نیب ترامیم کالعدم قرار دیے جانے کے بعد بند کرپشن کیسز بحال

?️

لاہور: (سچ خبریں) پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے قومی احتساب آرڈیننس میں کی گئی ترامیم کے نتیجے میں بند کیے گئے مقدمات احتساب عدالتوں نے دوبارہ بحال کر دیے جب کہ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے ان ترامیم کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق سابق چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے 15 ستمبر کو ان ترامیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نیب کو 7 روز کے اندر مقدمات بحال کرنے کی ہدایت کی تھی۔

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمات اسلام آباد، راولپنڈی اور کوئٹہ کی احتساب عدالتوں کو واپس بھیج دیے گئے ہیں۔

نیب پراسیکیوشن  نے 80 مقدمات کا ریکارڈ احتساب عدالت اسلام آباد میں جمع کرایا۔

واضح رہے کہ ترمیم شدہ قانون کے تحت نیب کے دائرہ اختیار میں کمی کے باعث احتساب عدالتوں کے 2 ججوں کا تبادلہ کردیا گیا تھا۔

مقامی احتساب عدالت کو بھیجے گئے مقدمات میں پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے خلاف پارک لین کیس، سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور دیگر کے خلاف یونیورسل سروسز فنڈز کیس، قومی اسمبلی کے اسپیکر راجا پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور پروجیکٹس کیس، سابق چیئرپرسن فرزانہ راجا کے خلاف بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیس سمیت دیگر کیسز شامل ہیں۔

سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے خلاف ریفرنسز، آصف زرداری اور اومنی گروپ کے ڈائریکٹرز کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیسز بھی بحال ہوگئے ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ہدایت کی تھی کہ نیب اور دیگر تمام فورمز فوری طور پر ایسے تمام مقدمات کا ریکارڈ سات روز کے اندر متعلقہ فورمز کو واپس بھیجیں اور ان مقدمات پر قانون کے مطابق اسی مرحلے سے کارروائی کی جائے جہاں انہیں بند کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریری حکم میں کہا کہ نیب ترمیمی سیکشن 3 اور سیکشن 4 سے متعلق کی گئی ترامیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں، عوامی عہدے رکھنے والوں کے حوالے سے نیب قانون پر لگائی گئی حد اور 50 کروڑ کی حد ترامیم کو کالعدم کیا جاتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے مقدمات بحال کیے جاتے ہیں تاہم آمدن سے زیادہ اثاثہ جات والی ترامیم سرکاری افسران کی حد تک برقرار رہیں گی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم بھی کالعدم قرار دی جاتی ہے اور ترامیم کی روشنی میں احتساب عدالتوں کی جانب سے دے گئے احکامات بھی کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نیب 7 دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں کو بھیجے، اس کے ساتھ تمام تحقیقات اور انکوائریز بھی بحال کی جاتی ہیں اور وہی سے عمل شروع ہوگا جہاں پر اس سے ختم کردیا گیا تھا۔

تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ کرپشن اور بے ایمانی کی تعریف کے حوالے سے کی گئی ترمیم اور پہلی ترمیم کا سیکشن 8 بھی کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

مشہور خبریں۔

انتخابات کیلئے درکار فنڈز نہیں ملے، الیکشن کمیشن

?️ 29 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سپریم

اطالوی انسانی حقوق کے کارکنوں نے صیہونی حکومت کے خلاف شکایت درج کرائی

?️ 22 اکتوبر 2025سچ خبریں: روم کے پراسیکیوٹر آفس نے اسرائیلی غاصب حکومت کے خلاف

سینیٹ میں یوم آزادی کی مناسبت سے قرارداد منظور، اکابرین کو خراج عقیدت

?️ 15 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سینیٹ میں یوم آزادی کی مناسبت سے متفقہ

قاہرہ نے تل ابیب سے مصری فوجیوں کی اجتماعی قبر کے بارے میں وضاحت کا مطالبہ کیا

?️ 11 جولائی 2022سچ خبریں:    مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور اسرائیلی وزیر اعظم یائر

26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی ڈھانچہ تباہ ہو چکا.

?️ 21 جولائی 2025لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ

سومالی لینڈ کے عوام کا اسرائیل کی موجودگی کے خلاف مظاہرہ

?️ 29 دسمبر 2025سچ خبریں: سومالی لینڈ کے علاقے بوراما کے قبائلیوں نے اسرائیل کو تسلیم

زهران ممدانی کون ہے؟ جو نیویارک کا میئر بنا 

?️ 5 نومبر 2025سچ خبریں: زهران ممدانی نئی یارک شہر کے پہلے مسلمان میئر ہیں جنہوں

بھارت نے مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر مذاکرات کی پیشکش کی تھی

?️ 25 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) سرکاری حلقوں نے تصدیق کی ہے کہ بھارت نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے