?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام اور سیاسی قیدیوں بشمول بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے ہماری کوششوں کے اثرات اگلے 10 سے 15 دنوں میں ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنماؤں محمود مولوی، عمران اسمٰعیل اور فواد چوہدری حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات پر زور دیتے رہے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ ہماری کوششوں کا مقصد ملک میں سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنا اور عمران خان کی رہائی کی راہ ہموار کرنا ہے، جو 2023 سے جیل میں قید ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر کی گئی پوسٹ میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ پاکستان میں سیاست میں ٹھہراؤ اور عمران خان سمیت سیاسی اسیران کی رہائ کے لیے شروع کی جانیوالی کوششوں کو بڑی ابتدائی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور اس کے اثرات اگلے 10 سے 15 دنوں میں واضع ہونا شروع ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے سمیت عمران اسمٰعیل اور محمود مولوی یہ کوشش پاکستان کے سیاسی استحکام کے لیے کر رہے ہیں، انشاللہٰ وہ وقت قریب ہے جب فاصلے کم ہوتے نظر آئیں گے، پاکستان کے سیاسی استحکام اور طویل المدتی ترقی کے سفر کے لیے سیاسی تلخیاں کم ہونا ضروری ہیں۔
یاد رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ پر گزشتہ روز کی گئی ایک پوسٹ میں کہا گیا ’وہ نہ حکومت سے بات کریں گے اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ سے‘۔
اگرچہ یہ واضح نہیں کہ بانی پی ٹی آئی کے جیل میں ہونے کے باوجود ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کون چلاتا ہے، لیکن ان کے ایکس اکاؤنٹ پر اکثر ایسی پوسٹس ہوتی ہیں جنہیں جیل سے عمران خان کے پیغامات کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
اپنی پوسٹ میں بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ محمود خان اچکزئی اور راجا ناصر عباس کریں گے، جو پی ٹی آئی کے ساتھ اپوزیشن اتحاد ’تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان‘ کا حصہ ہیں۔
اس پوسٹ میں عمران نے یہ بھی کہا کہ انہیں پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا پر مکمل اعتماد ہے، جن پر حالیہ دنوں میں فواد چوہدری نے تنقید کی تھی۔
سیاسی رابطہ مہم
فواد چوہدری، عمران اسمٰعیل اور مولوی محمود کی حالیہ سرگرمیاں اس وقت نمایاں ہوئیں جب انہوں نے گزشتہ ہفتے لاہور کے ایک ہسپتال میں پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔
تاہم، اطلاعات کے مطابق یہ ملاقات بے نتیجہ رہی، کیونکہ شاہ محمود قریشی کے وکیل نے بتایا کہ اُن کی موکل کے ساتھ کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی ان کئی پی ٹی آئی رہنماؤں میں شامل ہیں جو 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق مقدمات میں قید ہیں۔
سابق وزیر خارجہ کو علاج کے لیے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ منتقل کیا گیا تھا، جہاں تینوں سابق رہنماؤں نے ان سے ملاقات کی۔
قریشی کے وکیل رانا مدثر کے مطابق شاہ محمود قریشی انہیں دیکھ کر حیران ہوئے اور فوراً پولیس کو کہا کہ اُن کے وکیل کو واپس بلائیں، لیکن جب تک میں پہنچا، یہ مہمان جاچکے تھے، تقریباً 10 منٹ تک جاری رہنے والی ملاقات میں کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔
تاہم سابق پی ٹی آئی رہنماؤں کا اصرار ہے کہ شاہ محمود قریشی نے ان سے اتفاق کیا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں تعطل ختم ہونا چاہیے اور انہوں نے اس مقصد کے لیے جیل میں موجود ایک اور پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری سے بھی ملاقات کی۔


مشہور خبریں۔
مقامی گیس اور ایل این جی کے شعبے میں گردشی قرضہ بہت زیادہ ہوگیا، سیکریٹری پیٹرولیم
?️ 29 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) سیکریٹری پیٹرولیم مومن آغا نے کہا ہے کہ
دسمبر
کیا پاکستان ایران اور چین کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے امریکہ کے دباؤ میں ہے؟
?️ 23 مئی 2023سچ خبریں:پاکستان کے اپنے اہم ہمسایہ ممالک ایران اور چین کے ساتھ
مئی
وزیر اعظم نے چینی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ کیا
?️ 16 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے چینی ہم
جولائی
امن کے نقطہ نظر سے متعلق امریکی دعوؤں کے بارے میں یمنیوں کا نظریہ
?️ 11 جولائی 2021سچ خبریں:یمنی قومی نجات حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن نے
جولائی
وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کے فیز ٹو کی توسیع کی منظوری دے دی
?️ 20 اکتوبر 2025کراچی: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی سیف
اکتوبر
اگلے تین ماہ کے دوران 18 ملین افراد کو خوراک کے عدم تحفظ کا خطرہ: اقوام متحدہ
?️ 23 مئی 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افریقی ساحلی علاقوں میں
مئی
اسرائیلی کرنسی کا زوال شروع
?️ 24 ستمبر 2024سچ خبریں: کیلکالسٹ اخبار کے مطابق حزب اللہ کی طرف سے مقبوضہ
ستمبر
امریکی سینیٹرز: صحافیوں کے قتل کے لیے امریکا اور اسرائیل جوابدہ نہیں
?️ 12 دسمبر 2025سچ خبریں: متعدد امریکی سینیٹرز اور کانگریس کے ارکان نے اعلان کیا
دسمبر