وہ فلسطینی قیدی جسے 48 بار عمر قید کی سزا سنائی گئی

وہ فلسطینی قیدی جسے 48 بار عمر قید کی سزا سنائی گئی

?️

سچ خبریں:محمد ابووردہ ان فلسطینی قیدیوں میں سے ایک تھے جنہیں سب سے طویل سزائیں سنائی گئی تھیں اور بالآخر صہیونی ریاست کو حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے عمل میں انہیں رہا کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔  

اناطولی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محمد ابووردہ الخلیل شہر کے جنوب میں واقع الفوار کیمپ کے رہائشی تھے اور انہیں صہیونی ریاست کی جیلوں میں سب سے طویل سزائیں سنائی گئی تھیں۔
تاہم، بالآخر وہ حماس اور صہیونی ریاست کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے تیسرے مرحلے میں صیہونی جیل سے رہا ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
انہیں 2002 میں ان دھماکوں کی منصوبہ بندی اور انہیں انجام دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جن کے نتیجے میں 45 صہیونی فوجی اور آبادکار ہلاک نیز 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
 انہیں 48 بار عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، انہوں نے صہیونی ریاست کی جیلوں میں 23 سال گزارے اور بالآخر حالیہ قیدیوں کے تبادلے کے عمل میں رہا ہوئے۔
عمر قید کی عام تعریف یہ ہے کہ قیدی کو زندگی بھر قید رکھا جائے، لیکن صہیونی ریاست نے حال ہی میں اس تعریف کو تبدیل کر دیا ہے اور اب وہ فلسطینی قیدیوں کی لاشوں کو ان کے خاندانوں کو واپس نہیں کرتی، حالانکہ اکثر معاملات میں فلسطینی قیدیوں کی موت صہیونیوں کے تشدد، بدسلوکی اور طبی غفلت کی وجہ سے ہوتی ہے۔
58 سالہ ابووردہ قیدیوں کے تبادلے کے تیسرے مرحلے میں 3 صہیونی فوجیوں کے بدلے رہا ہوئے، اس مرحلے میں 110 فلسطینی قیدی رہا ہوئے، جن میں سے 32 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، 48 قیدیوں کو دیگر سزائیں سنائی گئی تھیں جبکہ 30 قیدی کم سن تھے۔
ابووردہ عزالدین القسام بریگیڈ کے کمانڈروں میں سے ایک ہیں، وہ 17 جنوری 1967 کو مقبوضہ علاقوں کے مرکز میں پیدا ہوئے، انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم الفوار کیمپ میں فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد اور روزگار کی ایجنسی (انروا) کے اسکول میں حاصل کی اور پھر الخلیل شہر کے ایک دینی مدرسے میں داخلہ لیا جہاں انہوں نے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی، انہوں نے بیت اللحم یونیورسٹی اور القدس یونیورسٹی میں اپنی تعلیم جاری رکھی اور پھر رام اللہ شہر کے دارالمعلمین کالج میں داخلہ لیا۔
ابووردہ نے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز اسلامی تحریکوں اور حماس کی طلبہ ونگ میں شمولیت کے ساتھ کیا، وہ القدس یونیورسٹی میں اس تحریک میں شامل ہوئے، 1987 میں پہلے انتفاضہ (انتفاضہ اولی) کے آغاز کے بعد وہ حماس کی عسکری شاخ عزالدین القسام بریگیڈ میں شامل ہو گئے، لیکن گریجویشن سے پہلے ہی صہیونی حکومت نے انہیں گرفتار کر لیا۔
محمد ابووردہ پہلی بار 15 سال کی عمر میں گرفتار ہوئے ،ان پر صہیونی فوجیوں اور آبادکاروں پر پتھراؤ اور کیمپ کی دیواروں پر انقلابی نعرے لکھنے کا الزام تھا۔
ان کی دوسری گرفتاری 2002 میں کئی سال تک زیر پیچھا کرنے کے بعد ہوئی، ان پر 1996 میں شہادت طلبانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان میں شرکت کا الزام تھا، جس کے نتیجے میں 45 صہیونی فوجیوں اور آبادکار ہلاک اور 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
ابووردہ کے خاندان کے افراد اور بھائی بھی ان کے زیر تعقیب رہنے کے دوران، جو 5 سال تک جاری رہا، فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے بارہا جیل بھیجے گئے اور تشدد کا نشانہ بنے، محمد نے زیر تعقیب رہتے ہوئے نورہ الجعفری سے شادی کی، اس شادی کے نتیجے میں ان کے ہاں حمزہ نامی بیٹا پیدا ہوا۔
ان کی پہلی گرفتاری 4 مارچ 1996 کو فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے ہوئی، لیکن 2000 میں دوسرے انتفاضہ (انتفاضہ ثانیہ) کے آغاز کے بعد وہ جیل سے رہا ہو گئے، فلسطینی اتھارٹی نے 2002 میں انہیں دوبارہ گرفتار کیا، لیکن صہیونی فوجیوں کے الخلیل شہر پر حملے کے بعد وہ جیل سے فرار ہو گئے۔
 ابووردہ نے اسی سال شادی کی، اور کچھ ہی عرصے بعد صہیونی ریاست کے فوجیوں نے انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا۔
صہیونی جیلوں میں تشدد  
ابووردہ نے صہیونی جیلوں میں کئی بار بھوک ہڑتال کی، جن میں سب سے اہم 2012 کی ہڑتال تھی، صہیونی ریاست نے کئی بار طویل عرصے تک انہیں اپنے خاندان سے ملنے سے روکا۔
 وہ ان افراد میں سے تھے جنہیں 2011 میں قیدیوں کے تبادلے کے عمل، جسے گلعاد شالیٹ تبادلہ کہا جاتا ہے، میں رہا کیا جانا تھا، لیکن صہیونی ریاست نے اس کی مخالفت کی۔
صہیونیوں نے طویل عرصے سے انہیں فلسطین کے سب سے خطرناک قیدیوں میں سے ایک قرار دیا اور ان کی رہائی کی مخالفت کی۔

مشہور خبریں۔

واشنگٹن حکام کو اپنے ملک میں بھی انسانی حقوق کے مسئلے پر توجہ دینی چاہیے: روس

?️ 13 اگست 2021سچ خبریں:واشنگٹن میں روسی سفارت خانے نے امریکی محکمہ خارجہ کی اپنےملک

غزہ کے مستقبل کے لیے واشنگٹن کے خواب

?️ 18 دسمبر 2023سچ خبریں:واللا نیوز نے اتوار کی شام اپنی ایک رپورٹ میں اعلان

بجلی کی آٹھ تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے اوور بلنگ کے ذریعے صارفین سے 244ارب بٹورنے کا انکشاف

?️ 21 جولائی 2025لاہور: (سچ خبریں) بجلی کی آٹھ تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے

دنیا میں فلسطین کے معاملے پر قبرستان جیسی خاموشی ہے، حافظ نعیم الرحمٰن

?️ 6 اپریل 2025لاہور: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا

قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت مشترکہ اجلاس ہوا

?️ 17 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق آج قومی اسمبلی میں اسپیکر

اسرائیلی فوڈ انڈسٹری کے مصنوعات میں خراب خام مال کے استعمال کا انکشاف

?️ 5 اگست 2025سچ خبریں: ہیکنگ گروپ "سائبر سپورٹ فرنٹ” نے اپنے ٹیلی گرام چینل

اسرائیل مردہ باد کے عظیم اجتماع میں فلسطین کے ساتھ پاکستانی عوام کی یکجہتی

?️ 9 دسمبر 2024سچ خبریں: پاکستان کے شمال مغربی صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور

اسرائیل تنہائی کا شکار اور لب دم ہے: ہاریٹز

?️ 8 اکتوبر 2025سچ خبریں:  عبرانی اخبار ہاریٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے