روس شام ميں اپنے فوجی اڈے محفوظ رکھنے کے لیے دمشق سے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے

 عرب نیوز ویب سائٹ الشرق کے مطابق، روس شام میں اپنی فوجی موجودگی اور بحیرۂ روم میں اثرورسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے دمشق کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنائے رکھنا چاہتا ہے۔

?️

روس شام ميں اپنے فوجی اڈے محفوظ رکھنے کے لیے دمشق سے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے
 عرب نیوز ویب سائٹ الشرق کے مطابق، روس شام میں اپنی فوجی موجودگی اور بحیرۂ روم میں اثرورسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے دمشق کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنائے رکھنا چاہتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور شام کی عبوری حکومت کے سربراہ احمد الشرع (ابو محمد الجولانی) کی حالیہ ملاقات اس پالیسی کی عکاس ہے۔
الشرق کے مطابق، ماسکو کا مقصد شام میں اپنے فوجی اڈوں کو محفوظ رکھنا اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنا تزویراتی کردار برقرار رکھنا ہے۔سیاسی تجزیہ کار الینا سوبونینا کا کہنا ہے کہ روس اور شام کے درمیان پرانے معاہدوں پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے، تاہم روس کی شام میں موجودگی مستقبل میں محدود ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی، سیاحت اور تعمیرِ نو کے منصوبوں پر بات چیت جاری ہے، لیکن روس کی معاشی و عسکری موجودگی اب پہلے جیسی نہیں رہے گی۔
روسی ماہر واسیلی فاتیجاروف نے کہا کہ شام میں روس کے فوجی اڈے اس کے لیے اسٹریٹیجک اثاثہ ہیں اور اگر ماسکو نے بحیرۂ روم میں اپنی پوزیشن کھو دی تو یہ “ایک بڑی تباہی” ثابت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ شام کی عبوری حکومت نے روس کے ساتھ کیے گئے سابقہ معاہدوں پر عمل جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ عملی سطح پر کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔
الشرق کے مطابق، روس جنوبی شام میں اپنی موجودگی کو بڑھانے کا خواہاں ہے تاکہ اسرائیلی منصوبے “کوریڈور داوود” کو روکا جا سکے۔سابق روسی سفارتکار ویاچسلاو ماتوزف نے کہا کہ اگر روس جنوبی شام میں فوجی استقرار پر راضی ہو جائے تو یہ اسرائیل کے منصوبے کو ناکام بنا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “روس شام میں اپنی موجودگی کم کر رہا ہے، جبکہ ترکی — جو نیٹو کا رکن ہے — اپنی سرگرمیاں بڑھا رہا ہے، اور یہ روس کے لیے ایک تزویراتی چیلنج ہے۔”
شامی توانائی ماہر ریاض نزال کے مطابق، روس شام کے تیل و گیس کے شعبے میں پرانے سرمایہ کاروں میں سے ہے اور نئی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے، مگر مغربی پابندیاں ان منصوبوں میں بڑی رکاوٹ ہیں۔انہوں نے کہا کہ “یورپی ممالک سیاسی وجوہات کی بنا پر روس کے ساتھ شام میں سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔
الشرق نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بعض مغربی ذرائع کے مطابق، عبوری حکومت نے روس سے بشار الاسد کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا، مگر روسی ماہرین اس کی تردید کرتے ہیں۔
سوبونینا کے مطابق، “پیوٹن کسی بھی صورت بشار الاسد یا ان کے خاندان کو حوالے نہیں کریں گے، کیونکہ یہ ان کے سیاسی اصولوں کے خلاف ہے۔
روسی توانائی تجزیہ کار ایگور یوشکوف نے کہا کہ ترکی شام میں انرجی ایکسپورٹ کے منصوبوں کے ذریعے اپنا اثر بڑھانا چاہتا ہے، جس سے روس اور ترکی کے درمیان سخت مسابقت جنم لے سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار غازی عبدالغفور کے مطابق، شامی عوام کے درمیان الشرع کے ماسکو کے دورے پر مخلوط ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ کچھ اسے سیاسی حقیقت پسندی قرار دیتے ہیں جبکہ بعض اسے احساسی وابستگی سے تعبیر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دمشق کے روس کے ساتھ تعلقات، ایران کے ساتھ تعلقات سے مختلف ہیں، کیونکہ دونوں تعلقات کی نوعیت اور مقاصد جدا ہیں۔

مشہور خبریں۔

صیہونیوں کے تعلقات بحال کروانے کا امریکی مقصد؛امریکی عہدیدار کی زبانی

?️ 4 اکتوبر 2023سچ خبریں: امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان نے کہا کہ صیہونی

اسرائیلی حملے تمام لبنانیوں کے لیے ایک چیلنج ہیں: جوزف عون

?️ 14 اگست 2025سچ خبریں: لبنان کے صدر جوزف عون نے ایران کے سپریم نیشنل سیکورٹی

کوئی بھی معاشرہ خواتین کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا:اسپیکر قومی اسمبلی

?️ 7 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں) اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ کوئی

رسوال اکرم کے گستاخانہ خاکے بنانے والا ڈنمارکی ملعون کارٹونسٹ ہلاک ہوگیا

?️ 20 جولائی 2021ڈنمارک (سچ خبریں) رسوال اکرم کے گستاخانہ خاکے بنانے والا ڈنمارکی ملعون

لبنان میں 60 روزہ جنگ بندی کے خاتمہ کے بعد عوام کی بے خوف گھروں کو واپسی

?️ 26 جنوری 2025سچ خبریں:لبنان کے دلیر اور ناقابل شکست عوام نے صہیونی قابض فوج

مزاحمتی محاذ کی تشکیل امام خمینی کی دین ہے؟کویتی تجزیہ کار

?️ 15 فروری 2025 سچ خبریں:فلسطینی امور کے ماہر کویتی تجزیہ کار کا کہنا ہے

چِپ سے متعلق ممکنہ پابندیوں کی صورت میں چین کی جاپان کو جوابی کارروائی کی دھمکی

?️ 2 ستمبر 2024سچ خبریں: چین نے جاپان کی طرف سے چینی فرموں کو چِپ

شام کے سابق مفتی اعظم کی شہادت کی متضاد خبریں

?️ 11 جون 2025سچ خبریں: میڈیا نے سابق سوری مفتی شیخ احمد بدرالدین حسون کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے