?️
پشاور:(سچی خبریں) پشاور ہائی کورٹ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت ڈپٹی کمشنر کی جانب سے دفعہ 144 کے تحت پابندی کے باوجود لوئر دیر میں احتجاج کرنے والے متعدد مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر خارج کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس محمد نعیم انور اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل بینچ نے قرار دیا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 (سرکاری ملازم کے حکم کی خلاف ورزی) کی خلاف ورزی قابلِ سزا جرم نہیں، اس پر ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکتی۔
بینچ نے قرار دیا کہ اس طرح کے جرم کا نوٹس صرف اس وقت لیا جا سکتا ہے جب کہ متعلقہ سرکاری ملازم کی جانب سے متعلقہ عدالت میں تحریری شکایت کی جائے۔
بینچ نے ایف آئی آر میں نامزد عتیق الرحمٰن اور دیگر 21 مظاہرین کی جانب سے دائر کردہ درخواست کو منظور کرلیا جنہوں نے مذکورہ ایف آئی آر کے اندراج کو غیر قانونی قرار دے کر خارج کرنے کی درخواست کی تھی۔
ڈپٹی کمشنر دیر لوئر نے 6 اکتوبر 2022 کو نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت بعض سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی تھی جس میں مساجد اور دیگر مذہبی مقامات کے علاوہ عوامی مقامات پر لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
درخواست گزاروں نے دیگر مظاہرین کے ساتھ 7 اکتوبر کو تیمرگرہ میڈیکل کالج کے قریب کالج انتظامیہ کی جانب سے انہیں کچھ اسامیوں پر بھرتی کے لیے نظر انداز کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت خال پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی اور ایس ایچ او مہران شاہ اس کے شکایت گزار تھے۔
عام طور پر ڈپٹی کمشنر مختلف سرگرمیوں کے سلسلے میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت احکامات جاری کرتے رہے ہیں اور اس طرح کے احکامات کی خلاف ورزی تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت جرم ہے۔
مختلف اضلاع میں پولیس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت جاری کردہ احکامات کی خلاف ورزی پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت ایف آئی آر درج کرتی رہی ہے لیکن پشاور ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں اب اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
ایڈووکیٹ اصغر علی اور سید عبدالحق درخواست گزاروں کی جانب سے عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور استدعا کی کہ ایس ایچ او نے ناقابل سزا جرم کی ایف آئی آر درج کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔
بینچ نے ریمارکس دیے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 پولیس اسٹیشن کے انچارج افسر پر یہ فرض عائد کرتی ہے کہ وہ متعلقہ کتاب میں قابل شناخت جرم کے بارے میں معلومات درج کرے اور اس کے پاس ایف آئی آر کے اندراج سے انکار کا کوئی اختیار نہیں ہے۔


مشہور خبریں۔
حسان خاور کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن کے پاس نمبرز پورے ہیں تو در بدر کی ٹھوکریں کیوں کھا رہی ہے
?️ 1 مارچ 2022لاہور: (سچ خبریں) حسان خاور کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن کے
مارچ
باکو اور ماسکو کا اسٹریٹجک اتحاد کو مضبوط کرنے اور راہداریوں کی ترقی کے لیے ایک بڑا قدم
?️ 20 جون 2026سچ خبریں: ماسکو اور باکو کے درمیان تعلقات نیک ہمسایگی، دوستی اور باہمی
جون
بھارت کے غیرذمہ دارانہ بیانات کے باوجود بلاول بھٹو گووا جائیں گے، دفترخارجہ
?️ 29 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے
اپریل
عراق کا سیاسی اور اقتصادی کنٹرول امریکہ کے ہاتھ سے باہر
?️ 1 اکتوبر 2023سچ خبریں:عراق میں الفتح اتحاد کے قائدین میں سے ایک عائد صاحب
اکتوبر
پی ٹی آئی کو عدالتوں سے کیا ملا؟؛بیرسٹر گوہر خان کی زبانی
?️ 26 جون 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ بیرسٹر گوہر
جون
جدہ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
?️ 8 اگست 2023سچ خبریں:جدہ اور یوکرین کے بارے میں دنیا کے 40 ممالک کے
اگست
بالی ووڈ کو ایک اور جھٹکا سشانت سنگھ کے ساتھی اداکار نے کی خود کشی
?️ 16 فروری 2021نئی دہلی {سچ خبریں} بالی ووڈ فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے
فروری
آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی پیشرفت کو حوصلہ افزا قرار دے دیا
?️ 29 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی پیشرفت
مارچ