حکومت کے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل کے خلاف احتجاج کرنے والے بلوچ مظاہرین سے مذاکرات جاری

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج کرنے والے بلوچ مظاہرین مذاکرات جاری ہیں۔

وفاقی سیکریٹری داخلہ آفتاب اکبر درانی نے اسلام آباد میں جاری احتجاج کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کے مظاہرین سے مذاکرات جاری ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پر امن احتجاج کا ہر پاکستانی شہری کو حق حاصل ہے، وزیر اعظم کی ہدایت پر یقینی بنایا گیا ہے کہ مظاہرین کو کسی بھی قسم کے تشدد یا ہراسگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے گی، عدالتی احکامات پر عملدر آمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچ مظاہرین نے حکومت حراست میں لیے گئے تمام مظاہرین کی فوری رہائی اور ان پر عائد الزامات کو ختم کرنے کے لیے تین روز کا الٹی میٹم دیا تھا۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے میڈیا کو جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا حراست میں لیے گئے 100 سے زائد ارکان کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا اور وہ ابھی تک لاپتا ہیں۔

بلوچ یکجہتی کونسل کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ تقریباً 350 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 33 کو ضمانت مل گئی، 250 سے زائد اب بھی جیل میں ہیں اور 100 سے زائد کو ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور وہ اب بھی لاپتا ہیں۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ہم ریاست کو تین دن کا الٹی میٹم جاری کر رہے ہیں کہ پرامن مظاہرین کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آرز واپس لیں اور 100 سے زائد بلوچ طلبا کو رہا کیا جائے جو ابھی تک لاپتا ہیں۔

پریس ریلیز میں خبردار کیا گیا کہ اگر ان تمام گرفتار افراد کو رہا کر کے مقدمات ختم نہ کیے گئے تو مظاہرین انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوں گے جس کے لیے ریاست اور انتظامیہ ذمہ دار ہو گی۔

بلوچ یکجہتی کونسل نے مزید مطالبہ کیا کہ مختلف شہروں میں مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر بھی ختم کی جائیں۔

بعد ازاں رات گئے نگران وفاقی وزرا مرتضیٰ سولنگی، فواد حسن فواد، گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ اور آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی نے مظاہرین سے مذاکرات کیے۔

پاکستان ٹیلی ویژن سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مذاکرات بہت اچھے ماحول میں ہوئے جس میں دونوں فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور اتوار کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

اس سے قبل بلوچ مظاہرین نے اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے سامنے دھرنا دیا تھا اور بلوچ رہنما ڈاکٹر مہارنگ بلوچ نے پریس کانفرنس کے دوران مطالبہ کیا تھا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کمیشن بناتے ہوئے صوبے میں سی ٹی ڈی اور ڈیتھ اسکواڈز کا خاتمہ کیا جائے اور وزارت داخلہ پریس کانفرنس کر کے ان جرائم پر معافی مانگے۔

بلوچ خواتین کی زیرقیادت لانگ مارچ کا آغاز 6 دسمبر کو تربت میں محکمیہ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکاروں کے ہاتھوں ایک بلوچ نوجوان کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے بعد شروع ہوا تھا اور بدھ کو یہ مارچ وفاقی دارالحکومت پہنچا تھا۔

تاہم پولیس نے مظاہرین کو نیشنل پریس کلب تک روکنے شہر کی مرکزی شاہراؤں کو بند کردیا تھا اور پھر اسلام آباد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے مختلف علاقوں سے 200 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں، سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں کے ساتھ ساتھ وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور صدر مملکت عارف علوی نے بھی ان واقعات کی شدید مذمت کی تھی۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل کا یمن کے غیر فوجی ڈھانچوں پر حملے کا اعتراف 

?️ 18 اگست 2025سچ خبریں: صہیونی ریجیم کے ٹی وی چینل 12 نے رپورٹ دیا

مأرب جنگ کی تازہ ترین صورتحال

?️ 2 اپریل 2021سچ خبریں:یمنی انصاراللہ تحریک جمعرات کے روز مغربی مأرب میں نئے فوجی

پاکستان کا ہر فرد اگر درخت لگائے تو بہت بڑا انقلاب ہو گا

?️ 26 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہر

سعودی عرب کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے بارے میں اہم بیان

?️ 22 فروری 2022سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر حالات

موساد کا سربراہ اپنے واشنگٹن کے خفیہ دورے میں کیا ڈھونڈ رہا تھا؟

?️ 1 اگست 2023سچ خبریں:دو امریکی ذرائع نے Axios ویب سائٹ کو بتایا کہ موساد

شہید نصراللہ کی فتح کی پیشینگویی سچ ثابت ہوگی : فیصل کرامی

?️ 17 اکتوبر 2024سچ خبریں: لبنان میں الکرامہ تحریک کے سربراہ اور اس ملک کے

مصر صیہونی تعلقات میں بحران

?️ 22 اگست 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیر جنگ بینی گینٹز نے کہا کہ صیہونی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے