عرب، ایران اور ترکی کی مثلث اسرائیل کے مشرق وسطیٰ منصوبے کے خلاف کھڑی ہوسکتی ہے: المیادین

ایران

?️

سچ خبریں: مصری سیاستدان حمدین صباحی نے المیادین کے خصوصی پروگرام "فی الامکان” میں اسرائیلی ریاست کے ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی دشمن کی جارحیت ناکام ہوئی اور ایران نے اپنی قومی خودمختاری اور دفاعی صلاحیت برقرار رکھی۔
ایران: اسرائیل کے مشرق وسطیٰ منصوبے کی راہ میں رکاوٹ
صباحی نے المیادین کو بتایا کہ ایران اسرائیل کے مشرق وسطیٰ کے منصوبے کے خلاف ایک دیوار ہے، اسی لیے اسرائیل نے جنگ چھیڑ کر ایران کو غیر موثر بنانے کی کوشش کی۔ تاہم، 12 روزہ جنگ کے بعد اسرائیل خود جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہوا۔
ان کے مطابق، اسرائیلی جارحیت ختم نہیں ہوئی، اور ایران کے خلاف مزاحمت کا ایک موثر طریقہ عرب، ایرانی اور ترک تہذیبی مثلث کی تشکیل ہے، جو نئے مشرق وسطیٰ کے ہیجیمونک منصوبے کے خلاف خطے کی بقا کی کلید ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان تینوں فریقوں کے درمیان سنجیدہ مذاکرات ہونے چاہئیں۔
المیادین کے مطابق، شام اور مشرق وسطیٰ پر کنٹرول کا معاملہ درحقیقت عالمی نظم کی جنگ ہے۔ چین اور روس کو ایران کے ساتھ واضح اور مضبوط موقف اپنانا چاہیے، نہ صرف ایران کی حفاظت کے لیے بلکہ اپنے مفادات، عالمی مقام اور کردار کے تحفظ کے لیے۔
اسرائیل کا اصل مقصد: ایران کا نظام تبدیل کرنا
المیادین کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے اپنے زیر کنٹرول مشرق وسطیٰ کا نظام قائم کرنے کی کوشش کی۔ اگرچہ اسرائیل نے ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، لیکن اصل مقصد ایران کی خودمختار حکومت کو ختم کرنا تھا۔
صباحی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کا بنیادی ہدف ایران کے خودمختار نظام کو ختم کرنا تھا، لیکن ایران قومی یکجہتی اور قانونی جوہری پروگرام کے ساتھ کامیاب رہا۔
ایران کی مزاحمت: اتحاد اور جوہری پروگرام کا تحفظ
ایران نے ظاہر کیا کہ قومی فیصلہ سازی میں خودمختاری ممکن ہے۔ ایرانی میزائل تل ابیب تک پہنچے، جس نے اسرائیل کی دفاعی نظام کو ناکام بنایا۔ ایران کا جوہری پروگرام، جو شاہ کے دور میں امریکی حمایت سے شروع ہوا، اب ایرانی سائنسدانوں اور عوامی حمایت سے جاری ہے۔
12 روزہ جنگ کے اہم نتائج:
1. ایران کی دفاعی صلاحیت نے اسرائیل کو ناکام بنایا۔
2. عرب دنیا میں اسرائیل کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا۔
3. خطے کے دیگر ممالک کو احساس ہوا کہ ایران کے بعد وہ اسرائیل کے نشانے پر ہوں گے۔
4. اسرائیلی آبادی میں خوف و اضطراب پھیل گیا۔
عوام اور اتحاد: جنگ کا اہم پیغام
ایران کی داخلی اپوزیشن نے حکومت کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا، جبکہ عرب عوام نے بھی ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔
مستقبل کی حکمت عملی: عرب، ایرانی اور ترک اتحاد
صباحی نے زور دیا کہ ایران کو عرب ممالک، خاص طور پر خلیجی ممالک، کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے چاہئیں۔ عرب-ایرانی-ترک مثلث نئے مشرق وسطیٰ کے منصوبے کے خلاف اہم دفاعی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔
چین اور روس کا کردار
المیادین نے کہا کہ چین اور روس کو ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، کیونکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ درحقیقت عالمی طاقتوں کی جنگ ہے۔

مشہور خبریں۔

صدرِ مملکت کا قومی یکجہتی کے لیے مادری زبانوں کو فروغ دینے پر زور

?️ 21 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ملک کی متنوع

8 فروری کو ووٹر ٹرن آؤٹ 47.6 فیصد رہا، فافن کی جائزہ رپورٹ جاری

?️ 15 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن 2024 کے متعلق فری اینڈ فیئر الیکشن

غزہ میں خوراک کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے پر اسرائیل کی شدید مذمت کرتے ہیں، وزارت خارجہ

?️ 25 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی

امریکا کو پاکستانی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے

?️ 25 مئی 2021لاہور (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاہے کہ

پاک ڈیٹا کام میں بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والے 5 ملازمین کو برطرف کیے جانے کا انکشاف

?️ 26 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزارت انفارمینش ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام کے ماتحت

روس کی جانب سے بھیجے جانے والے سگنل نامناسب ہیں: زیلینسکی

?️ 23 اگست 2025سچ خبریں: یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی کا کہنا ہے کہ روس

اسرائیل کے پاس غزہ کی حالیہ جنگ کو جاری رکھنے کی طاقت کیوں نہیں تھی؟: عطوان

?️ 10 اگست 2022سچ خبریں:   عرب دنیا کے معروف تجزیہ کار اور روزنامہ رائلوم کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے