?️
حلب کی لڑائی سابق شامی نظام کے خاتمے میں شریک طاقتوں کے درمیان ہے:عطوان
عالمِ عرب کے معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے حلب میں مسلح جھڑپوں کے عارضی خاتمے کو نازک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لڑائی دراصل شامی فوج اور کرد فورسز کے درمیان نہیں بلکہ شام میں سابق نظام کے خاتمے میں شریک دو بڑی طاقتوں، یعنی امریکہ اور ترکیہ، کے درمیان طاقت کی کشمکش کی عکاس ہے۔
عرب اخبار رأی الیوم میں شائع ہونے والے اپنے تجزیے میں عطوان نے لکھا کہ حلب میں حالیہ جھڑپوں میں چار افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے، جس کے بعد وقتی طور پر سکون قائم ہوا ہے۔ تاہم ان کے بقول، یہ تصادم کوئی نیا نہیں بلکہ اصل تنازع ان طاقتوں کے درمیان ہے جو ابتدا میں شامی نظام کی تبدیلی کے شراکت دار تھیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ جھڑپیں ایسے وقت میں شروع ہوئیں جب ترکیہ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد شام پہنچا، جس میں وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یاشار گولر اور انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن شامل تھے۔ عطوان کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے پیچھے بڑی طاقتوں کی سیاسی چالیں کارفرما ہیں۔
عبدالباری عطوان نے سوال اٹھایا کہ واشنگٹن نے اپنے کرد اتحادیوں کو حلب میں شامی افواج کے خلاف کارروائی کا گرین سگنل کیوں دیا، جس سے شامی عبوری صدر کو دباؤ میں لایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حمایت کے بغیر قسد (شامی ڈیموکریٹک فورسز) نہ تو کارروائی کر سکتی ہیں اور نہ ہی مارچ میں طے پانے والے معاہدے کو چیلنج کر سکتی ہیں۔
انہوں نے اسرائیل کے کردار پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شام میں عدم استحکام پھیلانے میں اسرائیل بنیادی تخریبی کردار ادا کر رہا ہے۔ عطوان کے مطابق اسرائیل کے شمالی شام میں کردوں سے خفیہ روابط ہیں اور اس نے ترکیہ کو بھی شامی نظام کی تبدیلی کے منصوبے میں استعمال کیا۔
تجزیہ کار نے خبردار کیا کہ شام میں عدم استحکام کے اثرات جلد یا بدیر ترکیہ تک پہنچیں گے۔ ان کے مطابق اسرائیل، یونان اور قبرص کے درمیان ابھرتا ہوا نیا سیاسی و عسکری اتحاد اس کی ابتدائی علامت ہو سکتا ہے۔
عطوان نے سوالیہ انداز میں لکھا کہ یہ کیسی ’’نئی شام‘‘ ہے جہاں جنوب پر اسرائیلی افواج قابض ہیں، دمشق کی فضا میں اسرائیلی جنگی طیارے گشت کر رہے ہیں، شمال مشرق میں امریکی حمایت یافتہ کرد تیل و گیس کے وسائل پر قابض ہیں اور شمال مغرب میں ترکیہ کی موجودگی بھی برقرار ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ شام میں موجودہ صورتحال دیرپا نہیں لگتی، کیونکہ عرب اور اسلامی دنیا میں بڑی تبدیلیاں آنے والی ہیں، جو خطے کے توازن کو ایک بار پھر بدل سکتی ہیں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
حکومت نے پورے ملک میں فوج تعینات کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا
?️ 25 اپریل 2021اسلام اباد(سچ خبریں) وفاقی وزارت داخلہ شیخ رشید نے کورونا وائرس کا
اپریل
حزب اللہ نے آئرن ڈوم پلیٹ فارم پر حملے کی اطلاع دی
?️ 19 مئی 2026سچ خبرین: لبنانی اسلامی مزاحمت نے اعلان کیا کہ آج خودکش ڈرون
مئی
الاقصیٰ طوفان صہیونیوں کے خلاف ایک اہم جنگی موڑ
?️ 7 اکتوبر 2024سچ خبریں: الاقصیٰ طوفان آپریشن کی برسی پر ردعمل کے بعد فلسطینی مزاحمتی
اکتوبر
25% تارکین وطن امریکی شہریت کی منسوخی کے خواہاں
?️ 19 جون 2022سچ خبریں: نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بیرون ملک مقیم
جون
2014 جیسی کوئی سازش کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے، وزیراعظم
?️ 8 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاق
اکتوبر
روس کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم / تہران کا بے بنیاد الزامات کا بہترین جواب
?️ 18 جون 2026سچ خبریں: روس کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں ایران اور
جون
صہیونی حملوں میں شہید ہونے والے صحافیوں اعداد وشمار
?️ 18 اکتوبر 2025سچ خبریں:کمیٹی برائے تحفظِ صحافی نے انکشاف کیا کہ 7 اکتوبر 2023
اکتوبر
برطانوی وزارت دفاع کے ہاتھوں 250 افغانی مترجمین کی اطلاعات منظر عام پر
?️ 21 ستمبر 2021سچ خبریں: برطانوی حکومت کہ جو پہلے افغانستان سے باہر نکلنے کو
ستمبر