?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی کیس کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں ہے، آئینی بینچ کے ججز نے مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت میں ریمارکس دئیے کہ پارلیمنٹ میں آنے والی جماعت میں آزاد امیدوار شامل ہوسکتے ہیں اور جو سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں نہ ہو اس میں کیسے آزاد لوگ شامل ہوسکتے ہیں لہٰذا سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آئینی بنچ نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی کیس کی براہ راست سماعت کی۔ وکیل مخدوم علی خان نے دلائل مکمل کر لئے۔سماعت کے آغاز پر جسٹس مسرت نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق سوال اٹھا دیئے،انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں پر کیسے دعویٰ کیا؟ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں کیسے مل سکتی ہیں؟
دوران سماعت متاثرہ خواتین ارکان کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی اپیل کو متفقہ طور پر مسترد کیا گیا۔ مخصو ص نشستوں پر منتخب ارکان کو ڈی نوٹیفائی کردیا گیا۔ ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے قبل کوئی نوٹس نہیں کیا گیا۔ وکیل مخدوم علی خان نے موقف اختیار کیا کہ ایس آئی سی کے مطابق آزاد امیدواران ان کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ کیا سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ لیا تھا؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے خود آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل پارلیمانی پارٹی بنا سکتی تھی لیکن مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں۔
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آزاد اراکین نے جیتی ہوئی پارٹی میں شامل ہونا تھا۔وکیل مخدوم علی خان نے دلائل دیئے کہ سنی اتحاد کونسل کی اپیل کو متفقہ طور پر مسترد کیا گیا، مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کو ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا، جبکہ ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے قبل نوٹس نہیں دیا گیا۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیا تھاجس پر وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت کے سامنے سنی اتحاد کونسل آرٹیکل 185/3 میں آئی تھی۔
مخدوم علی خان نے موقف اپنایا کہ نوٹی فیکیشن سے اگر کوئی متاثرہ ہوتا تھا تو عدالت کو نوٹس کرنا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے میں آرٹیکل 225 کا ذکر تک نہیں ہے، حالانکہ آرٹیکل 225 کے تحت کسی الیکشن پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ آرٹیکل 225 کا اس کیس میں اطلاق کیسے ہوتا ہے؟۔جسٹس محمد علی مظہر نے وضاحت کی کہ یہ معاملہ مخصوص نشستوں کا ہے اور مخصوص سیٹیں متناسب نمائندگی پر الاٹ ہوتی ہیں۔
جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ مخصوص نشستوں کی فہرستیں الیکشن سے قبل جمع ہوتی ہیں اور کاغذات نامزدگی پر غلطی کی صورت میں معاملہ ٹریبونل کے سامنے جاتا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر آپ کی دلیل مان لیں تو پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار نہیں تھا۔ مخدوم علی خان نے کہا کہ اس وقت تک مخصوص ارکان کے نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ آئین و قانون سے برعکس فیصلہ ناقص ہوگا، اور عدالت کی ذمہ داری ہے کہ اس غلطی کو درست کیا جائے۔
جسٹس امین الدین نے کہا کہ یہ عدالت نے طے کرنا ہے کہ جواب الجواب کا حق دینا ہے یا نہیں۔کل سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی دلائل دیں گے۔ بعدازاں عدالت نے مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔


مشہور خبریں۔
کیا ترک انتخابات جیتنے کے بعد اردگان اپنا راستہ بدل لیں گے؟
?️ 30 مئی 2023سچ خبریں:اب جبکہ اردگان مزید 5 سال اقتدار میں ہیں، ہر کوئی
مئی
صیہونی حکومت مغربی کنارے اور بیت المقدس میں مقاومت کے پھیلنے سے خوفزدہ
?️ 8 دسمبر 2021سچ خبریں: عبرانی اخبار Haaretz نے منگل کے روز رپورٹ کیا کہ
دسمبر
تمام عراقی فلسطین کی حمایت کرتے ہیں:عراقی وزیر داخلہ
?️ 27 اپریل 2023سچ خبریں:عراقی وزیر داخلہ نے فلسطینی عہدیدار سے ملاقات کے دوران اس
اپریل
مغربی ممالک میں مہنگائی ان کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہے: پیوٹن
?️ 10 جون 2022سچ خبریں: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس
جون
جام کمال کا اپوزیشن میں بیٹھنے پر رضا مندی کا اظہار
?️ 24 اکتوبر 2021کوئٹہ ( سچ خبریں ) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے اپوزیشن میں
اکتوبر
امریکی جاسوس ڈرونز کے لیے جہنم
?️ 10 ستمبر 2024سچ خبریں: یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے دو روز میں
ستمبر
وال اسٹریٹ جرنل کا اعتراف: ایران نے اسرائیل کے میزائل ڈیفنس سسٹم کو گھسنے کا راستہ تلاش کرلیا
?️ 16 جولائی 2025سچ خبریں: وال سٹریٹ جرنل اخبار نے صیہونی حکومت کے ساتھ 12
جولائی
امریکہ کی یوکرین کے لیے فوجی امداد کی معطلی بے رحمانہ ہے!:فرانسیسی سیاستدان
?️ 6 مارچ 2025 سچ خبریں:فرانس کی دائیں بازو کی سابقہ رہنما مارین لوپن نے
مارچ