جولانی کو بقا کے لیے اسرائیل کی ضرورت!

جولانی

?️

 تاہم، اب تک کسی اسرائیلی عہدیدار نے ان باتوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی، حالانکہ اس کی وجوہات سمجھ میں آتی ہیں۔ زمینی حقائق خود اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ دونوں اطراف میں خاموشی سے ہم آہنگی کا ایک نظام موجود ہے۔
اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے یہی کافی ہے کہ اسرائیلی فوجی مقبوضہ گولان میں شامی گاؤں کے قریب تعینات ہیں، لیکن اب تک شام کی حکومت کے ساتھ کوئی تصادم نہیں ہوا۔ اسی دوران، احمد الشرع کے زیر کنٹرول میڈیا نے اسرائیل کی شام میں موجودگی کی خبروں کو کم کر دیا ہے اور تقریباً مکمل طور پر اس پر پابندی لگا دی ہے۔
تحلیل نگار عمیر بشالوم لکھتے ہیں کہ اس میڈیا بے اعتنائی کی ایک بڑی وجہ وہ حمایت ہے جو امریکہ نے ٹرمپ کے خلیجی ممالک کے دورے کے دوران الجولانی کو فراہم کی۔ ریاض میں ٹرمپ اور الجولانی کی ملاقات کے بعد سے، اسرائیل نے شام میں کوئی حملہ نہیں کیا۔ کیا تنازعات کو کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے خاموش معاہدہ ہو چکا ہے؟
ماہرین کا خیال ہے کہ ایسا ہی ہے، کیونکہ ترکی نے بھی اسرائیل کے خلاف اپنے میڈیا میں مہم چلانا بند کر دی ہے۔ اسی طرح، جنوبی شام میں دروزی آبادی اور دمشق کی مرکزی حکومت کے درمیان تناؤ بھی کم ہوا ہے۔
تحلیل کے مطابق، شام کی حکومت کو ملک کے معاملات کنٹرول کرنے کے لیے اسرائیل کی مدد درکار ہے۔ اسرائیل شام کے جنوبی علاقوں میں حکومتی فورسز کی موجودگی کی اجازت دے کر الجولانی کے گروپ کو عراقی سرحد تک رسائی فراہم کر سکتا ہے۔ یہ درحقیقت الجولانی اور اسرائیل کے مفادات کا اشتراک ہے، جسے تل ابیب پورے دل سے نہیں چاہتا، لیکن امریکہ کے دباؤ کے باعث بنجمن نیتن یاہو نے اسے قبول کر لیا ہے۔
دوسری طرف، الجولانی جانتا ہے کہ اس کے اقدامات کڑی نگرانی میں ہیں اور شام پر لگے پابندیاں فوری طور پر ختم نہیں ہوں گی۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے پابندیاں اٹھانے کا وعدہ بھی 6 ماہ بعد دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق، شامی سیکورٹی فورسز نے کچھ فلسطینی کارکنوں کو گرفتار کیا ہے۔ الجولانی کے پاس ان افراد کی تفصیلی فہرستیں ہیں جنہیں حراست میں لینا یا ملک بدر کرنا ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ یہ معلومات کہاں سے آ رہی ہیں، لیکن خیال ہے کہ شاید امریکہ اس کا ذریعہ ہے۔
اس دوران، اسرائیلی سیکورٹی ادارے شام کی حکومت کے رویے کو بغور دیکھ رہے ہیں۔ اب تک الجولانی کے اقدامات حوصلہ افزا ہیں، لیکن اس کے ماضی کی وجہ سے شکوک و شبہات برقرار ہیں۔

مشہور خبریں۔

بنگلہ دیش میں ایک عبوری حکومت قائم

?️ 6 اگست 2024سچ خبریں: بنگلہ دیشی فوج کے کمانڈر جنرل واکر اوز زمان نے میڈیا

پاکستان کا مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کیخلاف سخت ردعمل

?️ 23 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں پر

امریکی کانگریس ٹرمپ انتظامیہ کے وینیزویلا پلان سے بے خبر

?️ 15 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی ایوان نمائندگان کی سابقہ انٹلیجنس کمیٹی کے چیئرمین مائیک ٹرنر

2024 میں وائٹ ہاؤس واپس لے لیں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

?️ 16 جنوری 2022سچ خبریں:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن کو امریکا کے مستقبل

سینیٹ انتخابات میں خفیہ ووٹنگ کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں پارلیمنٹ فیصلہ کرے

?️ 24 فروری 2021اسلام آباد(سچ خبریں) چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پراکسی وار سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا

?️ 21 اکتوبر 2021سچ خبریں: مشرقی بحیرہ روم کا تنازعہ اور اس مسئلے کو حل

اسرائیلی وزیر خارجہ فلسطینی ریاست کے قیام سے خوفزدہ 

?️ 16 نومبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون ساعر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس

فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل: جسٹس جمال، جسٹس نعیم اختر نے اختلافی فیصلہ جاری کردیا

?️ 30 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے ججز جسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے