?️
سچ خبریں:صیہونی تحقیقاتی سینٹر بیگن سادات کا خیال ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکام پالیسی سے ملتی جلتی پالیسیوں پر عمل درآمد کر رہا ہے اور اس ملک کی اندھی حکومت جان بوجھ کر اب بھی انھیں سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔
صیہونی تحقیقاتی سینٹر بیگن سادات افغانستان میں امریکی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے ایک کالم میں لکھا کہ افغانستان میں امریکی پالیسی جھوٹ ، جہالت اور غیر معقولیت پر مبنی تھی،تاہم کچھ پالیسیاں جو افغانستان میں ناکام پالیسیوں سے بہت ملتی جلتی ہیں اب بھی امریکہ میں جان بوجھ کر اندھی حکومت کی طرف سے سنجیدگی سے نہیں لی جارہی ہیں اور ان پر عمل درآمد ہورہا ہے،امریکی خارجہ پالیسی کے کئی دوسرے پہلو جن پر ابھی تک سنجیدگی سے عمل کیا جا رہا ہے ، اتنے ہی خطرناک معلوم ہوتے ہیں۔
امریکی فوج کے کابل سے فرار کے ہنگامہ خیز مناظر وہ تصاویر ہیں جو دیوار برلن کے خاتمے کے بعد سے دنیا نے کئی دہائیوں میں نہیں دیکھی ہیں اور اوپر سے اتفاق یا شاید ستم ظریفی یہ ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا سے کچھ دن پہلے برلن دیوارکی تعمیر کی 60 ویں سالگرہ تھی،واضح رہے کہ یہ دیوار کسی بھی صورت میں طاقت کی علامت نہیں تھی،سوویت یونین اور مشرقی جرمنی کے حکمرانوں نے تسلیم کیا کہ سوشلسٹ کاروائی ایک مکمل ناکامی تھی اور صرف بند باڑوں اور دیواروں کے پیچھے ہی وجود رکھ سکتی تھی۔
امریکیوں کا عجلت میں افغانستان سے فرار ایسا ہی تھا جیسا کہ دہائیوں پہلے دیوار برلن کی تعمیر کسی جنگ میں شکست کی علامت نہیں بلکہ طویل مدتی اسٹریٹجک ناکامی کی علامت سمجھی جارہی تھی،ایک ہفتہ میں ہونے والے واقعات جو افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضے کا باعث بنے ، گزشتہ تین دہائیوں کے دوران امریکی بے مقصد خارجہ پالیسی کی انتہا تھی، اس سانحے کی پہلی علامات سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ظاہر ہوئیں، اس وقت امریکہ خوش تھاجبکہ امریکہ کی موجودہ خارجہ پالیسی سویت یونین اس وقت کی خارجہ پالیسی سے بہت ملتی جلتی ہے ،اس وقت اس سپر پاور کو یقین تھا کہ وہ ہمیشہ رہےگا۔
تاہم یوگوسلاویہ میں بحران آیااور سابقہ جمہوریوں اور نسلی گروہوں کے مابین ایک خونی خانہ جنگی شروع ہوئی جس نے بلاشبہ امریکی خارجہ پالیسی کو تیز کیا اورانھوں نے زیادہ درست طریقے سے ان ممالک کی آزادی کے بارے میں جو یورپ کی دو بڑی سوشلسٹ تنظیموں پر مشتمل تھا کام کیا،جارج ڈبلیو بش جو اس وقت امریکہ کے صدر تھے ، نے عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل کیا، ملک کی علاقائی سالمیت کے بارے میں سلوبوڈان میلوسیوک کو ان کی بار بار یقین دہانی نے انہیں اس نتیجے پر پہنچایا کہ امریکہ اپنے ملک کو متحد رکھنے کے لیے ان کے سخت اقدامات پر اعتراض نہیں کرے گا۔


مشہور خبریں۔
ابوشباب کا قتل؛ غزہ میں صیہونی جاسوسی کے منصوبوں کی بڑی ناکامی
?️ 7 دسمبر 2025سچ خبریں:غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے کارندے اور دہشت گرد یاسر
دسمبر
’منصوبہ سندھ کو بنجر بنا دے گا‘ کاشتکاروں کا چولستان کینالز کےخلاف احتجاج
?️ 24 نومبر 2024کراچی: (سچ خبریں) سندھ کے جنوبی خطے کے کاشتکاروں نے پنجاب میں
نومبر
افغانستان میں ہسپتال پر راکٹ حملہ، بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات
?️ 24 جون 2021کابل (سچ خبریں) افغانستان سے یکم مئی کے بعد امریکی افواج کے انخلا
جون
کابینہ اراکین کفایت شعاری کی پالیسی پر مکمل عملدرآمد سے تاحال گریزاں
?️ 14 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے گزشتہ ماہ
مارچ
امریکہ کے ساتھ کسی بھی فوجی تنازع کے لیے تیار ہیں:شمالی کوریا
?️ 29 جولائی 2022سچ خبریں:شمالی کوریا کے رہنما نے کہا کہ پیانگ یانگ امریکہ کے
جولائی
امریکہ کی طاقت اور بیجنگ واشنگٹن تعلقات پر اس کے اثر
?️ 25 جنوری 2023سچ خبریں:امریکی کانگریس کے ریپبلکنز کے لیے نیا سال اس ملک کے
جنوری
لبنان کے بعد غزہ کی جنگ بھی ختم ہونی چاہیے: ہاریٹز
?️ 28 نومبر 2024سچ خبریں: عبرانی اخبار Ha’aretz نے اپنے صفحہ اول پر لکھا ہے
نومبر
پہلگام حملے سے سیز فائر تک کئی سوالات برقرار، بھارت کے پاس کوئی جواب نہیں
?️ 8 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) پہلگام حملے سے سیز فائر تک کئی سوالات
جون