تین برسوں میں تعلیمی اداروں پر ایک ہزار سے زائد حملے ہوئے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ آئین میں انسانی حقوق کو بنیادی حقوق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور آئین کا آرٹیکل 25 لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو تعلیم کا حق دیتا ہے، اس کے باوجود گزشتہ 3 برسوں کے دوران ملک بھر میں تعلیمی اداروں پر ایک ہزار سے زائد حملے کیے گئے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق وہ عالمی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد خواتین کیمپس میں پارلیمنٹرینز کمیشن فار ہیومن رائٹس (پی سی ایچ آر) کے تعاون سے انسانی حقوق کے عالمی دن کے سلسلے میں منعقدہ قومی سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔

ہفتے کے روز دنیا بھر میں ’وقار، آزادی اور انصاف سب کے لیے‘ کے عنوان سے عالمی دن منایا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اسلام ایک جامع اور ایسا مذہب ہے جس میں کسی انسان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ جاہل مرد ہی عورتوں پر تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قرآن پاک کے مطابق مرد، عورتوں کے محافظ ہیں، اسلام انسانیت کو ذات پات، مذہب اور رنگ کی تفریق کے بغیر عزت، آزادی اور انصاف دینے کی بہترین مثال ہے۔

یونیورسٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی عیسیٰ مہمان خصوصی تھے جب کہ چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت سید محمد انور، وزیر سیفران محمد طلحہٰ محمود اور وفاقی محتسب کشمالہ خان نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

پی سی ایچ آر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد شفیق چوہدری نے تقریب سے اپنے ابتدائی خطاب میں کہا کہ انسانی حقوق کا عالمی ڈیکلیریشن اب بھی اتنا ہی قابل عمل اور ضروری ہے جتنا کہ 1948 میں اس دن تھا جب اقوام متحدہ نے اس کا اعلان کیا تھا اور اسے منظور کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے تحفظ پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے اور تعلیمی ادارے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے شعور و آگاہی پھیلانے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس نے کہا کہ انسانی حقوق کا عالمی ڈیکلیریشن ایک جامع مسودہ ہے جسے آئین پاکستان میں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بحیثیت قوم اپنی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اپنی خامیوں پر بھی بات کرنی ہے، وفاقی شرعی عدالت نے قرار دیا ہے کہ گھریلو تشدد سے متعلق قوانین میں اسلامی تعلیمات کے خلاف کوئی شق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گھریلو تشدد غیر اخلاقی اور غیر انسانی فعل ہے جسے ختم ہونا چاہیے، انسانی حقوق اور اسلام ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں، اسلام میں گھریلو تشدد ممنوع ہے جبکہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ خواتین کے ساتھ خوش اخلاقی اور احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔

وفاقی وزیر سیفران نے کہا کہ ملک میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے، اسلام امن اور خوشحالی کا مذہب ہے جو خواتین کو آزادی اور وقار فراہم کرتا ہے۔

مشہور خبریں۔

پی ٹی آئی 9 جنوری کو اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر رضامند

?️ 8 جنوری 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی

بالاچ مولا بخش کا مبینہ ماورائے عدالت قتل: لانگ مارچ ڈیرہ غازی خان پہنچ گیا، 20 مظاہرین گرفتار

?️ 18 دسمبر 2023ڈیرہ غازہ خان: (سچ خبریں) بلوچستان کے شہر تربت میں محکمہ انسداد

بشار الاسد سے ملاقات ناممکن نہیں ہے: اردوغان

?️ 7 اکتوبر 2022سچ خبریں:    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے جمعرات کو

افغانستان میں امریکا کی ذلت آمیز شکست، حریت رہنما نے بڑا بیان جاری کردیا

?️ 20 اگست 2021سرینگر (سچ خبریں)  افغانستان میں امریکا کی ذلت آمیز شکست پر حریت رہنما

ٹرمپ کے "محکمہ جنگ” کے پس پردہ؛ برانڈنگ سے لے کر خارجہ پالیسی میں خطرناک موڑ تک

?️ 9 ستمبر 2025سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا جس کے

مشاف کے سائے میں اسرائیل کے پوشیدہ جرائم

?️ 22 اپریل 2025سچ خبریں: اردن اپنے جغرافیائی سیاسی محل وقوع، مقبوضہ فلسطین کے ساتھ

غزہ کے کینسر اور گردے کے مریض جنگ بندی کے ماسک کے پیچھے خاموشی سے مر رہے ہیں

?️ 7 جنوری 2026سچ خبریں: غزہ کے سرکاری عہدیداروں نے پٹی میں صحت کے نظام

محمد عفیف کی شہادت پر حزب اللہ کا بیان

?️ 18 نومبر 2024سچ خبریں:حزب اللہ نے اپنے انفارمیشن آفس کے سربراہ محمد عفیف النابلسی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے