?️
اسلام آباد(سچ خبریں) حکومت پنجاب نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے 800 سے زائد کارکنوں کو دو ہفتوں کے احتجاج کے بعد ہونے والے معاہدے کے کئی دنوں بعد رہا کردیا پنجاب کے وزیر قانون اور پارلیمانی امور راجا بشارت نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ رہا کیے گئے افراد میں وہ شامل ہیں جنہیں 12 ربیع الاول کو شروع ہونے والے احتجاج پر چھاپوں کے دوران حراست میں لیے گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان کو اسکروٹنی کے بعد رہا کیا گیا ہے اور جن کارکنوں کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی ہے انہیں عدالت سے ضمانت حاصل کرنی پڑےگی۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ یہ فیصلہ کرنا باقی ہے کہ ٹی ایل پی کے وہ کارکن جنہیں ایم پی او 1960 کے تحت گرفتار کیا گیا تھا وہ رہا ہوں گے۔
خیال رہے کہ ٹی ایل پی نے سربراہ حافظ سعد رضوی کی رہائی کے لیے 20 اکتوبر کو لاہور میں احتجاج شروع کیا تھا، جنہیں 12 اپریل کو حکومت پنجاب کی جانب سے ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
تاہم ٹی ایل پی کے رہنما پیر اجمل قادری نے بعد میں کہا تھا کہ یہ اقدام پیغمبراسلامﷺ کے احترام کے لیے تھا جبکہ سعد رضوی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
ہور میں تین روز تک پولیس کے ساتھ جھڑپون کے بعد ٹی ایل پی نے 22 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کردیا تھا، اسی دوران لاہور، گجرانوالا اور گرینڈ ٹرنک (جی ٹی) روڈ میں 5 پولیس اہلکار شہید اور دونوں اطراف سے کئی افراد زخمی ہوگئے تھے۔
ٹی ایل پی کی قیادت نے 30 اکتوبر کو اپنے کارکنوں کو وزیرآباد میں مزید احکامات تک انتظار کرنے کی ہدایت کی تھی اور دوسری طرف حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئےتھے۔
اتوار کو حکومت مذاکراتی ٹیم نے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم تنظیم کے ساتھ ان کا معاہدہ ہوگیا ہے لیکن تفصیلات بتانے سے انکار کیا تھا۔
مذاکرات میں دیگر علمائے کرام کے ساتھ کلیدی کردار ادا کرنے والے مفتی منیب الرحمٰن نے کہا تھا کہ معاہدے کی تفصیلات مناسب وقت پر عام کردی جائیں گی۔
انہوں نے کہا تھا کہ اگلے ہفتے 10 دنوں کے اندر قوم مثبت نتائج دیکھے گی اور تفصیلات بتانے سے منع کرتےہوئے کہا تھا الفاظ کی آواز سے زیادہ عمل کی آواز غالب ہوتی ہے۔
ذرائع کےمطابق حکومت نے ٹی ایل پی قیادت کو یقین دلایا ہے کہ وہ کالعدم تنظیم کے اکاؤئنٹس اور اثاثے بحال کردیے جائیں گے اور حکومت ٹی ایل پی قیادت اور کارکنوں کے خلاف معمولی کیسز جاری نہیں رکھے گی لیکن انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔
وفاقی وزیراطلاعات و نشریات کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی جلد ہی سنی تحریک کی طرح بن جائے گی، سنی تحریک نے 2012 میں سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا۔
ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مذہبی انتہا پسند گروپ کشیدگی کے لیے ہجوم استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن سیاست میں ان کی سرگرمیاں ہمیشہ محدود ہوجاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک وقت زیادہ سنی تحریک تشدد پسند تھی لیکن اس طرح کی پارٹی کے ساتھ اتحاد کا مطلب عالمی سطح پر تنہائی ہوگی۔


مشہور خبریں۔
آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس، ہر قیمت پر دہشتگردی کو ختم کرنے کا عزم
?️ 5 اپریل 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) چیف آف آرمی اسٹاف عاصم منیر کی زیر صدارت
اپریل
ہم صیہونیوں سے ڈرنے والے نہیں :حزب اللہ
?️ 28 جون 2022سچ خبریں:لبنان کی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے نمائندے نے کہا کہ
جون
اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں: چیئرمین سینیٹ
?️ 11 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں)چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے
مئی
یمن پر امریکی حملوں کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
?️ 21 جنوری 2024سچ خبریں:یمن کی وزارت خارجہ کو صیہونی حکومت کے بحری جہازوں یا
جنوری
صہیونی ڈاکٹر بھی فلسطینی مریضوں کے مجرم
?️ 12 جولائی 2022سچ خبریں:انسانی حقوق کی حمایت کرنے والے ڈاکٹروں کی تنظیم نے اپنی
جولائی
پاکستان نے بھارت کی تردید مسترد کر دی
?️ 9 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری کی جانب سے
جولائی
Tour showcases shared art history of Indonesia and Singapore
?️ 29 اگست 2022Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such
اگست
سعودی عرب اور امارات امریکی ہتھیاروں سے محفوظ نہیں : المشاط
?️ 16 اگست 2022سچ خبریں: سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ اور یمن کی مسلح
اگست