?️
براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیشن نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف ان کیسز کی دوبارہ تحقیقات کرے گا
اسلام آباد(سچ خبریں) حکومت نے براڈ شیٹ انکوائری کمیشن کو 1990 سے کی جانے والی قانونی کاروائیوں اور بر آمدگی کی کوششوں سے متعلق انکوائری کرے گی کمیشن مقامی اور بین الاقوامی میں عدالتوں میں چلنے والے مقدمات اور اسکینڈل مثلاً پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف سرے محل اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کے ساتھ ساتھ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف ان کیسز کی دوبارہ تحقیقات کرے گا۔
کی ٹرمز آف ریفرنسز جاری کردیں جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے سابق جج عظمت سعید شیخ کریں گے، کمیشن کو 1990 سے منظر عام پر آنے والے میگا کرپشن کیسز کی تحقیقات کا اختیار دیا گیا ہے۔
کمیشن مقامی اور بین الاقوامی میں عدالتوں میں چلنے والے مقدمات اور اسکینڈل مثلاً پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف سرے محل اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کے ساتھ ساتھ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف ان کیسز کی دوبارہ تحقیقات کرے گا جن کا ذکر برطانوی اثاثہ برآمدگی کمپنی براڈ شیٹ نے کیا۔
ٹی او آر کی مرکزی شق کے مطابق کمیشن حکومت پاکستان کی جانب سے سال 1990 سے کی جانے والی ان قانونی کارروائیوں اور برآمدگی کی کوششوں سے متعلق واقعات اور کیسز کی شناخت کرے گا جو بیرونِ ملک غیر قانونی طور پر منتقل کیے گئے اثاثوں اور رقم کے لیے کی گئی لیکن بعد میں بند کردی گئی، چھوڑ دی گئی یا بغیر کسی ٹھوس وجہ کے واپس لے لی گئیں جس کے نتیجے میں ملک کو بڑا نقصان پہنچا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ انکوائری کمیشن کو کرپشن کے خطرے اور اعلیٰ سرکاری عہدوں کے حامل افراد کی بدعنوانیوں کی تحقیقات کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہےجس کے نتیجے میں اربوں ڈالر پاکستان سے بیرونِ ملک محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے اور پاکستان کے عوام کو ناقابل تلافی مالی نقصان پہنچا۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ کمیشن ان معاملات میں کارروائی کرے گا جس میں پاکستان کے عوام غیر قانونی طور پر بیرونِ ملک بھیجی گئی رقوم کی واپسی اور قانون کے مطابق نتیجہ خیز احتساب کی خواہش رکھتے ہوں۔
کمیشن ٹروونس ایل ایل سی، براڈ یٹ ایل ایل سی اور انٹرنیشنل اثاثہ برآمدگی لمیٹڈ (آئی اے آر) کے انتخاب، تقرر اور سال 2000 میں کیے سمجھوتوں کے عمل کی جانچ پڑتال کرے گا۔
کمیشن اس بات کی بھی نشاندہی کرے گا کیا برطانوی عدالت برائے بین الاقوامی ثالثی (ایل سی آئی اے) کے سامنے ثالثی کی کارروائی اور اس کے بعد لندن میں ہائی کورٹ آف جسٹس کے روبرو اپیل مستعد اور موثر انداز میں کی گئی۔
اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا حتمی ہرجانے اور لندن میں ہائی کورٹ میں اپیل کی کارروائی کے بعد دعویدار کو ادائیگی کا عمل قانونی اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق تھا۔
اس کے علاوہ کمیشن کسی بھی شخص، باڈی یا اتھارٹی کی ذمہ داری کی شناخت اور اس کا تعین بھی کرے گا جو سراسر غفلت کے مرتکب ہوئے یا مذکورہ معاملے میں بدنیتی کے ارادے کے ساتھ کام کیا۔کمیشن مذکورہ بالا معاملات سے متعلق یا اس کے ماتحت کوئی بھی معاملہ اٹھا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ انکوائری کمیشن ایکٹ کے تحت دیے گئے اختیارات کے علاوہ کمیشن کو انکوائری کرنے میں معاونت حاصل کرنے کے لیے اس قانون کی دفعہ 10(ب) کے تحت حکومتی اتھارٹیز کے افسران یا کسی بھی شعبے میں مہارت رکھنے والے افراد کی خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا بھی اختیار ہے۔کمیشن کی تشکیل دی گئی ٹیم کو اس قانون کے تحت مقررہ اختیارات حاصل ہوں گے۔


مشہور خبریں۔
اسرائیل حماس کے حملے کو روکنے میں ناکام ، وجہ ؟
?️ 13 اکتوبر 2023سچ خبریں:الاقصیٰ طوفانی کارروائی کے آغاز کے بعد اپنی پہلی تقریر میں
اکتوبر
صیہونیوں کے ہاتھوں مغربی کنارے میں مسجد کی توہین
?️ 15 دسمبر 2023سچ خبریں: فلسطین کے وزیر اوقاف اور مذہبی امور نے مغربی کنارے
دسمبر
وزیراعظم نے پیپلزپارٹی کے تحفظات دور کرنے کی ذمہ داری اسحٰق ڈار کو سونپ دی
?️ 17 نومبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول
نومبر
تم پرائم منسٹر نہیں کرائم منسٹر ہو؛صیہونی شہریوں کا نیتن یاہو سے خطاب
?️ 8 فروری 2021سچ خبریں:صیہونی وزیراعظم مقبوضہ بیت المقدس کی عدالت میں پیش ہوئے تو
فروری
اسرائیلی فوج حماس کے ہتھکنڈوں کی زد میں رہتی ہے
?️ 14 جولائی 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے میڈیا ذرائع نے بتایا کہ گولانی بریگیڈ
جولائی
ایران کی حمایت میں برلن میں سینکڑوں افراد کا مظاہرہ
?️ 5 اپریل 2026سچ خبریں:جرمنی کے دارالحکومت برلن میں سینکڑوں افراد نے امریکہ اور اسرائیل
اپریل
امریکہ کے ہاتھوں یمن کا محاصرہ جنگی جرم ہے:یمنی عہدہ دار
?️ 24 نومبر 2021سچ خبریں:یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ نے کہا کہ امریکہ
نومبر
نیتن یاہو پر صیہونی میڈیا کی تنقید؛صرف اقتدار کی بقا کی فکر
?️ 19 نومبر 2024سچ خبریں:اسرائیلی میڈیا نے صیہونی قیدیوں کی حالت زار اور مقبوضہ سرزمینوں
نومبر