریں:علاقائی امور کے ماہر کا کہنا ہے کہ اگرچہ فرانسیسی صدر کے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے دورے کی بنیادی وجہ عمومی طور پر اقتصادی ہے، لیکن پیرس لبنان میں اپنے اقدام کو ٹوٹنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس لیے عربوں کے ساتھ بیروت کے تعلقات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
علاقائی امور کے ماہر علی اصغر زرگر نے فرانسیسی صدر کے خلیج فارس ممالک کے دورے کے موقع پر لبنان کے وزیر اطلاعات کے استعفیٰ اور بیروت نیز خطے میں عرب ریاستوں کے درمیان کشیدگی کے حل کے امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے لبنانی وزیر اطلاعات جارج قرداحی کے استعفی کا مشاہدہ کیا ہے جسے کچھ لوگ بیروت پر سعودی اثر و رسوخ اور دباؤ کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ سعودیوں اور خلیج فارس کے دیگر ممالک کا اثر و رسوخ لبنان وغیرہ میں کئی سالوں سے ظاہر تھا اور لبنان کے سابق وزیر اعظم سعد الحریری کے دور میں بھی ہم نے اس اثر و رسوخ کے اعمال کا مشاہدہ کیا جہاں سعودی عرب کے دورے کے دوران الحریری کو سعودی سکیورٹی اداروں کے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھاجس کا مطلب بیروت میں سعودیوں کا اثر و رسوخ تھا، کی وجہ سے لبنان کی صورت حال تھی۔
انہوں نے مزید کہاکہ یہ رجحان اب بھی موجود ہے اور ہم نے دیکھا کہ لبنانی حکومت کے وزیر اطلاعات کو یمن کے معاملے میں سعودی عرب کے رویے پر تنقید کی وجہ سے استعفیٰ تک جانا پڑا اور حال ہی میں انھوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے،اس بنیاد پر میں سمجھتا ہوں کہ قرداحی جیسے لوگوں کا اخراج پہلا قدم ہو سکتا ہے اور یہ ممکن ہے کہ سعودی عرب متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین وغیرہ جیسے ممالک سے مل کر مزید آگے بڑھے جبکہ کچھ دوسروں کا خیال ہے کہ اس امکان بہت کم ہے۔
واضح رہے کہ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب نے قراداحی کو ہٹانے میں تو کامیابی حاصل کر لی ہے تاہم اس بات کا امکان کم ہے کہ وہ موجودہ صورتحال سے آگے بڑھنا چاہے گا اس لیے کہ وہ صرف سیاسی ہتھکنڈوں اور میڈیا کا استعمال کرکے لبنانی عوام کو سزا دینا چاہتا ہے اور یہ دباؤ کام آیا، تاہم اس کے جاری رہنے کی توقع نہیں ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ فرانسیسی صدر کے یو اے ای، قطر اور سعودی عرب کے دورے کے بارے میں دیگر تجزیہ کار اور ماہرین کیا کہتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
دنیا اس دور کے ہٹلر کو بھی روکے:ترک صدر
?️ 25 ستمبر 2024سچ خبریں: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس میں ترکی
ستمبر
امریکہ میں خانہ جنگی کے خدشے کے پیش نظر نئی پارٹی کا قیام
?️ 29 جولائی 2022سچ خبریں: ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹیوں کے درجنوں سابق عہدیداروں نے امریکہ
جولائی
اسحاق ڈار کا غزہ میں فوجی دستے بھیجنے کی خبروں کی تصدیق سے انکار
?️ 27 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے
دسمبر
اسلام آباد اپنے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
?️ 25 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) قومی اسبملی کی کمیٹی برائے خزانہ اور ریونیو کو وزیر
جون
دنیا میں بھوک کے بحران کی سنگینی
?️ 21 ستمبر 2022سچ خبریں: 200 سے زائد غیر سرکاری تنظیموں نے عالمی رہنماؤں
ستمبر
فلسطینی مزاحمتی تحریک کی نئی ڈیٹرنس مساوات
?️ 4 جنوری 2022سچ خبریں:لبنان کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ غزہ کی پٹی
جنوری
آئی ایم ایف وفد کی وزیر خزانہ سے ملاقات، سیلاب کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لے گا
?️ 29 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف)
ستمبر
سنہری دور کی یادوں کو تازہ کرنے کیلئے ’پی ٹی وی فلکس‘ کا آغاز
?️ 30 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) تنہائیاں، دھوپ کنارے ہو یا ففٹی ففٹی، ان
اپریل