عراقی  پارلیمان کے اراکین کا امریکہ و برطانیہ کی مداخلت پر سخت ردعمل

عراقی پارلیمان

?️

عراقی  پارلیمان کے اراکین کا امریکہ و برطانیہ کی مداخلت پر سخت ردعمل
 عراق کے متعدد اراکینِ پارلیمان نے امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے ملک کے داخلی معاملات، خاص طور پر الحشدالشعبی سے متعلق امور میں مداخلت پر شدید غصہ اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔
فراکشن صادقون کے رکنِ پارلیمان رفیق الصالحی نے الزام لگایا کہ امریکہ عراق کے تیل کے شعبے میں اپنے اثر و رسوخ کو اقتصادی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ حکومت کو سیاسی طور پر کمزور کیا جا سکے۔ ان کے مطابق یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ملکی خودمختاری کے خلاف براہِ راست مداخلت ہے، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے واضح حکومتی موقف ضروری ہے۔
رکن پارلیمان علاء الحیدری نے برطانوی سفیر کی مداخلت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کون اسے عراق پر قیمومیت کا حق دیتا ہے؟ انہوں نے الحشدالشعبی کے خلاف سفیر کے بیانات کو استعماری سوچ کی علامت قرار دیا اور وزارتِ خارجہ سے مطالبہ کیا کہ اس کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
یاسر الحسینی نے کہا کہ الحشدالشعبی ایک قومی اور قانونی ادارہ ہے جو مرجعیتِ دینی کے فتوے سے وجود میں آیا۔ انہوں نے امریکہ و برطانیہ کی سفارتخانوں کو نامطلوب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات اور دباؤ کو مسترد کیا جانا چاہیے۔
چارچوبِ ہم آہنگی کے رکن مختار الموسوی نے خبردار کیا کہ کسی بھی حکومت کو غیر ملکی دیکتوں کے آگے نہیں جھکنا چاہیے، خاص طور پر اگر وہ الحشدالشعبی کے خلاف ہوں۔
ائتلاف الانبار کے عبدالرزاق احمد الدلیمی نے انکشاف کیا کہ امریکی ناظم الامور اور برطانوی سفیر نے سنی، کُرد اور کچھ شیعہ رہنماؤں سے خفیہ ملاقاتیں کیں اور ان سے کہا کہ الحشدالشعبی کے قانون کی مخالفت کریں۔ ان کے مطابق یہ دونوں ممالک عراق کو کمزور رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔
حراک دیالی کے سربراہ عمار التمیمی نے کہا کہ بغداد پر کسی بھی سفارتخانے کی قیمومیت قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ الحشدالشعبی کے حق میں قانون سازی وفاداری کا تقاضا ہے، کیونکہ اس فورس نے 2014 میں داعش سے ملک کو آزاد کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ برطانوی سفیر نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ عراق میں الحشدالشعبی کی ضرورت ختم ہو چکی ہے، جس پر ملک بھر میں سخت ردعمل سامنے آیا۔ فی الحال الحشدالشعبی کے ارکان کی سروس اور ریٹائرمنٹ کا قانون عراقی پارلیمان میں زیرِ غور ہے۔

مشہور خبریں۔

’کو – بیجنگ ’ سے پاکستان کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام مزید مضبوط ہو گا، گورنر اسٹیٹ بینک

?️ 3 دسمبر 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا

عدالت نے ایف آئی اے کو عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کیخلاف کارروائی سے روک دیا

?️ 7 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں)اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف

دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کا الٹا اثر ہوا: وزیر اعظم

?️ 14 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) افغانستان میں واشنگٹن کی کارروائیوں اور بیرون ملک اس

9 مئی جلاؤ گھیراؤ کیس؛ یاسمین راشد سمیت 9ملزموں کو10 سال قید، شاہ محمود بری

?️ 22 جولائی 2025لاہور (سچ خبریں) انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی شیرپاؤ پل

ہمارے صہیونیوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہیں: حزب اللہ

?️ 6 نومبر 2025سچ خبریں: لبانانی پارلیمنٹ میں وفاداری بہ مزاحمت پارلیمانی گروپ کے نمائندے

جوابی کارروائیاں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کیخلاف ہیں، اسحٰق ڈار

?️ 12 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے

بھارت مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو مسلم اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے

?️ 25 ستمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے

بائیڈن کی مقبولیت میں کمی کی بڑی وجہ ان کا افغانستان چھوڑنے کا طریقہ ہے: بولٹن

?️ 15 نومبر 2021سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کے سابق قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے