جاوید اختر کے پاکستان مخالف بیان سے متعلق لاعلم تھا، علی ظفر

?️

کراچی: (سچ خبریں) گلوکار و اداکار علی ظفر نے بھارتی نغمہ نگار و لکھاری جاوید اختر کو عشائیہ دینے پر تنقید کرنے والے افراد کو جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ بھارتی فلم ساز کے پاکستان مخالف بیان سے متعلق لاعلم تھے۔

علی ظفر نے جاوید اختر کے اعزاز میں عشائیے کی تقریب منعقد کی تھی جہاں انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی تھی جس پر شوبز شخصیات اور سوشل میڈیا صارفین نے علی ظفر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

تاہم اب علی ظفر نے لوگوں کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے جاوید اختر کو عشائیے کی دعوت ان کے خطاب سے ایک دن قبل دی تھی۔علی ظفر نے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز میں لوگوں کی تنقید کو سراہا لیکن ساتھ ہی کہا کہ تنقید کرنے والے افراد کو تمام حقائق کو سامنے رکھ کر تنقید کرنی چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے جاوید اختر کے شان میں ان کے فیض میلے کے بیان سے ایک رات قبل ہی تقریب منعقد کی تھی، جس میں متعدد شخصیات نے شرکت کی جبکہ شرکت نہ کرنیوالی شخصیات انہیں دعوت نہ دینے کے شکایتی پیغامات کرتے رہے لیکن اب وہی شخصیات ان پر تنقید کر رہی ہیں۔

انہوں نے اپنی اسٹوریز میں جاوید اختر کا نام استعمال کیے بغیر ان کے بیان کی مذمت کی اور واضح کیا کہ وہ ایک محب وطن پاکستانی ہیں اور کوئی بھی محب وطن اپنے ملک کے خلاف بیان کو برداشت نہیں کر سکتا۔علی ظفر کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے کافی نقصان برداشت کیا ہے اور تاحال بہت کچھ برداشت کر رہا ہے، اس لیے اس طرح کے جذبات مجروح کرنے والے بیانات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے نام لیے بغیر جاوید اختر کے بیان کو ناقابل برداشت اور غلط قرار دیا اور لکھا کہ انہوں نے ایک ایسے پروگرام میں پاکستان مخالف بات کی جو کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے رکھا گیا تھا۔علی ظفر نے بتایا کہ انہیں جاوید اختر کے پاکستان مخالف بیان کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی، انہوں نے تقریب کے دوسرے دن سوشل میڈیا پر بھارتی نغمہ نگار کے پاکستان مخالف بیان کو سنا جس پر انہیں افسوس ہوا۔

مشہور خبریں۔

کیا روس نے امریکہ اور جمہوریت کی توہین کی ہے؟امریکی عہدیداروں کی زبانی

?️ 27 اپریل 2024سچ خبریں: روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی ایوان نمائندگان

شہباز گل کا ایک جملہ بالکل قابل اعتراض تھا جو نہیں کہنا چاہیئے تھا

?️ 13 اگست 2022لاہور: (سچ خبریں) عمران خان کا کہنا ہے کہ شہباز گل کا ایک

فرانس میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، مکرون سے استعفی کا مطالبہ

?️ 7 اکتوبر 2025فرانس میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا، مکرون سے استعفی کا

صنعا میں یمنی محاصرہ توڑنے پر ایران کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اجتماع

?️ 4 جولائی 2026سچ خبریں: یمن کے دارالحکومت صنعاء میں السبعین اسکوائر پر ہزاروں یمنی شہریوں

کیا دمشق اور عرب ممالک کے تعلقات بحالی کی راہ پر گامزن ہیں؟

?️ 25 فروری 2023سچ خبریں:عرب میڈیا نے شام کے صدر کے عمان کے دورے اور

فلسطین صیہونی حکومت کے ساتھ زمین کی تقسیم کو قبول نہیں کرے گا: اسلامی جہاد

?️ 26 دسمبر 2022سچ خبریں:     خالد البطش نے قدس گروپ کے کمانڈروں میں سے

سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کیا شرط رکھی ہے؟

?️ 7 فروری 2024سچ خبریں: سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ اور دوٹوک

یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کے 11 اہلکاروں کو کیا گرفتار 

?️ 3 ستمبر 2025سچ خبریں: فرانس 24 نیٹ ورک نے اس خبر کے ساتھ اضافہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے