?️
سچ خبریں:اقوام متحدہ، یورپی یونین، ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم ، آنروا اور حماس نے غزہ میں درجنوں انسانی امدادی تنظیموں کی سرگرمیاں معطل کرنے کے اسرائیلی فیصلے کے سنگین انسانی نتائج سے خبردار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی اداروں نے غزہ میں انسانی امدادی تنظیموں کی سرگرمیاں منسوخ کرنے کے اسرائیلی فیصلے کے نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صیہونی غزہ میں غیر انسانی اور نسل کشی کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں:عالمی ڈاکٹرز
صہیونی حکومت کی جانب سے غزہ کی پٹی میں درجنوں انسانی امدادی تنظیموں کے لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکی کے بعد بین الاقوامی اور فلسطینی اداروں نے اس باریک پٹی میں انسانی صورتحال کے مکمل انہدام کے بارے میں انتباہ دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر تُرک نے اس اسرائیلی فیصلے کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس قسم کے اقدامات غزہ کی پہلے سے ہی انتہائی خراب انسانی صورتحال کو مزید بدتر بنا دیں گے اور بااثر ممالک کو چاہیے کہ وہ غزہ تک بلا رکاوٹ انسانی امداد کی ترسیل کے لیے دباؤ ڈالیں۔
یورپی یونین نے بھی خبردار کیا کہ غزہ میں انسانی امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں کی معطلی اس باریک پٹی تک انتہائی ضروری امداد کی ترسیل میں رکاوٹ بنے گی۔
ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم نے بھی انتباہ دیا کہ اسرائیل کا یہ اقدام غزہ میں ہزاروں فلسطینی مریضوں کو زندگی بچانے والی طبی سہولیات تک رسائی سے محروم کر دے گا۔
ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم جو غزہ میں طبی خدمات فراہم کرنے والے سب سے بڑے اداروں میں سے ہے اور تقریباً پانچ لاکھ افراد کو خدمات فراہم کرتا ہے، نے تاکید کی کہ اس تنظیم کی سرگرمیوں کی کسی بھی قسم کی معطلی، خاص طور پر ایسی صورتحال میں جب غزہ کا صحت کا نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، ایک بڑے انسانی المیے کا باعث بنے گی۔
اس بین الاقوامی ادارے نے کہا کہ اس وقت غزہ میں انسانی خدمات کی فراہمی پہلے ہی انتہائی محدود ہے اور معمولی سی رکاوٹ یا کمزوری بھی قابل برداشت نہیں۔ تجربہ کار اور آزاد امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی ایک عظیم انسانی تباہی کو جنم دے گی اور 2026 میں غزہ کی بڑی آبادی زندگی بچانے والی طبی خدمات بلکہ حتیٰ کہ پانی سے بھی محروم ہو جائے گی۔
اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین اونروا نے بھی صہیونی رژیم کے اس مجرمانہ اقدام اور اس کے نتائج کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی انسانی امدادی تنظیموں پر عائد نئی پابندیاں غزہ میں امدادی عمل کو مزید کمزور اور مفلوج کر رہی ہیں۔
اونروا نے تاکید کی کہ ان کوششوں کے مقابلے میں خاموشی، جو انسانی امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں پر قبضہ اور انہیں محدود کرنے کے درپے ہیں، بنیادی انسانی اصولوں کو مزید تباہی کی طرف دھکیل دے گی۔
فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے بھی ایک بیان میں صہیونی میڈیا رپورٹس کی سخت مذمت کی جن کے مطابق قابض کابینہ نے غزہ اور مغربی کنارے میں درجنوں بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حماس نے کہا کہ یہ اقدام ایک خطرناک اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی برادری اور امدادی نظام کی صریح بے توقیری ہے۔ قابض رژیم غزہ میں امدادی سرگرمیوں کو سیاسی بنانے اور انہیں فلسطینی قوم کے خلاف بلیک میلنگ کے آلے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، وہ قوم جو خاص طور پر غزہ میں صہیونی جرائم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سب سے بڑے انسانی المیے سے نبرد آزما ہے۔
حماس نے عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ اور تمام انسانی حقوق اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ صہیونی رژیم کی اس مجرمانہ پالیسی کی فوری اور مؤثر مذمت کریں اور اس کی کابینہ پر دباؤ ڈالیں۔
بیان کے تسلسل میں حماس نے کہا کہ عالمی برادری کو یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ انسانی امداد کو بھوک کے ہتھیار اور فلسطینی قوم کی تکالیف جاری رکھنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے۔
غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منیر البرش نے بھی کہا کہ صہیونی حکومت کی جانب سے غزہ میں بین الاقوامی انسانی امدادی تنظیموں کی سرگرمیوں کو معطل یا بند کرنے کی کوشش غیر قانونی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صہیونیوں نے براہِ راست 30 سے زائد بین الاقوامی طبی اداروں کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں تو انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جو بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
غزہ کے اس طبی عہدیدار نے تاکید کی کہ آج غزہ عالمی علامت بن چکا ہے اور جو کچھ وہاں ہو رہا ہے وہ مکمل محاصرے، مختلف اقسام کے قتل و غارت اور منظم نسل کشی کے جرائم کا واضح مصداق ہے۔
انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں طبی اور انسانی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کریں اور ان دھمکیوں کو روکیں۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب کل صہیونی رژیم کی وزارتِ امورِ مہاجرین نے اعلان کیا کہ 37 انسانی امدادی تنظیموں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے فلسطینی عملے کے نام فراہم نہ کیے تو غزہ میں ان کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔
مزید پڑھیں:بے مثال نسل کشی؛ غزہ کا نہ ختم ہونے والا المیہ اور عالمی اخلاقی نظام کا خاتمہ
اس وزارت نے کہا کہ ان تنظیموں کے پاس بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تک اپنی سرگرمیاں بند کرنے کا وقت ہے۔
بین الاقوامی تنظیموں نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی حکام جن قوانین کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ من مانی ہیں اور ان اداروں کے عملے کی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
کیا ٹرمپ یوکرین کی جنگ کا فیصلہ کرپائیں گے ؟
?️ 27 مئی 2024سچ خبریں: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین میں جنگ کو فوری
مئی
نتن یاہو دنیا کا سب سے زیادہ متنفر شخص
?️ 25 مئی 2026 سچ خبریں:اسرائیلی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل اسحاق بریک کا ماننا
مئی
ایس او پیز پر عملدرآمدکرنے میں اسلام آباد سب سے آگے ہے: فواد چوہدری
?️ 4 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ
مئی
ترکی میں ہونے والی افغان امن کانفرنس طالبان کی شرکت نہ کرنے کی وجہ سے ملتوی کردی گئی
?️ 21 اپریل 2021کابل (سچ خبریں) افغان امن عمل سے متعلق استنبول میں ہونے والےآئندہ
اپریل
ایران جنگ سے امریکا کو کچھ حاصل نہیں ہوا، عالمی اقتصادی، توانائی بحران بڑھ گیا۔ مشاہد حسین
?️ 20 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) سینئر سیاستدان مشاہد حسین سید نے کہا کہ
مارچ
ٹرمپ کا باکو اور وسطی ایشیائی ممالک کو معمول کے معاہدوں میں گھسیٹنے کا منصوبہ
?️ 3 اگست 2025سچ خبریں: روئٹرز نے پانچ باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ
اگست
نئے ٹریول بین کے باعث پاکستانیوں کے امریکہ داخلے پر پابندی کا امکان
?️ 6 مارچ 2025واشنگٹن: (سچ خبریں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے ٹریول بین کے
مارچ
صیہونیوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ سعودی حکام کے زیر غور
?️ 26 مئی 2022سچ خبریں:سعودی عرب نے کہا کہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو
مئی