?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ میں وزارت دفاع کی جانب سے ملک بھر میں تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کا حکم دینے کی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوگیا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ سماعت کررہا ہے۔
سماعت کے لیے ابتدائی طور پر ساڑھے 11 بجے صبح کا وقت مقرر کیا گیا تھا تاہم کارروائی تاخیر کا شکار ہونے کے بعد 2 بجے شروع ہوئی۔
خیال رہے کہ ایک روز قبل وزارت دفاع نے اپنی درخواست میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی تھی کہ قومی اور سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے پر قومی اور تمام صوبائی اسمبلیوں کے عام انتخابات ایک ساتھ کرانے کی ہدایت جاری کی جائے۔
اگر طالبان افغان خواتین کو تنظیم کے لیے کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں تو وہ مئی میں افغانستان سے انخلا کا ’دل دہلا دینے والا‘ فیصلہ لینے کے لیے تیار ہے
یہ استدعا ایک رپورٹ کے ساتھ منسلک درخواست کے ذریعے کی گئی تھی، جسے سپریم کورٹ کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) اور دیگر محکموں کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے جاری کرنے کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات کی تعمیل میں پیش کیا گیا تھا۔ x
درخواست میں کہا گیا تھا کہ ’مسلح افواج کے ارکان کو انتخابی ڈیوٹی کے لیے تیار کرنے کے لیے خاصہ وقت درکار ہے، اس لیے کہ فورس کا بڑا حصہ کافی عرصے سے آپریشنز میں مصروف ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ پنجاب اور سندھ میں سیکیورٹی کی صورتحال بالترتیب خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں جاری آپریشنز کی کوششوں کے تناظر میں مستحکم ہے۔
درخواست میں وضاحت کی گئی تھی کہ اس لیے خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے فوجیوں کی کسی بھی قسم کی منتقلی کے نتیجے میں پنجاب اور سندھ میں سیکیورٹی کی صورتحال براہ راست متاثر ہوگی۔
عدالت عظمیٰ نے حکومت کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 10 اپریل تک انتخابات کرانے کے لیے الیکشن کمیشن کو 21 ارب روپے فراہم کرنے کا حکم دیا تھا اور الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ حکومت کی جانب سے حکم کی تعمیل سے متعلق رپورٹ 11 اپریل کو فراہم کرے۔
تاہم، حکومت نے معاملہ پارلیمنٹ کو بھجوایا جس نے عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کی اور فنڈز جاری کرنے سے انکار کردیا۔
گزشتہ ہفتے الیکشن کمیشن نے سربمہر لفافے میں سپریم کورٹ کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی، معلومات سے باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ ایک صفحے کی رپورٹ میں عدالت عظمیٰ کو 21 ارب روپے جاری کرنے میں حکومت کی ہچکچاہٹ سے متعلق بتایا گیا۔
اس کے بعد عدالت عظمیٰ نے اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی تھی کہ وہ اکاؤنٹ نمبر ون کے فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے انتخابات کے لیے 21 ارب روپے جاری کرے اور اس سلسلے میں 17 اپریل تک وزارت خزانہ سے مناسب رابطہ کرے۔
سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد مرکزی بینک نے پیر کے روز فنڈز مختص کیے اور رقم جاری کرنے کے لیے وزارت خزانہ کی منظوری طلب کی۔
فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے رقم جاری کرنے کے لیے حکومت کی منظوری درکار ہوتی ہے جب کہ حکومت کو اس کے اجرا کے لیے قومی اسمبلی کی منظوری لینی ہوتی ہے۔
لیکن اسی روز قومی اسمبلی نے دونوں صوبوں میں انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو ضمنی گرانٹ کے طور پر 21 ارب روپے فراہم کرنے کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔
اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جگہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ضمنی گرانٹ کی موشن ایوان میں پیش کی جس پر ووٹنگ کے دوران اسے مسترد کردیا گیا۔


مشہور خبریں۔
افغانستان میں انسانی بحران بچنے کے لئے عالمی اشتراک کی ضرورت ہے
?️ 24 نومبر 2021راولپنڈی(سچ خبریں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے
نومبر
ایران کا برطانیہ اور فرانس کو صیہونی حکومت کی حمایت جاری رکھنے پر انتباہ
?️ 23 اگست 2026سچ خبریں: ایران کی وزارت خارجہ کے قانونی و بین الاقوامی امور
اگست
غزہ بچوں کے لیے دنیا کی سب سے جان لیوا پٹی
?️ 20 دسمبر 2025غزہ بچوں کے لیے دنیا کی سب سے جان لیوا پٹی غزہ
دسمبر
برطانیہ کی یوکرینی فوج کی خدمت
?️ 16 جولائی 2023سچ خبریں:برطانوی وزارت دفاع نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ
جولائی
شامیوں کو امریکی زہریلی رشوت / کاغذ پر نیا مشرق وسطیٰ
?️ 2 جولائی 2025سچ خبریں: شام کے عبوری صدر الجولانی اور صیہونی حکومت کے درمیان
جولائی
شہباز شریف جو بھی ذمہ داری دیں گے، دیانت داری سے نبھاؤں گا۔ رانا ثناءاللہ
?️ 9 ستمبر 2025لاہور (سچ خبریں) مشیر وزیراعظم رانا ثناءاللہ نے کہا کہ شہباز شریف
ستمبر
ای سی سی نے ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمد کی مشروط منظوری دے دی
?️ 14 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں)کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے
جون
مریم کی پیشی پر قانون پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا:وزیر اعظم
?️ 26 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم کی زیر صدارت پولیٹیکل کمیٹی کا اجلاس ہوا
مارچ