ٹرانس جینڈر ایکٹ خود منظور کیا تو عدالت کیا لینے آئے ہیں؟ عدالت کا جے یو آئی وکیل سے سوال

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی شرعی عدالت نے جمعیت علمائے اسلام (پاکستان) کی ٹرانس جینڈر ایکٹ کے خلاف درخواستوں میں فریق بننے کی درخواست منظور کرتے ہوئے دیگر درخواستوں کے ساتھ منسلک کردیا۔

وفاقی شرعی عدالت میں ٹرانس جینڈر ایکٹ کے خلاف جے یو آئی (پاکستان) کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

دوران سماعت جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سینیٹر اور سینئر وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ قانون کے خلاف دیگر درخواستیں پہلے سے زیر سماعت ہیں جس پر قائم مقام چیف جسٹس شریعت کورٹ سید محمد انور نے سوال کیا کہ آپ کی درخواست میں نیا کیا ہے؟ کامران مرتضیٰ نے جواب دیا کہ ہم اپنی جماعت کی نمائندگی چاہتے ہیں۔

قائم چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا جے یو آئی قانون کی منظوری میں شامل تھی؟ جس پر کامران مرتضیٰ نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی نے ٹرانس جینڈر ایکٹ کی حمایت کی تھی۔

قائم مقام چیف جسٹس نے کہا کہ جب قانون خود منظور کیا تو عدالت کیا لینے آئے ہیں؟ کیا یہ جے یو آئی ذمہ داری نہیں تھی کہ جائزہ لے کر قانون بناتے؟

قائم مقام چیف جسٹس سید محمد انور نے کہا کہ جے یو آئی کو پانچ سال بعد یاد آیا جب ایک درجن درخواستیں عدالت آچکی ہیں، اس پر جے یو آئی کے وکیل نے کہا کہ ہم نے قانون میں جنس کی تبدیلی کے اختیار کی شق چیلنج کی ہے، جس پر شریعت کورٹ کے جج نے کہا کہ جس شق کا حوالہ دے رہے ہیں وہ غلط ہے، لگتا ہے آپ نے قانون پڑھا ہی نہیں۔

کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ترمیمی بل بھی جمع کروا دیا ہے، آج پرائیویٹ ممبر ڈے پر بل پیش کیا جائے گا۔

قائم مقام چیف جسٹس نے مزید استفسار کیا کہ پانچ سال پہلے آپ کو نہیں پتا تھا کہ قانون کا غلط استعمال ہوگا؟ جس پر جے یو آئی کے وکیل نے کہا کہ اندازہ ہے کہ عدالت آنے میں تاخیر ہوگئی ہے۔

جسٹس سید محمد انور نے کہا کہ عدالت آنے کے بجائے آپ کو پارلیمان میں بولنا چاہیے تھا۔

شریعت کورٹ نے جے یو آئی کی درخواست دیگر درخواستوں کے ساتھ منسلک کر کے ٹرانس جینڈر ایکٹ کے خلاف تمام درخواستوں پر سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے 2018 میں ٹرانس جینڈر کو قانونی شناخت دینے کے لیے ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹ) ایکٹ منظور کیا تھا، اس ایکٹ کے تحت خواجہ سراؤں کے ساتھ کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک کرنے والا شخص سزا کا مرتکب ہوگا۔

یاد رہے کہ یہ قانون 25 ستمبر 2012 کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بنایا گیا تھا، اس قانون میں کہا گیا تھا کہ خواجہ سراؤں کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جن کی آئین ضمانت دیتا ہے، خواجہ سرا معاشرے کے دیگر افراد کی طرح حسب معمول زندگی گزار سکتے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا تھا، یہ درخواست اسلامی ماہر قانون ڈاکٹر محمد اسلم خاکی کی طرف سے دائر کی گئی تھی، جس میں ’ہرمافروڈائٹ بچوں‘ کی آزادی کی درخواست کی گئی تھی تاکہ وہ بھیک مانگنے، ناچنے اور جسم فروشی کے بجائے ’باعزت طریقے‘ سے زندگی بسر کر سکیں۔

قومی اسمبلی نے ٹرانس جینڈر کو قانونی شناخت دینے کے لیے ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹ) ایکٹ منظور کیا تھا، اس ایکٹ کے تحت خواجہ سراؤں کے ساتھ کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک کرنے والا شخص سزا کا مرتکب ہوگا۔

گزشتہ ماہ وفاقی شرعی عدالت نے 2018 سے نافذ العمل ٹرانس جینڈر ایکٹ کو ’اسلامی احکام کے منافی‘ قرار دے کر چیلنج کرنے والے متعدد افراد کو اس قانون کے خلاف درخواستوں میں فریق بننے کی اجازت دی تھی۔

ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کے خلاف دائر کردہ درخواست میں پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر، جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد اور خواجہ سرا الماس بوبی نے استدعا کی تھی کہ درخواستوں پر سماعت کے دوران انہیں دلائل دینے کی اجازت دی جائے۔

گزشتہ ہفتے سینیٹ میں مخنث افراد کے حقوق اور تحفظ سے متعلق پیش کیے گئے ترمیمی بل 2022 کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

امید ہے کہ الجزائر کا سربراہی اجلاس اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو روک دے گا: ہنیہ

?️ 24 دسمبر 2021سچ خبریں:  اسماعیل ہنیہ نے الجزائر میں الشروق ٹیلی ویژن کو بتایا

صیہونیوں کا حزب اللہ کے کمانڈر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

?️ 23 نومبر 2024سچ خبریں:عبری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت

صیہونی حکومت پر ایران کے حملے سے پاکستانی عوام خوش

?️ 2 اکتوبر 2024سچ خبریں: مقبوضہ علاقوں پر ایران کے میزائل حملے کی وجہ سے دنیا

وزیر خزانہ کی دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کی ترقی میں شامل ہونے کی دعوت

?️ 28 اپریل 2025واشنگٹن: (سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے دنیا بھر

اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف امریکی عوام کا شدید احتجاج، امریکا کی جانب سے ہر طرح کی امداد بند کرنے کا مطالبہ

?️ 3 جون 2021واشنگٹن (سچ خبریں)  اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف جہاں دنیا بھر میں

بنگلادیش ایئرلائنز کی پرواز 14 سال بعد کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ کرگئی

?️ 29 جنوری 2026کراچی (سچ خبریں) پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 14 سال بعد

سندھ کا ارسا کو دوسرا مراسلہ، ٹی پی لنک کینال فوری بند کرنے کی درخواست

?️ 18 اپریل 2025کراچی: (سچ خبریں) سندھ نے پنجاب پر تونسہ پنجند لنک کینال سے

بھارتی حکومت ، عدلیہ کے غیر قانونی فیصلوں سے جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، حریت کانفرنس

?️ 16 دسمبر 2023سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے