حکومت نے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور کروا لیا

عمران خان

?️

اسلام آباد(سچ خبریں) اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود ایوان بالا میں اسٹیٹ بینک ترمیمی بل صرف ایک ووٹ کی اکثریت سے منظور ہوگیا، یوں حکومت ضمنی مالیاتی بل سمیت عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جائزے کے لیے درکار دونوں بلز منظور کرانے میں کامیاب رہی۔سینیٹ میں مذکورہ بل وزیر خزانہ شوکت ترین نے پیش کیا جس کے حق میں 43 جبکہ مخالفت میں 42 ووٹ آئے جس پر چیئرمین سینیٹ نے بل کو منظور قرار دیا۔

ایوانِ بالا کے اجلاس میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب رات گئے سینیٹ کے ایجنڈے میں شامل کیے جانے کے باوجود حکومت نے اپنے اراکین کی تعداد کم ہونے کے باعث اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پیش کرنے کے حوالے سے گریز کا مظاہرہ کیا۔

جس پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا کہ حکومت بل پیش ہی نہ کرے تو میں کیا کرسکتا ہوں، بل پیش کرنا میری ڈیوٹی نہیں، وزیر خزانہ ایوان میں آئیں۔

اس دوران اپوزیشن اراکین کی جانب سے احتجاج اور نعرے بازی کی گئی ساتھ ہی ایجنڈے کے مطابق بل پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا اور کہا گیا کہ اگر حکومت بل نہیں پیش کرنا چاہتی تو اسے وڈرا قرار دیا جائے۔

بعدازاں بل پیش کیے جانے پر چیئرمین سینیٹ نے گنتی کرائی اور ایک ووٹ کی اکثریت سے بل کو منظور قرار دے دیا اور اجلاس پیر کے روز تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

خیال رہے کہ سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن ارکان کی تعداد 57 ہے جبکہ حکومت ارکان کی تعداد 42 ہے، اپوزیشن ارکان میں دلاور خان گروپ کے 6 اراکین شامل ہیں، نزہت صادق کینیڈا میں اور مشاہد حسین سید کورونا سے متاثر ہونے کی وجہ سے اجلاس میں نہیں آسکے۔

تحریک کی منظوری کے بعد اے این پی کے سینیٹر عمر فاروق کاسی ایوان سے چلے گئے تھے، انہوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی ایوان میں موجود نہیں تھے۔اس کے علاوہ ایوان میں نیشنل میٹرولوجی انسٹیٹیوٹ آف پاکستان بل 2022 بھی منظور کیا گیا جو وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ایوان میں پیش کیا تھا۔

اس سے قبل حکومت کو اسٹیٹ بینک کا بل بدھ کو سینیٹ سے منظور کروانا تھا تاکہ آئی ایم ایف بورڈ 28 جنوری کو ہونے والے اپنے اجلاس میں چھٹے جائزے کی تکمیل پر غور کر سکے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔جس پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کی درخواست پر چھٹا جائزہ مکمل کرنے کا عمل مؤخر کردیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر نظرثانی کے لیے آئی ایم ایف بورڈ کی میٹنگ 12 جنوری کو ہونی تھی جسے پاکستان کی درخواست پر پیشگی اقدامات کے اطلاق کا وقت دینے کے لیے ری شیڈول کرکے 28 جنوری کیا گیا تھا۔

متنازع ضمنی فنانس بل 2021 المعروف منی بجٹ اور اسٹیٹ بنک ترمیمی بل دونوں کی منظوری اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کی 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت کے چھٹے جائزے کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری مل جائے۔

اس سے قبل وزارت فنانس کے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا تھا کہ حکومت کے پاس وقت نہیں سوائے اس کے کہ وہ بل کو ایوان بالا سے بلڈوز کرے، کیونکہ حکومت کے پاس سینیٹ میں اکثریت نہیں ہے جس کے باعث اس میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونی حکومت کے خلاف بالکان کے مسلمان سڑکوں پر

?️ 23 اکتوبر 2023سچ خبریں:فلسطین کے لیے پوری دنیا کے عوام کی حمایت کے تسلسل

امریکہ فوری طور پر تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرے: چین

?️ 27 اکتوبر 2024سچ خبریں: یو ایس ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے اعلان کیا کہ

فرانس کا عوامی قرضہ 2.8 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا

?️ 18 دسمبر 2021سچ خبریں: فرانسیسی اخبار لی فیگارو کے مطابق فرانسیسی ادارہ برائے شماریات اور

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی میں ایران مخالف قرارداد کی منظوری

?️ 6 جون 2024سچ خبریں: آج بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے گورننگ بورڈ

تہران اور ریاض کے درمیان معاہدے کے بعد سعودی عرب اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم

?️ 7 مئی 2023سچ خبریں: اگرچہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے

ہمارے ساتھ جو زیادتیاں ہونی تھیں وہ ہوچکیں اب انصاف ہونا چاہیے، بیرسٹر گوہر

?️ 30 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا

آئینی ترمیم کیلئے کہا گیا اتوار کو ہی کرنی ہے ورنہ پیر کو آسمان گر جائے گا، مولانا فضل الرحمٰن

?️ 3 اکتوبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف)

مغربی کنارے میں خوف اور دہشت پھیلانے میں تل ابیب کی پالیسی

?️ 9 اپریل 2024سچ خبریں: المیادین نیٹ ورک نے اطلاع دی ہے کہ صہیونی عناصر نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے