مغربی کنارے کو ہڑپنے کی سازش کے مقابلے کا واحد راستہ اتحاد ہے: فلسطینی مزاحمتی تحریک

فلسطینی مزاحمتی تحریک

?️

سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی تحریک کے گروہوں نے مغربی کنارے کے الحاق اور فلسطینیوں کی بے‌دخلی کی صیہونی سازش کے خلاف قومی اتحاد اور اجتماعی مزاحمتی تحریک کو واحد راستہ قرار دیا ہے اور عرب و اسلامی ممالک سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

فلسطینی گروہوں نے مغربی کنارے کو نگلنے کی صیہونی  سازش کے مقابلے میں اتحاد اور اجتماعی مزاحمتی تحریک کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کو نگلنے اور وہاں سے فلسطینیوں کو مٹانے کے لیے صہیونی حکومت کے نئے اقدامات پر فلسطینی حلقوں اور گروہوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور اسے فلسطینی عوام کی جبری بے‌دخلی اور ان کی سرزمین پر موجودگی کے خاتمے کی صہیونی سازش کے تسلسل کا حصہ قرار دیا گیا ہے،قابضین فلسطینیوں کی موجودگی کو مٹانے کے درپے ہیں

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کے مغربی کنارے کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے: اردن

اس حوالے سے فلسطینی مزاحمتی تحریکی کمیٹیوں نے ایک بیان میں کہا کہ صہیونی حکومت کی سیکیورٹی کابینہ کے نئے فیصلے، جن کے تحت مغربی کنارے کے علاقوں A اور B پر قبضے کو بڑھانے کی منظوری دی گئی ہے، عملی طور پر اس علاقے کے الحاق، نئے زمینی حقائق مسلط کرنے اور فلسطینیوں کی موجودگی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔

مزاحمتی تحریک کی کمیٹیوں نے زور دیا کہ انتہائی دائیں بازو کی صہیونی کابینہ کے یہ فیصلے بستیوں کی توسیع، مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں گھروں کی تباہی، علیحدگی اور تسلط کی پالیسیوں کے فروغ، فلسطینی سیاسی موجودگی کے انکار اور قانونی پردوں اور انتظامی ڈھانچوں کے ذریعے صہیونی قبضے کو مستقل حقیقت بنانے کے ذریعے اعلانِ جنگ کے مترادف ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فلسطینی قوم اس تاریخی اور وجودی چیلنج کے سامنے کھڑی ہوگی، اور ہم فلسطین لبریشن آرگنائزیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اوسلو منصوبے سے دستبردار ہو کر قومی فلسطینی منصوبے کو دوبارہ معتبر بنائے تاکہ صہیونی دشمن کی ان سازشوں کا مقابلہ کیا جا سکے جو منظم اور دائمی قبضے کو مستحکم کرنا چاہتی ہیں۔

فلسطینی مزاحمتی تحریک نے تمام فلسطینی عوام سے اپیل کی کہ وہ صہیونی حکومت کی سازشوں اور وہموں کو ناکام بنانے کے لیے اپنے اتحاد اور مزاحمتی تحریک کو مضبوط کریں۔

حماس نے بھی گزشتہ شب ایک بیان میں کہا کہ ہم قابض کابینہ کے ان نئے فیصلوں کی شدید مذمت کرتے ہیں جو مغربی کنارے میں ہماری سرزمین اور عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں، جن میں زمینوں کی ضبطی، بستی نشینوں کے لیے املاک کے رجسٹری دفاتر کھولنا اور خاص طور پر الخلیل کی بلدیہ سمیت ہماری قومی اور بلدیاتی اداروں کو کمزور کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔

حماس نے کہا کہ یہ فیصلے فاشسٹ بستی سازی کی پالیسی، مغربی کنارے کے مکمل الحاق کے منصوبے اور انتہائی دائیں بازو کی مجرم کابینہ کی نسل کشی اور نسلی تطہیر کی جنگ کے دائرے میں آتے ہیں، جن کا مقصد جھوٹی حاکمیت مسلط کرنا اور زمینی جغرافیائی و قانونی حقائق کو تبدیل کرنا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان صہیونی فیصلوں کے سائے میں ہم ایک بار پھر قومی اتحاد اور قبضے کے خلاف مزاحمتی تحریک کے لیے مشترکہ پروگرام پر اتفاق کی اپیل کرتے ہیں۔

 ہم مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں اپنے عوام اور انقلابی نوجوانوں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمام دستیاب ذرائع سے قابض رژیم اور اس کے بستی نشینوں کے خلاف مزاحمتی تحریک تیز کریں تاکہ الحاق، یہودی سازی اور بے‌دخلی کے منصوبے ناکام ہوں۔

حماس نے زور دیا کہ فلسطینی قوم کبھی بھی ان قبضہ گیر پالیسیوں کو قبول نہیں کرے گی اور اپنے تاریخی حقوق کے دفاع میں مزاحمتی تحریک جاری رکھے گی۔ یہ سرزمین ہمارے عوام کی استقامت اور مزاحمتی تحریک سے مشروعیت حاصل کرتی ہے اور ایسے عارضی فیصلے قابضین کو ہماری سرزمین کے ایک انچ پر بھی حق نہیں دیں گے۔

حماس نے مزید کہا کہ ہم عرب اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صہیونی قبضے اور مغربی کنارے کے الحاق کو عملِ انجام شدہ بنانے کے منصوبوں کے مقابلے میں اپنی تاریخی ذمہ داریاں ادا کریں، اور اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کریں جن میں سب سے اہم صہیونی رژیم سے تعلقات منقطع کرنا اور اس کے سفیروں کو عرب و اسلامی دارالحکومتوں سے نکالنا شامل ہے۔

حماس نے کہا کہ عرب اور اسلامی دنیا کا صہیونی رژیم سے تعلقات توڑنا فلسطینی عوام کے حقوق کے حق میں متحدہ موقف کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے، اور ہم اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قابضین پر حقیقی اور مؤثر دباؤ ڈالیں اور فلسطینی عوام کے خلاف جاری جرائم پر ان کا محاسبہ کریں۔

جہاد اسلامی کے رہنما ابو سامر موسیٰ نے بھی کہا کہ مغربی کنارے میں بستی سازی کی توسیع کے یہ فیصلے نسلی تطہیر اور یہودی سازی کی پالیسی کا حصہ ہیں اور واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ صہیونی رژیم طاقت کے ذریعے استعماری حقائق مسلط کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ الخلیل سے متعلق فیصلے مغربی کنارے کے عملی الحاق اور فلسطینی جغرافیہ پر قبضے کے مترادف ہیں، اور عالمی خاموشی دنیا کو ان جرائم میں شریک بناتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی و سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ، بین الاقوامی قانون کا راستہ فعال کرنا اور عوامی اتحاد و مزاحمتی تحریک کو مضبوط بنانا ضروری ہے، اور فلسطینی اتھارٹی کو امریکہ اور صہیونی رژیم کو خوش کرنے کے بجائے واضح اور سخت موقف اختیار کرنا چاہیے۔

یہ ردعمل اس وقت سامنے آئے جب صیہونی  سیکیورٹی-سیاسی کابینہ نے مغربی کنارے کی قانونی اور شہری حیثیت میں بنیادی تبدیلیاں کرنے اور صیہونی  کنٹرول بڑھانے کے لیے فیصلوں کا ایک پیکج منظور کیا، جن میں فلسطینی زمینوں کی یہودیوں کو فروخت پر اردنی پابندی کا خاتمہ، اراضی رجسٹری دستاویزات کی رازداری ختم کرنا اور الخلیل کے بعض علاقوں میں تعمیراتی اجازت ناموں کے اختیارات فلسطینی اداروں سے صیہونی  سول ایڈمنسٹریشن کو منتقل کرنا شامل ہے۔

ان فیصلوں کے تحت علاقوں A اور B تک صیہونی  نگرانی اور نفاذ کے اختیارات بڑھائے گئے ہیں، جس سے فلسطینی املاک کی مسماری اور ضبطی ممکن ہو جائے گی، حتیٰ کہ ان علاقوں میں بھی جو پہلے فلسطینی اتھارٹی کے تحت تھے۔

مزید پڑھیں:مغربی کنارے پر صیہونیوں کی جارحیت جاری 

صیہونی اخبار یدیوت احرونٹ کہ ان فیصلوں کا ایک حصہ الخلیل میں موجود انتظامات کی تبدیلی سے متعلق ہے، جن میں مسجد ابراہیمی اور اس کے اطراف کی منصوبہ بندی اور تعمیراتی اختیارات الخلیل کی بلدیہ سے صیہونی سول ایڈمنسٹریشن کو منتقل کرنا شامل ہے، جو 1997 کے الخلیل معاہدے کے منافی ہے۔

مشہور خبریں۔

پاکستان کا ترقی پذیر ممالک کو ایم ڈی بیز میں ویٹوپاوردینے کا مطالبہ

?️ 27 جون 2025بیجنگ: (سچ خبریں) پاکستان نے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بی(اے آئی آئی بی

کیا 2024 کے انتخابات کے لیے بائیڈن اور ٹرمپ دونوں نااہل ہیں؟

?️ 21 ستمبر 2023سچ خبریں: ہل میگزین نے اپنی ایک رپورٹ میں جو بائیڈن کو

شام اور ترکی کے درمیان تعلقات کو بحال کرنےمیں کون سی رکاوٹیں ہیں

?️ 16 نومبر 2024سچ خبریں: شام کے ساتھ معمول اور سرکاری سفارتی تعلقات بحال کرنے

پارلیمانی جمہوریت میں بحران سے نمٹنے کیلئے ڈائیلاگ ہی واحد راستہ ہے، وزیر داخلہ

?️ 18 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) پنجاب کے

پاکستان کا بھارت سے ملحقہ فضائی حدود آئندہ 2 روز مخصوص اوقات میں بند رکھنے کا فیصلہ

?️ 27 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے بھارت سے ملحقہ فضائی حدود آئندہ

برطانیہ پر سائبر حملوں کے سیلاب کا نیا ریکارڈ

?️ 17 نومبر 2021سچ خبریں:برطانوی حکومت کے ایک ادارے کے سروے سے پتہ چلتا ہے

کل جماعتی حریت کانفرنس کا مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی پر اظہارتشویش

?️ 13 اپریل 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل

آئی ایم ایف سے قسط ملنے کی توقع، روپے کی قدر میں مسلسل اضافہ

?️ 27 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے