’جنرل باجوہ کی الیکشن میں پی ٹی آئی کی مدد‘، عارف علوی سے منسوب بیان کی تردید جاری

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی جانب سے سینیٹ میں اور الیکشن کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مدد کے حوالے سے خود سے منسوب بیان کی تردید کردی ہے۔

ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق ڈاکٹر عارف علوی نے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اور ان کی ٹیم کی جانب سے سینیٹ میں اور الیکشن کے دوران پی ٹی آئی کی مبینہ مدد کے حوالے سے ان سے غلط طور پر منسوب بیان کا نوٹس لے لیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’مذکورہ بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر نقل کیا گیا ہے اور یہ خود ساختہ اور من گھڑت ہے‘۔

قبل ازیں ڈاکٹر عارف علوی سے منسوب یہ بیان گردش کررہا تھا کہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ اور ان کی ٹیم نے سینیٹ میں عمران خان کی مدد کی اور انہوں نے الیکشن میں بھی پی ٹی آئی کی مدد کی۔

انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ کی ویب سائٹ پر شائع خبر کے مطابق اپنے اعزاز میں دیے گئے ایک عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ انہوں نے ’آڈیوز اور ویڈیوز کے کھیل‘ کے حوالے سے نئے آرمی چیف سے بات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے حیرت ہے کہ یہ سلسلہ کیوں جاری ہے، کسی بھی اخلاقی لحاظ سے یہ سلسلہ جاری نہیں رہنا چاہیے‘۔

خبر کے مطابق صدر عارف علوی نے کہا کہ انہوں نے آرمی چیف کے ساتھ مسلح افواج کی ’غیر جانبداری‘ کے حوالے سے بھی بات چیت کی۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر فوج نے سیاست چھوڑ دی ہے تو اب وقت آچکا ہے کہ اس صورتحال میں سیاست دان کنٹرول سنبھال لیں اور ایسے حالات پیدا کر دیں کہ آپ کو اُن (فوج) کی جانب نہ بھاگنا پڑے۔‘

عمران خان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) باجوہ پر عائد کیے گئے الزامات کے حوالے سے سوال پر عارف علوی نے کہا کہ ’اگرچہ دوسرے فریق کی جانب سے کہا جا رہا تھا کہ وہ نیوٹرل ہو چکے ہیں اور وہ لوگوں پر (ساتھ چھوڑنے کے لیے) دباؤ نہیں ڈال رہے تھے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ (اُن پر) کسی حد تک دباؤ ڈالا جا رہا تھا‘۔

ڈاکٹر عارف علوی سے سوال کیا گیا کہ عمران خان اور جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے درمیان تعلقات کیوں اور کب خراب ہوئے، عارف علوی نے کہا کہ وہ ابھی تک اس کا جواب تلاش کر رہے ہیں لیکن یہ غالباً گزشتہ برس اکتوبر میں اور پھر رواں برس اپریل یا مئی میں ایسا ہوا۔

’دی نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق صدر عارف علوی نے مزید کہا کہ ’تاہم مجھے اس بات کا علم ہے کہ جنرل باجوہ اور ان کی ٹیم نے سینیٹ میں عمران خان کی مدد کی تھی اور انہوں نے انتخابات کے دوران بھی پی ٹی آئی کی مدد کی تھی‘۔

واضح رہے کہ حریف جماعتوں کی جانب سے پی ٹی آئی پر وقتاً فوقتاً یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کو سیاسی قوت بنانے اور انتخابات جتوانے میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ رہا ہے۔

گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور ایاز صادق نے ایک بیان میں سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی فتح کو یقینی بنانے میں اپنے کردار کو واضح کریں۔

مشہور خبریں۔

بھتے کی پرچیاں؛ سندھ حکومت کا وفاقی وزیر داخلہ کو آن بورڈ لینے کا فیصلہ

?️ 18 دسمبر 2025کراچی (سچ خبریں) بلڈرز کو بھتے کی پرچیوں کا معاملہ، سندھ حکومت

لبنانی مزاحمت  جنگ کے ایک نئے مرحلے میں داخل

?️ 18 اکتوبر 2024سچ خبریں:لبنان کے چیمبر آف اسلامی مزاحمت نے آج جمعہ صبح ایک

نابلس پر صیہونیوں کا زبردست حملہ/جنین میں شوٹنگ آپریشن

?️ 20 فروری 2023سچ خبریں:مقامی ذرائع نے نابلس شہر پر قابض صہیونی فوج کے زبردست

غزہ سے متعلق؛ روس کی سلامتی کونسل سے ایک اہم درخواست

?️ 28 فروری 2024سچ خبریں:روسی فیڈریشن کے مستقل نمائندے واسیلی نیبنزیا نے سلامتی کونسل کے

افغانستان اور عراق پر امریکی حملوں کی قیمت

?️ 21 اکتوبر 2021سچ خبریں: جارج ڈبلیو بش اور ان کے علمبرداروں نے 2001 سے

وزیراعظم عمران خان کا شروع دن سے یہ موقف ہے کہ جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

?️ 3 مارچ 2022(سچ خبریں)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وزیر

تل ابیب اور ریاض کے درمیان براہ راست مذاکرات کی تردید

?️ 25 مئی 2023سچ خبریں:ٹائمز آف اسرائیل نے صیہونی حکومت کی قومی سلامتی کے مشیر

ریاض-واشنگٹن کے درمیان نئےدفاعی معاہدے

?️ 11 جون 2024سچ خبریں: بائیڈن حکومت ارستان کے ساتھ اپنا دفاعی معاہدہ مکمل کر رہی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے