غزہ میں نسل کشی اور ویسٹ بینک میں استعمار

غزہ

?️

مانون اوبری، بغاوت فرانس کی بائیں بازو کی جماعت کی نمائندہ اور یورپی پارلیمنٹ میں بائیں بازو کی مشترکہ صدر، جو اس وقت فلسطین کے دورے پر ہیں، نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی عینی شاہد بنی ہیں۔ اپنے حالیہ بیانات میں، انہوں نے غزہ میں جاری نسل کشی اور ویسٹ بینک میں استعمار میں تیزی کے بارے میں بات کرتے ہوئے یورپ سے خاموشی توڑنے اور اس ظلم کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اوبری، جو خود فلسطین میں موجود ہیں، نے خاص طور پر غزہ کی بحرانی صورت حال کی طرف توجہ دلائی جو اس وقت بھی محاصرے اور مسلسل بمباری کا شکار ہے۔ اسی دوران، ویسٹ بینک میں اسرائیلی استعمار میں شدت آئی ہے اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی زمینوں کے قبضے، بسانے والوں کی جانب سے تشدد، اور اسرائیلی قبضے کے نتیجے میں فلسطینیوں کو درپیش شدید معاشی مشکلات کو بیان کیا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اسرائیل کی استعماری پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد فلسطینیوں پر تسلط قائم کرنا اور ان کی شناخت کو مٹانا ہے۔
ان کی بات چیت کا ایک اہم حصہ ویسٹ بینک کے اہم ترین شہروں میں سے ایک، الخلیل کی صورت حال سے متعلق تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ الخلیل اسرائیلی استعماری نظریے کی علامت ہے۔ یہ شہر، جہاں 28 سے زائد فوجی چیک پوسٹیں تعینات ہیں، فلسطینیوں کے خلاف روز بروز بڑھتی ہوئی ذلت اور تشدد کی تصویر پیش کر رہا ہے۔
فلسطینیوں کے لیے سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور بچوں کو اسکول جانے کے لیے لمبے اور خطرناک راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اوبری نے ان حالات کو اسرائیل کے "اپارتھائیڈ رژیم” کی مثال قرار دیتے ہوئے اس ظلم اور امتیاز کو ختم کرنے پر زور دیا ہے۔
اپنی بات کے اختتام پر، اوبری نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف اپنی خاموشی توڑیں اور انہیں روکنے کے لیے موثر اقدامات کریں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یورپ کو فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں اور ان جرائم سے چشم پوشی کرنا بند کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف بین الاقوامی دباؤ اور عالمی یکجہتی ہی اس بحرانی صورت حال کو ختم کر سکتی ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کی ایک نمائندہ کے طور پر مانون اوبری کی یہ بات چیت فلسطین کی صورت حال کو عالمی توجہ کا مرکز بنا رہی ہے اور بین الاقوامی برادری، خاص طور پر یورپ، سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ردعمل کا اظہار کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل کے اپارتھائیڈ رژیم کا خاتمہ کیا جائے اور یورپ کو اس سلسلے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

اگر میں دوبارہ وزیراعظم بنا تو سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدہ کروں گا: نیتن یاہو

?️ 12 جولائی 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اگر وہ

عالمی سطح پر شکست؛ ایران نئی بین الاقوامی طاقت

?️ 3 اپریل 2026سچ خبریں:امریکہ اور صہیونی اتحاد کی ایران کے خلاف جنگ کو عالمی

غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 26 ماہ کی بلند ترین سطح پر ہیں، وزیر خزانہ

?️ 21 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے

لانگ مارچ کو بھرپور قوت کے ساتھ دوبارہ شروع کرنے کیلئے تیاریاں زور و شور سے جاری

?️ 9 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف گجرات کے رہنماؤں نے کل 10

غزہ میں صیہونی فوج پر نئی کاری ضرب 

?️ 9 جولائی 2025 سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی گروہ سرایا القدس نے غزہ میں اسرائیلی فوج

حماس نے کتنی بار اسرائیل کو چونکایا؛ اسرائیلی اخبار کی زبانی

?️ 5 دسمبر 2023سچ خبریں: ایک اسرائیلی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے

غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں نیتن یاہو کی رسوایی

?️ 2 مارچ 2025سچ خبریں: علاقائی اخبار رائی الیوم کے ایڈیٹر اور معروف فلسطینی تجزیہ نگار

کاٹز کو ضمیر کا واضح انتباہ: اسرائیلی فوج منہدم ہو رہی ہے

?️ 17 دسمبر 2025سچ خبریں: نیتن یاہو اور کاٹز کے نام ایک واضح اور شفاف

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے