اسلام آباد(سچ خبریں)او آئی سی اجلاس سے متعلق اپوزیشن کے دھمکی آمیز بیان کے بعد وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ایک فون آیا اور اپوزیشن ڈھیر ہو گئی، ہم تو اس (او آئی سی کانفرنس) کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں، اب بولو نا، اگر ہمت ہے تو آکر بتاؤ۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئےشیخ رشید نے کہا کہ کسی میں ہمت و جرات ہے، کوئی مائی کا لعل ہے تو آکر او آئی سی کانفرنس میں مداخلت کر کے بتائے، میں اس کو بتاؤں گا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا اور ان کی چیخیں آسمان تک سنائی دیں گی یہ پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشترکہ اپوزیشن کے رہنماؤں نے کہا تھا کہ اگر پیر تک تحریک عدم اعتماد پر قومی اسمبلی میں کارروائی شروع نہیں کی گئی تو ایوان میں دھرنا دیں گے جہاں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا اجلاس شیڈول ہے۔
تاہم کچھ دیر بعد ایک وضاحتی بیان میں کہا گیا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ معزز مہمانان گرامی کا اسلام آباد میں قیام خوش گوار رہے گا اور وہ اچھی یادیں لے کر وطن واپس تشریف لے جائیں گے۔
وضاحتی بیان میں انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے معزز مہمانوں کے خیر مقدم اور تکریم کے لیے ہی متحدہ اپوزیشن نے لانگ مارچ کی تاریخوں میں تبدیلی کی اور اپنے کارکنان کو 25 مارچ سے پہلے اسلام آباد نہ آنے کی ہدایت کی۔
شیخ رشید نے کہا کہ اپوزیشن ٹھیک کہہ رہی ہے کہ اسمبلی اجلاس کی ریکوزیشن کے بعد 14 روز میں اجلاس بلانے کی حتمی تاریخ 21، 22 مارچ بنتی ہے لیکن اسی اسمبلی نے 21 جنوری کو قرار داد منظور کی تھی کہ 22 اور 23 تاریخ کو اسمبلی کا ہال او آئی سی اجلاس کے لیے وزارت خارجہ کے پاس رہے گا۔
انہوں نےکہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے لیے 15 ہزار سیکیورٹی اہلکار اسلام آباد میں حفاظت پر مامور ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس بات کا دکھ ہوا کہ وہ بلاول جس کے ابھی سیاست میں دودھ کے دانت نہیں ٹوٹے وہ کہہ رہا ہے کہ ہم دھرنا دیں گے، شکل دیکھو اپنی، او آئی سی کے خلاف دیں گے؟ جس میں 5 سے 600 لوگ آرہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں لعنت بھیجتا ہوں آپ پر، جو او آئی سی کو ناکام کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ سامراجی ایجنٹ ہے وہ بھارت کی خواہش کو خبر بنانا چاہتا ہے، شہباز شریف صاحب یہ نہ ہو کہ آپ کی اچکن 10 سال کے لیے نیکر میں بدل جائے۔
شیخ رشید نے کہا کہ کوئی سوچ سکتا ہے کہ دنیا کا کوئی سیاستدان ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان دے گا کہ ہم او آئی سی کانفرنس نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کا اسپیکر تحریک عدم اعتماد ختم نہیں کرسکتا لیکن آئین کی دفعہ 254 کے تحت اگر حالات کا تقاضہ ہو تو وہ اس کی کارروائی کو آگے بڑھا سکتا ہے جس پر کئی عدالتی فیصلے موجود ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ سارے چینلز کہہ رہے ہیں کہ اسپیکر نے 25 مارچ کو اسمبلی کا اجلاس طلب کیا ہے، اس میں 7 روز کا اضافہ کرلیں تو 31 مارچ یا یکم اپریل بنتی ہے، مجھے یقین ہے، میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ حکومتی اتحادی بھی مشاورت کے بعد عمران خان کے ساتھ چلنے کا فیصلہ کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو اصلی اور نسلی ہوگا وہ اس وقت عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوگا، آج کے بعد تمام اہم عمارات کی سیکیورٹی 2 اپریل تک کے لیے ایف سی اور رینجرز کے حوالے کردی گئی ہے۔