پی ٹی آئی کا احتجاج کے دوران کارکنوں کی مبینہ اموات کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

?️

پشاور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف  نے اسلام آباد میں پارٹی کے 24 نومبر کو اعلان کردہ احتجاج کے دوران کارکنوں کی مبینہ اموات کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے پُرامن مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 12 کارکن جاں بحق ہوئے۔

پشاور میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت نے ہماری پارٹی کے پرامن مظاہرین پر اسلام آباد میں فائرنگ کرائی۔

شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد احتجاج میں پی ٹی آئی کے 12 کارکن شہید ہوئے، کئی کارکن اب بھی لاپتا ہیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے پُرامن مظاہرین پر سیدھی فائرنگ کروائی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس رجیم نے دعویٰ کیا کہ ایک بھی گولی نہیں چلی ہم نے، آپ کو ثبوتوں کے ساتھ دیکھایا کہ گولی بھی چلی اور جنازے بھی اٹھے، ان کی فسطائیت چھپ نہیں سکتی، اس کی آواز آئندہ کئی سالوں تک گونجتی رہے گی۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ شفیق لنڈ کی میت پمز میں پڑی رہی، ان کے اہل خانہ، تحریک انصاف، صحافی کوائف، میت دینے کا کہتے رہے لیکن 2 دن تک انکار کیا جاتا رہا کہ میت یہاں نہیں اور پھر پنڈی کے ہسپتال سے میت دی گئی اور کہا گیا کہ ان کا ایکسیڈینٹ ہوا تھا جب کہ انہیں گولی لگنے کی وڈیو موجود ہے۔

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اسلام آباد احتجاج میں پی ٹی آئی کارکنوں کی مبینہ اموات پر چیف جسٹس سپریم کورٹ سے جوڈیشل انکوائری کامطالبہ کیا اور الزام عائد کیا کہ ان پر بھی قاتلانہ حملہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے 24 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

24 نومبر کو بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کیا تھا اور 25 نومبر کی شب وہ اسلام آباد کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم اگلے روز اسلام آباد میں داخلے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جھڑپ کے نتیجے میں متعدد افراد، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

26 نومبر کی شب بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور عمر ایوب مارچ کے شرکا کو چھوڑ کر ہری پور کے راستے مانسہرہ چلے گئے تھے، مارچ کے شرکا بھی واپس اپنے گھروں کو چلے گئے تھے۔

بدھ کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کے علاوہ سردار لطیف کھوسہ نے فورسز کے اہلکاروں کی ’مبینہ‘ فائرنگ سے ’متعدد ہلاکتوں‘ کا دعویٰ کیا تھا، تاہم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ان دعوئوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کچھ ہوا ہے تو ’ثبوت کہاں ہیں؟‘

مشہور خبریں۔

ادارہ جاتی بہتری کو یقینی بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔ وزیراعظم

?️ 14 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سول

اسرائیل غزہ کی ملبہ برداری کی قیمت ادا کرے:واشنگتن

?️ 12 دسمبر 2025 اسرائیل غزہ کی ملبہ برداری کی قیمت ادا کرے:واشنگتن امریکہ نے

امریکہ وینزویلا میں کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے

?️ 19 ستمبر 2025سچ خبریں: وینزویلا کے صدر نے کہا کہ امریکی حکومت کٹھ پتلی

سوراب میں فتنۃ الہندوستان کے دہشتگردوں کا حملہ، اے ڈی سی ریونیو شہید

?️ 30 مئی 2025کوئٹہ (سچ خبریں) بلوچستان کے ضلع سوراب میں فتنتہ الہندوستان کے دہشت

وزیراعلیٰ پنجاب نے  کئی افسران کو معطل کر دیا

?️ 17 ستمبر 2021لاہور(سچ خبریں) وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے عوامی شکایات پر ایکشن

سرینگرمیں متحدہ مجلس علماء کا اہم اجلاس ، فرقہ وارانہ اشتعال انگیزیوں کے تدارک کے لیے پینل قائم

?️ 16 جولائی 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں مختلف

ٹرمپ کی وجہ سے ہم دہشت گرد بن چکے ہیں:ٹرمپ کے ساتھی

?️ 5 جنوری 2023سچ خبریں:6 جنوری 2021 کو امریکی کانگریس پر ٹرمپ کے حامیوں کے

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کا مقدمہ درج

?️ 11 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) ایف آئی اے نے پاکستان تحریک انصاف کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے