?️
ایران اور پاکستان کے سفارتی تعلقات میں نئی پیش رفت، تعلقات کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم
پاکستان کے ایک سینئر صحافی اور معروف ٹی وی میزبان نے ایران اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض عناصر کی توقعات کے برعکس، تہران اور اسلام آباد کے روابط نہ صرف کمزور نہیں ہوئے بلکہ اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں اور علاقائی ہم آہنگی کے باعث ایک نئے اور مضبوط مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جو دونوں ممالک کی جانب سے مثالی تعلقات کے فروغ کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
حالیہ برسوں میں، بالخصوص گزشتہ چھ ماہ کے دوران، ایران اور پاکستان کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت نے باہمی روابط کو مستحکم کرنے، ہمہ جہتی تعاون کو فروغ دینے، علاقائی امن کے لیے مشاورت اور مشترکہ دشمنوں خصوصاً صہیونی حکومت کی سرگرمیوں کے خلاف ہوشیاری، نیز فلسطین اور امتِ مسلمہ کے حقوق کے تحفظ پر یکساں مؤقف اپنایا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا رواں سال کے آغاز میں تہران کا سرکاری دورہ، صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا لاہور اور اسلام آباد کا دورہ، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا پاکستان جانا اور حالیہ دنوں میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کا اسلام آباد کا دورہ، ان تعلقات کی گہرائی اور مشترکہ معاہدوں پر عملی پیش رفت کا واضح ثبوت ہیں۔
پاکستان کے معروف میڈیا تجزیہ کار کامران خان نے ایک آن لائن پروگرام میں کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات غیر معمولی اہمیت اور تاریخی نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جس میں سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اور آج ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات دیگر ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جنوری 2024 میں دونوں ممالک کی سرحدوں پر کچھ ناخوشگوار واقعات پیش آئے تھے، تاہم بعض عناصر کی اس امید کے برعکس کہ یہ واقعات تعلقات کو نقصان پہنچائیں گے، تہران اور اسلام آباد کی قیادت نے دانشمندانہ سفارت کاری کے ذریعے کسی بھی ممکنہ بحران کو بڑھنے سے روکا اور اس کے بعد مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہم آہنگ اقدامات کیے۔
کامران خان نے فلسطین کی حمایت، صہیونزم کے خلاف مشترکہ سفارت کاری، اسرائیلی جارحیت کے دوران ایران کے لیے پاکستان کی سیاسی و عوامی حمایت، اور برصغیر میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران کے مثبت کردار کو دونوں ممالک کی اسٹریٹجک ہم آہنگی کی نمایاں مثالیں قرار دیاں۔
اسی پروگرام میں سابق سینیٹر اور دفاعی امور کی کمیٹی کے سابق چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ 1979 میں اسلامی انقلاب ایران کے بعد سے آج تک، ایران اور پاکستان کے تعلقات اپنی بہترین سطح پر ہیں۔ انہوں نے اس پیش رفت کو ایران کی اعلیٰ قیادت، بالخصوص رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی حمایت کا نتیجہ قرار دیا۔
مشاہد حسین کے مطابق، پاکستان ایران کے علاقائی اور بین الاقوامی کردار سے بخوبی آگاہ ہے اور دونوں ممالک نے بیرونی جارحیت کے مقابلے میں ایک دوسرے کی بھرپور حمایت کی ہے، جس کا اظہار علاقائی اور عالمی فورمز پر بھی واضح طور پر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہم آہنگی ایک مثبت اور حوصلہ افزا علامت ہے۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی تبدیلیوں یا ایران کے نظام کے خلاف کسی بھی سازش کی مخالفت خطے کے مفاد میں ہے اور پاکستان اس حوالے سے اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے گا۔
ایرنا کے مطابق، ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے حال ہی میں ترکمانستان کے دارالحکومت عشق آباد میں بین الاقوامی امن و اعتماد کانفرنس کے موقع پر ملاقات کی، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار سے ملاقات کر کے دوطرفہ اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔


مشہور خبریں۔
پاکستان اپنے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، ترجمان دفترخارجہ کا اسرائیلی وزیراعظم کے بیان پر رد عمل
?️ 14 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) اسرائیلی وزیراعظم کے حالیہ بیان پر ترجمان دفتر
ستمبر
ٹرمپ کیوں چاہتے ہیں کہ دنیا ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کا دعویٰ مان لے؟
?️ 27 جون 2025سچ خبریں: سی این این کے تجزیے کے مطابق، صدر ٹرمپ کے ایران
جون
اسرائیلی بندرگاہ ایلات کی آمدنی میں 80 فیصد کمی
?️ 6 جون 2025سچ خبریں: صہیونیستی میگزین مارکر نے انکشاف کیا ہے کہ یمن کے
جون
پی ٹی آئی، مسلم لیگ(ن) نفرت اور تقسیم کی سیاست ترک کریں تو ساتھ چل سکتے ہیں، بلاول
?️ 8 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے
فروری
صیہونیوں کے ہاتھوں اردنی پارلیمنٹ رکن گرفتار
?️ 24 اپریل 2023سچ خبریں:اردنی وزارت خارجہ کے ترجمان نے غاصب صیہونی حکومت کے ہاتھوں
اپریل
جنگ کے خاتمے کے بغیر قیدیوں کا تبادلہ نا ممکن : فلسطینی مزاحمت
?️ 26 مارچ 2024سچ خبریں:غزہ میں اب تک ہونے والے تمام جنگ بندی مذاکرات کی
مارچ
خونریز تنازع کی داستان؛جموں و کشمیر کا بھارت سے الحاق کیسے ہوا؟
?️ 6 فروری 2025سچ خبریں:پاکستان کے صدر نے یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر اپنے
فروری
روس کی 97 فیصد تجارت شنگھائی ممالک کے ساتھ مقامی کرنسیوں میں ہوتی ہے:روس
?️ 19 نومبر 2025سچ خبریں:روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس اور شنگہائی
نومبر