صیہونی فوج میں شدید افرادی قلت؛صیہونی میڈیا کا اعتراف 

صیہونی فوج میں شدید افرادی قلت؛صیہونی میڈیا کا اعتراف 

?️

سچ خبریں:صیہونی میڈیا نے تسلیم کیا ہے کہ صہیونی فوج کو شدید افرادی قلت اور سپاہیوں کی تھکن جیسے دو بڑے مسائل کا سامنا ہے، جو جنگی تیاری اور سپاہیوں کے حوصلے پر سنگین منفی اثر ڈال رہے ہیں۔

مرکز اطلاعات فلسطین کی رپورٹ کے مطابق، صیہونی ذرائع ابلاغ اور سیاسی تجزیہ نگاروں نے موجودہ صورتحال میں صہیونی فوج کو درپیش دو بڑے مسائل کی نشاندہی کی ہے؛ شدید افرادی قلت اور سپاہیوں کی تھکن اور فرسودگی۔
صہیونی ٹی وی چینل چینل 13 نے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیلی فوج سخت افرادی قلت کا شکار ہو چکی ہے، رپورٹ کے مطابق، وہ فوجی جو اپنی لازمی سروس مکمل کرنے والے تھے، اب انہیں زبردستی مزید چار ماہ کے لیے ریزرو فورس میں خدمت جاری رکھنے پر مجبور کیا گیا ہے۔
اسی تناظر میں اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونٹ نے لکھا کہ لازمی سروس کی مدت میں زبردستی توسیع نے فوجیوں میں شدید نارضایتی اور حوصلے کی نمایاں کمی پیدا کر دی ہے۔
غزہ میں موجود کچھ فوجیوں نے بتایا ہے کہ وہ خود کو استعمال شدہ محسوس کر رہے ہیں اور شدید تھکن کا شکار ہیں، ایک گروپ کمانڈر نے یدیعوت آحارونوت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
ہمارا حوصلہ بری طرح گر گیا ہے، ہم سب اس صورتحال کے خاتمے کی خواہش رکھتے ہیں، ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، اعلیٰ حکام ہماری ذاتی زندگیوں کی پرواہ کیے بغیر سخت فیصلے کر رہے ہیں۔
اس کمانڈر نے مزید بتایا کہ جب غزہ کے محاذ سے واپسی پر انہیں کچن یا دیگر غیر جنگی ڈیوٹیوں پر تعینات کیا جاتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف محاذ پر نہیں بلکہ فوج کے تمام شعبوں میں افرادی قلت شدید ہو چکی ہے۔
اسرائیلی ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ فوج کی جانب سے آرڈر 77 کے تحت لازمی سروس میں توسیع نے فوج میں بڑے پیمانے پر چیلنجز اور حوصلے میں گراوٹ پیدا کی ہے،فوجی حکام نے بھی تسلیم کیا کہ یہ اقدام فورسز کی تیاری اور حوصلے پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔
اسی حوالے سے اسرائیلی ریڈیو اور ٹی وی ادارے نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی فوج کو باضابطہ سروس میں تقریباً 7500 فوجیوں اور معاون جنگی شعبوں میں 12 ہزار اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔
اسحاق بریک، اسرائیلی فوج کے ریٹائرڈ جنرل، نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی حکومت غزہ میں ایک بڑی فوجی کارروائی کے لیے مزید ریزرو فوجیوں کو بلانے کا منصوبہ بناتی ہے تو ایک تباہ کن منظرنامہ سامنے آ سکتا ہے کیونکہ ریزرو فورسز اب مزید رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دینے کو تیار نہیں ہیں۔
بریک نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال سابقہ ​​دور کی نسبت کہیں زیادہ خراب ہے، کیونکہ فوجی وسائل ختم ہو رہے ہیں، حوصلے ٹوٹ رہے ہیں اور جنگی سازوسامان بھی خستہ حال ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک انجام کے نتیجے میں نہ صرف یرغمالیوں کی رہائی کا امکان ختم ہو جائے گا بلکہ مزید فوجی اور معصوم شہری ہلاک ہوں گے، اور اسرائیل عالمی حمایت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
بریک نے متنبہ کیا کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو اسرائیل کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی، لاکھوں لوگ اپنی ملازمتیں کھو دیں گے، تل ابیب اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرے گا، اور سماجی ہم آہنگی بھی ٹوٹ کر بکھر جائے گی، نتیجتاً اسرائیل نہ صرف حماس کے خلاف فتح حاصل کرنے میں ناکام ہوگا بلکہ اپنی موجودہ حیثیت بھی کھو بیٹھے گا۔

مشہور خبریں۔

امریکا سے اچھے تعلقات کا مطلب یہ نہیں کہ غلط چیز میں بھی اس کا ساتھ دیں، اسحاق ڈار

?️ 27 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے

پنجاب کے 5 نئے اضلاع کو قومی و صوبائی اسمبلی کی 13 نشستیں ملیں گی

?️ 9 اکتوبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) ابتدائی حد بندی کے تحت گزشتہ سال پنجاب

مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں: رپورٹ

?️ 24 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت کی طرف سے

قسد کے جنگجوؤں کو شام کی سرکاری فوج میں شامل کیا جائے

?️ 28 نومبر 2025قسد کے جنگجوؤں کو شام کی سرکاری فوج میں شامل کیا جائے

اڈیالہ جیل سے عمران خان کی منتقلی کی خبریں بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ پنجاب حکومت

?️ 27 نومبر 2025لاہور (سچ خبریں) پنجاب حکومت نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قید بانی

صدر مملکت عارف علوی کی قومی ٹیم کو مبارک باد

?️ 25 اکتوبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان نے بھارت کے خلاف کرکٹ میچ میں تاریخی

امریکہ میں گزشتہ چار دہائیوں میں اخراجات میں غیر معمولی اضافہ

?️ 24 دسمبر 2021سچ خبریں: بزنس اسٹینڈرڈ نے جمعہ کی صبح لکھا کہ امریکہ میں اشیاء

ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن پابندیاں کم نہیں کریں گے:امریکہ

?️ 27 فروری 2021سچ خبریں:وائٹ ہاؤس کے ترجمان کاکہناہے کہ ان کا ملک ایران کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے