عراقی مزاحمتی گروہوں کا امریکی ایلچی کو دوٹوک جواب، فیصلے صرف قومی مفاد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں

عراقی مزاحمتی گروہوں کا امریکی ایلچی کو دوٹوک جواب، فیصلے صرف قومی مفاد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں

?️

عراقی مزاحمتی گروہوں کا امریکی ایلچی کو دوٹوک جواب، فیصلے صرف قومی مفاد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں
 عراق کی اسلامی مزاحمتی تنظیموں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے کے مداخلت آمیز بیانات پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے فیصلے صرف اور صرف عراق کے قومی مفادات کی بنیاد پر کرتے ہیں، نہ کہ بیرونی دباؤ کے تحت۔
عراقی خبررساں ادارے بغداد الیوم کے مطابق، ٹرمپ کے خصوصی فرستادے برائے امورِ عراق مارک ساویا نے حال ہی میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی پہلی ترجیح عراقی مزاحمتی گروہوں کا خاتمہ ہے۔ ان کے یہ الفاظ واشنگٹن کی جانب سے بغداد کے حوالے سے ایک زیادہ جارحانہ پالیسی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ساویا، جو چھ دن قبل اس عہدے پر فائز ہوئے، نے اپنے بیان میں کہا:ہم تمام عراقی فریقوں کے ساتھ مل کر ایک مضبوط عراق کے قیام کے لیے کام کریں گے تاکہ وہ امریکہ کا حقیقی شراکت دار بن سکے اور علاقائی تنازعات سے دور رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ عراق کے ساتھ تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز چاہتے ہیں اور "عراق کو دوبارہ عظیم” بنانے کے خواہاں ہیں۔ان بیانات کے فوراً بعد عراقی مزاحمتی تنظیموں کی جانب سے ردعمل سامنے آیا۔
ایک ذریعے نے، جو ان گروہوں کے قریب سمجھا جاتا ہے، بغداد الیوم کو بتایا کہ مزاحمت کے اصول کسی فرد یا حکومت کے آنے یا جانے سے تبدیل نہیں ہوتے۔اس نے واضح کیا کہ مزاحمتی گروہ تمام فیصلے عراق کی خودمختاری اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں اور مغربی یا امریکی ذرائع کے پروپیگنڈے کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔
ذرائع کے مطابق، یہ گروہ حکومتِ عراق کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کے درمیان کوئی بنیادی اختلاف نہیں پایا جاتا۔اس نے مزید کہا کہ مزاحمتی گروہوں کے ہتھیار عراقی عوام کے ہیں، جن کا مقصد کسی بھی اندرونی یا بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے، اور کسی غیر ملکی طاقت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان کے مستقبل کا فیصلہ کرے۔
ذرائع نے یاد دلایا کہ انہی ہتھیاروں نے عراق کو دہشت گردی سے نجات دلائی، شدت پسندوں کو پسپا کیا اور ملک کے شہروں کو آزاد کرایا۔بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ مزاحمت عراقی عوام کی روح اور غیرت کا حصہ ہے، جسے کسی بیرونی دباؤ یا فیصلے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔

مشہور خبریں۔

اب یوکرین میں انتخابات کا وقت آگیا ہے: ٹرمپ

?️ 10 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘پولیٹیکو’ میگزین کے ساتھ خصوصی انٹرویو

حماس: امریکی قرارداد خطرناک ہے اور بین الاقوامی نظام کے پورے ڈھانچے کو درہم برہم کرتی ہے

?️ 19 نومبر 2025سچ خبریں: حماس کے ایک سینئر رہنما اسامہ حمدان نے اس بات

ایران امریکہ کا کیسا طمانچہ مارنے والا ہے؛عطوان کی زبانی

?️ 11 جولائی 2026سچ خبریں:معروف عرب تجزیہ نگار عبدالباری عطوان نے ایران اور امریکہ کے

عدالت نے شیر افضل مروت کو کسی بھی مقدمے میں بغیر اجازت گرفتار کرنے سے روک دیا

?️ 14 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی

ٹرمپ کا ناقابل معافی گناہ

?️ 12 اگست 2025ٹرمپ کا ناقابل معافی گناہ امریکی جریدے دی اٹلانٹک نے اپنی تازہ

روس کے خلاف مغربی پابندیاں کیوں کام نہیں کرتی؟

?️ 20 ستمبر 2023سچ خبریں:ماڈرن ڈپلومیسی نیوز سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں روس کے

افغانستان میں طالبان کے متعدد حملے، درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے

?️ 1 اپریل 2021کابل (سچ خبریں) افغانستان میں طالبان کی جانب سے متعدد حملے کیئے

شرح سود میں کمی کے امکان پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

?️ 16 دسمبر 2024 کراچی: (سچ خبریں) شرح سود میں کمی کے امکان پر پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے