یمن سے متعلق سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ کی ایران پر الزام تراشی

سلامتی کونسل

?️

سچ خبریں:اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی اور برطانوی نمائندوں نے سعودی عرب کی حمایت کرتے ہوئے یمن کی انصاراللہ پر تنقید کی اور ایران سے اس کی حمایت روکنے کا مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی نمائندے نے سعودی عرب اور جسے انہوں نے یمن کی قانونی حکومت قرار دیا، اس کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر الزامات عائد کیے۔

اناطولیہ خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں امریکہ کے نائب نمائندے جیف بارٹوس نے جمعے کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی اور ایران سے یمن کی انصاراللہ کی حمایت روکنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے اس مطالبے کو رپورٹ میں بے بنیاد الزام قرار دیا گیا ہے۔

بارٹوس نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حالیہ میزائل حملوں کا ذکر کیا، تاہم انہوں نے یمن پر سعودی عرب کے وسیع حملوں اور اس ملک کی ناکہ بندی کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یمنی جنگجو تہران کے ہاتھوں ایک آلے کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اس گروپ کی سرگرمیاں علاقائی استحکام کو نقصان پہنچاتی ہیں، بحری جہاز رانی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہیں اور شہریوں کے لیے بھی خطرات پیدا کرتی ہیں۔

امریکی نائب نمائندے نے یمنی فورسز سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حکومت، جسے واشنگٹن یمن کی قانونی حکومت قرار دیتا ہے، اور سعودی عرب کے خلاف حملے بند کریں۔

انہوں نے زور دیا کہ امریکہ اس گروپ کی جانب سے لاحق خطرات کے مقابلے میں سعودی عرب اور یمنی حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔ بارٹوس نے صنعا میں قائم حکومت کا مقابلہ کرنے، بحری جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ اور خطے میں طویل مدتی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کا بھی دعویٰ کیا۔

برطانیہ کی جانب سے بھی یمنی فورسز پر تنقید

دوسری جانب، اقوام متحدہ میں برطانیہ کی نمائندہ سارہ میکانٹوش نے بھی امریکی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار یمنی فورسز کو قرار دیا اور ان کے حملوں کی مذمت کی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے، تنازع شدت اختیار کرتا ہے اور امن کے امکانات مزید دور ہو جاتے ہیں۔

برطانوی نمائندے نے یمن کے خلاف سعودی عرب کی فوجی کارروائیوں اور ناکہ بندی کا ذکر کیے بغیر سفارت کاری کی جانب واپسی اور سیاسی حل تک پہنچنے کی ضرورت پر زور دیا۔

میکانٹوش نے مزید دعویٰ کیا کہ برطانیہ نے رواں سال یمن کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی مد میں 137 ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔

انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2140 کے تحت پابندیوں کے دائرے میں آنے والے افراد اور گروہوں کے خلاف پابندیوں پر عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا۔

مشہور خبریں۔

فرانچسکا آلبانیز کا دوٹوک اعلان: استعفیٰ نہیں دوں گی، مغربی ممالک غزہ پر توجہ دیں

?️ 13 فروری 2026فرانچسکا آلبانیز کا دوٹوک اعلان: استعفیٰ نہیں دوں گی، مغربی ممالک غزہ

جو یوکرین کی مدد نہیں کرے گا اس کے ساتھ کیا کریں گے؛یورپی یونین کا انتباہ

?️ 29 جنوری 2024سچ خبریں: ایک برطانوی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ یورپی یونین

صیہونی وزیر کا قطر پر الزام

?️ 25 جنوری 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیر خزانہ نے اس جمعرات کو قطر

ایران، روس اور چین کے تعلقات کیوں اہم ہیں؟

?️ 3 ستمبر 2026سچ خبریں:روس اور چین کے ساتھ ایران کے تزویراتی تعلقات، غیر ڈالر

یکم اکتوبر سے پٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان،

?️ 30 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) یکم اکتوبر سے پٹرولیم مصنوعات 16 روپے تک

عراقی پارلیمانی انتخابات میں شرکت، عوامی اعتماد کی بحالی

?️ 12 اکتوبر 2021  سچ خبریں: حالیہ عراقی پارلیمانی انتخابات کے نتائج سے قطع نظرجو

غزہ کے بارے میں امریکہ اور سعودی وزرائے خارجہ کے درمیان مذاکرات

?️ 19 اگست 2024سچ خبریں: امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے، جو اب مقبوضہ علاقوں

صیہونیوں کی جنت

?️ 4 جولائی 2021سچ خبریں:بیشتر مسلم ممالک کے عوام کی مخالفت کے باوجود اور متحدہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے