?️
راولپنڈی: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو فوری طور پر رہا کرنے کے علاوہ کسی اور کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے سماعت کی۔
شاہ محمود قریشی کی جانب سے گوہر بانو اور وکیل تیمور ملک عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ سرکار کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔
سرکاری وکیل نے دلائل کے لیے مہلت کی استدعا کی جس پر عدالت نے ایک گھنٹے کے بعد دلائل دینے کی ہدایت کر دی۔
عدالت نے کہا کہ اگر شاہ محمود قریشی کے خلاف شواہد موجود ہیں تو عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں۔
سابق وزیر خارجہ کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے شاہ محمود قریشی کی نظربندی ختم کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا، اس کو چھوڑ دیں، مستقبل میں ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے۔
جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے ریمارکس دیے کہ ہر چیز مذاق نہیں ہوتی۔
عدالت نے شاہ محمود قریشی کو فوری طور پر رہا کرنے اور کسی اور کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ شاہ محمود قریشی سے کوئی بیان حلفی بھی نہ لیا جائے۔
بعد ازاں شاہ محمود قریشی کی رہائی کے احکامات جیل حکام کو موصول ہوگئے، ان کی رہائی کی روبکار ان کے وکیل لیکر اڈیالہ جیل پہنچے جس کے بعد کچھ دیر تک ان کو جیل سے رہا کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب شاہ محمود قریشی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات لینے کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، جسٹس علی باقر نجفی نے شاہ محمود قریشی کی بیٹی گوہر بانو کی درخواست پر سماعت کی۔
پولیس نے شاہ محمود قریشی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کردی جن کے مطابق شاہ محمود قریشی کے خلاف پنجاب کے مختلف تھانوں میں 9 مقدمات درج ہیں، ان کے خلاف ملتان میں 5 اور لاہور میں شاہ محمود قریشی کیخلاف 4 مقدمات درج ہیں۔
عدالت نے پولیس رپورٹ کی روشنی میں شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی کی درخواست نمٹا دی۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ’پر تشدد مظاہروں کو ہوا دینے‘ کے الزام میں10 مئی کو رات گئے اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا تھا۔
ان کی گرفتاری کے بعد پولیس نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریاں ’امن و امان کو خراب کرنے کے لیے پوری منصوبہ بندی سے پر تشدد مظاہروں اور جلاؤ گھیراؤ کو بڑھکانے کے الزام میں کی گئیں‘۔
پولیس نے یہ بھی کہا تھا کہ گرفتاریاں تمام تر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے کی گئیں۔
18 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے شاہ محمود قریشی کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پروکلا کے دلائل سننے کے بعد 3 ایم پی او کے تحت ان کی گرفتار کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
بعدازاں 23 مئی کو شاہ محمود قریشی کا رہائی کا حکم دیا گیا تھا تاہم اڈیالہ جیل کے باہر سے انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ’ دوبارہ گرفتاری کے ایک روز بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کو پولیس نے بتایا تھا کہ وہ اس بات سے لاعلم ہے کہ پی ٹی آئی رہنما اس وقت کہاں ہیں تاہم ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا تھا کہ شاہ محمود قریشی ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے تھری ایم پی او کے تحت احکامات پر اڈیالہ جیل میں ہیں۔
27 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی ایم پی او کے تحت گرفتاریوں کو غیر قانونی قرار دیا تھا تاہم وہ اب تک جیل میں تھے۔


مشہور خبریں۔
امریکی صدارتی انتخابات کے انگلینڈ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
?️ 29 جنوری 2024سچ خبریں: ہینڈلزبلاٹ اخبار نے اپنے ایک مضمون میں انگلینڈ اور ملکی
جنوری
کورونا سے بچنے کے لئے صدر مملکت کی تجویز
?️ 6 اپریل 2021اسلام آباد (سچ خبریں) کورونا وائرس کی تیسری لہر نے دنیا بھر
اپریل
ترکی میں جعلی تعلیمی دستاویزات اور سرٹیفکیٹس پر بڑے پیمانے پر اسکینڈل اور رسوائی
?️ 6 اگست 2025سچ خبریں: ترکی میں جعلی تعلیمی دستاویزات کے ایک بڑے نیٹ ورک
اگست
اسٹیل مل بند ہوگی نہ نجکاری، اسے چلایا جائے گا، شرجیل میمن
?️ 30 مئی 2024کراچی: (سچ خبریں) وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ
مئی
کورونا اور انفلوئنزا کی وباء کے باوجود فرانسیسی ڈاکٹروں کی ہڑتال میں توسیع
?️ 4 جنوری 2023سچ خبریں:فرانسیسی ڈاکٹروں نے تنخواہوں میں اضافہ اور کام کے بہتر حالات
جنوری
آئرلینڈ کے صحافیوں نے کام کی ہڑتال کی
?️ 1 ستمبر 2022سچ خبریں: نیشنل یونین آف جرنلسٹس کے ارکان بدھ کے روز
ستمبر
عون عباس بپی کی سینیٹ آمد، چیئرمین نے اعجاز چوہدری کو پیش نہ کرنے کا معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیج دیا
?️ 8 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ اجلاس میں پی ٹی آئی کے گرفتار
مارچ
Smelter-grade alumina production reaches 2 million tons: Local firm
?️ 16 اگست 2021Dropcap the popularization of the “ideal measure” has led to advice such