برطانیہ میں فلسطین حامیوں کی گرفتاریوں میں چھ گنا  اضافہ

برطانیہ میں فلسطین حامیوں کی گرفتاریوں میں چھ گنا  اضافہ

?️

برطانیہ میں فلسطین حامیوں کی گرفتاریوں میں چھ گنا  اضافہ
برطانیہ میں جاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران فلسطین کے حامیوں کی گرفتاریوں میں چھ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ اسرائیل مخالف گروہوں کے خلاف دہشت گردی قوانین کا سخت نفاذ بتایا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ اضافہ آزادیٔ اظہار اور احتجاج کے حق پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2025 تک کے ایک سال کے دوران دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت ایک ہزار 886 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے ایک ہزار 630 گرفتاریاں گروہ “ایکشن فار فلسطین” سے مبینہ تعلق یا حمایت کے الزام میں ہوئیں۔ یہ مجموعی گرفتاریوں کا تقریباً 86 فیصد بنتا ہے، جبکہ اس سے ایک سال قبل دہشت گردی سے متعلق صرف 248 گرفتاریاں ریکارڈ کی گئی تھیں۔
اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ جولائی سے ستمبر 2025 کے درمیان، یعنی اس گروہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے بعد کے صرف تین مہینوں میں، ایک ہزار 706 گرفتاریاں ہوئیں۔ اس سے قبل کے تین ماہ میں یہ تعداد محض 63 تھی، جو گرفتاریوں میں دو ہزار 600 فیصد سے زائد اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔
“ایکشن فار فلسطین” وہ گروہ ہے جو اسرائیل سے منسلک اسلحہ ساز کمپنیوں کے خلاف براہ راست احتجاجی کارروائیوں کی مہم چلاتا ہے۔ پانچ جولائی کو اسے برطانیہ کے دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم قرار دیا گیا، جس کے بعد اس گروہ کی رکنیت یا حمایت پر 14 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے، جبکہ اس کے نام کی تختی اٹھانے یا لباس پہننے پر بھی چھ ماہ قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس گروہ کے بانیوں میں سے ایک نے وزارت داخلہ کے فیصلے کے خلاف لندن کی ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ عدالتِ استیناف نے حکومت کی جانب سے اس مقدمے کو روکنے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے مزید قانونی نکات بھی شامل کیے ہیں، جبکہ حتمی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ایک سال کے دوران ہونے والی گرفتاریوں میں سے صرف 17 فیصد معاملات میں فرد جرم عائد کی گئی، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح تقریباً 47 فیصد تھی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے تاثر ملتا ہے کہ نئی گرفتاریاں زیادہ تر خوف و ہراس پیدا کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں، نہ کہ مؤثر عدالتی کارروائی کے لیے۔
ادھر حالیہ دنوں میں لندن کے علاقے ویسٹ منسٹر میں وزارت انصاف کے سامنے فلسطین حامی مظاہرے کے دوران پولیس نے انتفاضہ کے حق میں نعرے لگانے پر چار افراد کو گرفتار کیا، جبکہ ایک شخص کو پولیس کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب لندن اور مانچسٹر پولیس کے اعلیٰ حکام نے انتفاضہ کے نعروں کو ممکنہ طور پر تشدد پر اکسانے کے مترادف قرار دیا تھا۔
یہ تمام پیش رفت غزہ پر حالیہ جنگ کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد برطانیہ میں اسرائیل مخالف سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ سیاسی نعروں اور پرامن احتجاج کو دہشت گردی کے دائرے میں لانا جمہوری اقدار، آزادیٔ اظہار اور انسانی حقوق کے دعوؤں کے منافی ہے اور اس سے فلسطین کے حامیوں کے خلاف امتیازی سلوک کو فروغ ملنے کا خدشہ ہے۔

مشہور خبریں۔

مراکش میں صیہونیوں کے خلاف مظاہرہ

?️ 10 اگست 2022سچ خبریں:مراکش کے عوام کے ایک گروپ نے رباط شہر میں ملکی

سانحہ مری کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں

?️ 13 جنوری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) سانحہ مری کی تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے

الیکشن کمیشن نے وزیر ریلوے کو طلب کر لیا

?️ 17 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) میڈیا ذرائع کے مطابق اعظم سواتی کو الیکشن

موسلادھار بارش کے بعد دریائے سوات بپھر گیا، 7 مقامات پر 75 سے زائد افراد بہہ گئے، 9 لاشیں برآمد

?️ 27 جون 2025سوات: (سچ خبریں) خیبرپختونخوا میں موسلادھار بارش کے باعث دریائے سوات بپھر

پاکستان سمیت 8 ملکوں کا صدر ٹرمپ کی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت کا خیر مقدم

?️ 21 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان سمیت 8 اسلامی ملکوں کا غزہ بورڈ

امریکی اتحاد کی ناکہ بندی نے یمنی عوام کو محروم کرر کھا ہے:یمنی عہدہ دار

?️ 13 دسمبر 2022سچ خبریں:یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے پیر

فلسطینیوں کی صورتحال ناقابل برداشت ہے: گٹیرس

?️ 14 فروری 2026سچ خبریں:  اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترش نے فلسطینی علاقوں

آزاد کشمیر اسمبلی میں وزیراعظم انورالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش

?️ 17 نومبر 2025 مظفر آباد: (سچ خبریں) آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے