بجلی کی قیمت میں پھر اضافہ کر دیا گیا

بجلی

?️

اسلام آباد(سچ خٰبریں) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نیپرا نے اضافی ماہانہ ایندھن کی قیمت میں 97 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا ہے جو آئندہ ماہ الیکٹرک کے صارفین سے وصول کیا جائے گا تاہم اس نے کے-الیکٹرک سے مانگی گئی کچھ اضافی معلومات کی جانچ پڑتال تک کچھ دنوں کے لیے حتمی فیصلے کو روک دیا۔

یہ اضافی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) اگست کے مہینے میں استعمال ہونے والی بجلی کی زیادہ قیمت کی وجہ سے ہے۔چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کی سربراہی میں کے-الیکٹرک کی جانب سے دائر درخواست پر عوامی سماعت میں ریگولیٹر نے نوٹ کیا کہ اگست میں مہنگے ایندھن کے ذریعے مہنگی بجلی پیدا کی گئی تھی اور مؤثر پلانٹس مکمل طور پر استعمال نہیں ہوئے تھے۔

ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخ میں 98 پیسے فی یونٹ اضافے کے لیے اپنی درخواست میں کمپنی نے کہا کہ گیس کی قلت کی وجہ سے بجلی کی قیمت بڑھ گئی ہے اور اس کے نتیجے میں پاور پلانٹس میرٹ آرڈر کے برعکس درآمد شدہ فرنس آئل پر چلائے جارہے ہیں۔’

نیپرا کیس کے افسران نے کہا کہ کے-الیکٹرک کی درخواست سے ظاہر ہوتا ہے کہ 14 فیصد بجلی آر ایف او کے ذریعے پیدا کی گئی جس کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ کے-الیکٹرک نے بجلی کی پیداوار کے لیے وزارت توانائی کے زیر انتظام میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی کی اور صارفین پر 94 کروڑ 30 لاکھ روپے کا بوجھ پڑا، گیس کے کم پریشر پر 61 کروڑ 80 لاکھ روپے جبکہ مہنگے ذرائع سے بجلی پیدا ہونے کے نتیجے میں 32 کروڑ 50 لاکھ روپے کی اضافی لاگت آئی۔

ریگولیٹر نے کے-الیکٹرک کو ہدایت کی کہ وہ سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے ساتھ قدرتی گیس کی فراہمی کا مسئلہ حل کرے، اگر یہ مقررہ مدت میں حل نہ ہوا تو مستقبل کے ایف سی اے میں کے-الیکٹرک پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

کے-الیکٹرک عہدیداروں بتایا کہ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کراچی کو 1100 میگاواٹ سے زیادہ بجلی فراہم نہیں کر رہی، تقریبا 14 فیصد بجلی فرنس آئل کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے۔

نیپرا کے چیئرمین نے کہا کہ کمپنی اپنے پاور پلانٹس سے مہنگی بجلی پیدا کر رہی ہے اور اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ یہ نیشنل گرڈ سے نسبتاً سستی بجلی کیوں نہیں حاصل کرتی۔

انہوں نے پاور کمپنی کو ہدایت کی کہ وہ اس مسئلے پر تین دن کے اندر تحریری جواب فراہم کرے اور اگر مطمئن نہ ہوا تو ریگولیٹر اس کے مساوی لاگت کو کم کرے گا۔

چیئرمین نیپرا نے کہا کہ کے-ای اپنی بجلی کا بڑا حصہ نیشنل گرڈ سے لے رہی ہے اور سوال کیا کہ آپ اپنے مہنگے بجلی گھر بند کیوں نہیں کرتے؟ کے-الیکٹرک نیشنل گرڈ سے بجلی کی مفت فراہمی حاصل کررہا ہے کیونکہ وفاقی حکومت اور کمپنی کے درمیان بجلی کی فراہمی کا کوئی معاہدہ نہیں ہے، وفاقی حکومت اور کے ای کو بجلی کی فراہمی کے معاہدے سے متعلق معاملات کو حل کرنا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر فرانس اور جرمنی کے درمیان اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں

?️ 30 جولائی 2025سچ خبریں: ایک مغربی میڈیا آؤٹ لیٹ نے اپنے ایک مضمون میں

جمہوریت کے نام پر سرمایہ دارانہ نظام ایک عذاب بنا ہوا ہے۔ مولانا فضل الرحمان

?️ 1 فروری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل

اسلام آباد کی اہم تنصیبات کے سیکیورٹی آڈٹ کا حکم

?️ 26 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سوات میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)

سڈنی حملے میں موساد کا کردار ؛صیہونیوں کی مظلوم نمائی کی کوشش

?️ 16 دسمبر 2025سچ خبریں:عبدالباری عطوان نے اسرائیل کے جانب سے قربانی کی روایت کو

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس نومبرمیں بلایا جانے کا فیصلہ

?️ 22 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی حکومت نے نومبر میں پارلیمنٹ کا مشترکہ

اسٹیبلشمنٹ سے عمران خان کی رہائی کیلئے معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بیرسٹر گوہر

?️ 27 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا

چین کی مسئلہ فلسطین پر اہم ممالک سے درخواست

?️ 24 اکتوبر 2023سچ خبریں:چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے منگل کو فلسطینی اتھارٹی

برازیل برکس کی حمایت میں ٹرمپ کے ساتھ کھڑا ہے

?️ 27 جولائی 2025سچ خبریں: برازیل کے صدر کے ایک سینئر مشیر نے اعلان کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے