اسرائیل کی حمایت میں کمی

اسرائیل

?️

سچ خبریں:امریکی مرکز برائے سلامتی اور انٹلی جنس اسٹڈیز (جسے امریکی انٹلی جنس کے قریب بتایا جاتا ہے) نے غزہ جنگ کے بعد اسرائیل پر امریکہ سختی کرئے گا،کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا ، جس میں ریان پول نے کہا ہےکہ غزہ میں کشیدگی میں اضافے کے بعد امکان ہے کہ امریکہ ایک نئے امن عمل میں شامل ہونے کے بجائے اسرائیلی فلسطینی تناؤ کو سنبھالنے پر توجہ دے،تاہم اگر یہ تنازعہ حل نہ ہوا تو اسرائیل کے لئے دوطرفہ حمایت کمزور رہے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مابین قریبی تعلقات پر نئی سفارتی کشیدگی اور شک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

امریکی قلمکار نے مزید کہا کہ اسرائیل کے خلاف 11 روزہ فلسطینی مزاحمتی جنگ کے بعد امریکہ نے اپنی سفارت کاری بحال کرنے ، اسرائیل میں اپنا عبوری سفیر مقرر کرنے اور 24سے26 مئی کے درمیان خطے میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لئےاپنے سکریٹری خارجہ انتھونی بلنکن کو بھیجنے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ بلنکن کے اس سفر میں حماس کی حمایت کے بغیر غزہ میں تعمیر نو کی امداد فراہم کرنے یا اسرائیل کی سلامتی کے خدشات کا حل تلاش کرنے کے لیےبڑے پیمانے پر تلاش کی ، یادرہے کہ اسرائیلی اکثر کہتے ہیں کہ بین الاقومی برادری کی جانب سے فلسطین کے لیے بھیجی جانے والی امداد حماس تک پہنچتی ہے اوروہ اسے فوجی مقاصد کے لئے استعمال کرتی ہے۔

اگرچہ بلنکن نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان نئی امن مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا ہے ،تاہم اس عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے حالات مناسب نہیں لگتے ہیں کیونکہ وہ معاملات جن کی وجہ سے 2013۔2014 کے امن مذاکرات میں خلل پڑا جس میں باہمی اعتماد کا فقدان اور اسرائیلی بستیوں میں توسیع شامل ہے ،ابھی بھی موجود ہیں،اس کے علاوہ امن عمل کو دیگر رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔

امریکی قلمکار نے مزید کہا کہ فلسطین کا سیاسی نظام تقسیم ہوچکا اور اسرائیل کی دائیں بازو کی حکومت کی وجہ سے محمود عباس سمیت فلسطینی رہنماؤں کے خلاف فلسطینی عوام کا شدید غم و غصہ انھیں اسرائیل کا مزید مقابلہ کرنے پر مجبور کررہا ہے،انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی اسرائیل میں دائیں بازو کے ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو فلسطینیوں کو مراعات دینا قبول نہیں کرتے ہیں، در حقیقت بہت سے اسرائیلیوں نے غزہ میں حالیہ جنگ بندی کی مخالفت کی اور حماس کو روکنے کے لئے مزید فوجی کاروائیوں کو ترجیح دی۔

تجزیہ کار نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں حالیہ تناؤ فلسطین کے لئے امریکہ میں بڑھتی ہوئی ملکی مدد کا سبب بنا ہےجس نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین کو اسرائیل کے ساتھ 735 ملین ڈالر کے اسلحے کے معاہدے کو روکنے کے لئے کام کرنے پر مجبور ہے۔

 

مشہور خبریں۔

نیتن یاہو کے اتحادیوں کی ملٹری سروس چوری کی وجہ سے اسرائیلی فوج کو 3 بلین ڈالر کا نقصان ہوا

?️ 19 دسمبر 2025سچ خبریں: نوجوان حریدی مردوں کے لیے استثنیٰ میں توسیع کا بل،

آرمینیا میں واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان مقابلہ

?️ 9 دسمبر 2024سچ خبریں: آرمینیائی وزیر دفاع سورین پاپیکیان کی پینٹاگون کے سربراہ لائیڈ

حزب اللہ کے ڈرونز نے صیہونی فوج کی نیندیں حرام کر دی ہیں:صیہونی میڈیا

?️ 10 مئی 2026سچ خبریں:صیہونی اخبار یدیعوت احرونٹ کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے

فرانس میں صدارتی انتخابات اپریل ۲۰۲۷ میں منعقد ہونے کے امکان

?️ 1 جولائی 2026سچ خبریں:  فرانس کے صدارتی محل کے ایک ذریعے کے حوالے سے موصولہ

وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا دورہ بنوں، دہشتگردی کیخلاف اہم فیصلے متوقع

?️ 13 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اس وقت بنوں

ٹرمپ کے داماد نے اسرائیلی بربریت کا اعتراف کر لیا: ایسا لگتا ہے جیسے غزہ میں ایٹمی بم پھٹ گیا ہو

?️ 20 اکتوبر 2025سچ خبریں: حال ہی میں ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ غزہ

ٹویٹر کے ہفتے بھر کے عدم استحکام کا خاتمہ

?️ 5 نومبر 2022سچ خبریںٹویٹر سوشل نیٹ ورک نئے مالک ایلون مسک کے انتظامی دور

آج بھی غزہ میں کربلا برپا ہے اور عالم اسلام خاموش ہے، خواجہ آصف

?️ 7 جولائی 2025سیالکوٹ: (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حضرت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے