?️
سچ خبریں:آلودہ گیسوں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی وجہ سے امیر ممالک غریب ممالک کے 192 ٹریلین ڈالر کے مقروض ہیں۔
المیادین چینل کی رپورٹ کے مطابق دو مغربی یونیورسٹیوں کے ایک نئے موسمیاتی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ امیر اور صنعتی ممالک کو 2050 تک غریب ممالک کو تقریباً 192 ٹریلین ڈالر ادا کرنے ہوں گے، خاص طور پر صنعتی ممالک سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی وجہ سے مغرب اور دوسرے ممالک کی آچ پر اس کے اثرات کی وجہ سے۔
فوربز میگزین نے یونیورسٹی آف لیڈز اور یونیورسٹی آف بارسلونا کی ایک نئی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ صنعتی اور دیگر امیر ممالک کو غریب ممالک کو تقریباً 192 ٹریلین ڈالر ادا کرنے ہوں گے تاکہ یہ ممالک کاربن ڈائی آکسائیڈ کی حد سے زیادہ داخل ہونے کا مقابلہ کر سکیں اس لیے کہ اس مسئلے نے دوسرے ممالک میں مسائل پیدا کیے ہیں اور اس امداد کے ذریعے کسی حد تک آب و ہوا کے بحران کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے حالانکہ قرض کی یہ رقم ان آلودگیوں کے تباہ کن اثرات کو کبھی ختم نہیں کر سکے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ صنعتی اور پسماندہ ممالک کی عدم مساوات کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلی کا بنیادی بوجھ غریب اور کمزور ممالک کے کندھوں پر پڑے گا اور اس لیے بعض مسائل پر قابو پانے کے لیے صنعتی ممالک کی جانب سے ان کی مدد بہت ضروری ہے،نیچر اسسٹین ایبلٹی نامی جریدے میں پیر کو شائع ہونے والی یہ تحقیق صنعتی ممالک کی سرگرمیوں سے ہونے والے نقصانات کا درست اندازہ لگانے والی پہلی ہے، جس میں دولت مند، صنعتی ممالک کو ان کے اضافی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ صنعتی ممالک کو 2050 تک کمزور ممالک کو مجموعی طور پر 192 ٹریلین ڈالر کا معاوضہ ادا کرنا ہوگا،تحقیق کے مطابق جب محققین نے ہر ملک کے لیے منصفانہ حصہ کا حساب لگایا تو انھیں معلوم ہوا کہ کچھ ممالک نے اپنا منصفانہ حصہ مختص کرنے سے انکار کر دیا جبکہ کچھ صنعتی ممالک پہلے ہی پسماندہ ممالک کے تئیں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور کمزور علاقوں کو موسمیاتی امداد دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ عالمی شمال کے ممالک، جن میں امریکہ، یورپ، کینیڈا اور آسٹریلیا شامل ہیں، 170 ٹریلین ڈالر کی رقم میں سب سے حصہ ان کا ہے جبکہ اس اعداد و شمار کا باقی حصہ عالمی جنوبی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خلیج فارس کے ممالک جہاں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بہت زیادہ ہوتا ہے سے آنا چاہیے،محققین کا کہنا ہے کہ کم اخراج کرنے والے ممالک کو اپنی معیشتوں کو ڈی کاربنائز کرنے کے لیے سالانہ تقریباً 6 ٹریلین ڈالر حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
مطالعہ کے مطابق 80 ٹریلین ڈالر وہ رقم ہے جو امریکہ 25 سالوں میں ادا کر سکتا ہے،جب کہ ریاستہائے متحدہ اور دیگر صنعتی ممالک کو یہ نقصانات ادا کرنا ہوں گے تاکہ دوسرے ممالک جنہیں کاربن کے اخراج کو روکنے کے لیے موثر اور بہتر اقدامات کی ضرورت ہے،انہیں معاوضہ ملنا چاہیے اور ڈی کاربنائزیشن کو مستقبل میں ملتوی نہیں کرنا چاہیے بلکہ فوری طور پر اس کے لیے ضروری اقدامات کرنا شروع کر دینا چاہیے، مطالعہ کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جسے معاوضے میں $ 57 ٹریلین وصول کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔


مشہور خبریں۔
سیاسی تعطل کے خاتمے سے صیہونیوں کی مایوسی
?️ 9 جولائی 2022سچ خبریں:ایک نئے سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ زیادہ تر صہیونیوں
جولائی
یوکرین میں سابق امریکی میرین کے ساتھ کیا ہوا؟
?️ 26 جولائی 2023سچ خبریں:امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو اعلان کیا کہ اس ملک
جولائی
قطر کے موجودہ مذاکرات ایک نئے معاہدے پر مرکوز
?️ 29 نومبر 2023سچ خبریں:امریکی اخبار فنانشل ٹائمز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے خبر
نومبر
شامی عوام کے خلاف پینے کا پانی اسلحہ کے طور پر استعمال
?️ 29 اپریل 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ میں شام کے مندوب نے کہا ہے ترکی پینے
اپریل
امریکی مداخلت پاکستان کے عوام کے لیے کسی قیمت پر قابل قبول نہیں:صاحبزادہ ابوالخیر زبیر
?️ 3 اپریل 2022لاہور(سچ خبریں)ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی قائدین کے منصورہ میں ہونے
اپریل
صیہونی حکومت اور حماس کے دردمیان قیدیوں کا تبادلہ کیوں نہیں ہو رہا؟ صہیونی میڈیا کا انکشاف
?️ 3 نومبر 2024سچ خبریں:صہیونی میڈیا نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے غزہ
نومبر
کروڑوں بے گناہوں کا قاتل امریکہ کیا اب کسی نئی جنگ کی تیاری کررہا ہے؟؟؟؟
?️ 20 مارچ 2021(سچ خبریں) امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک انٹرویو میں کہا ہے
مارچ
انٹرپول نے شواہد کی کمی کے باعث مونس الٰہی کی حوالگی کی حکومتی درخواست مسترد کردی
?️ 16 نومبر 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) انٹرپول نے حکومت پاکستان کی سابق وفاقی
نومبر