لبنان کے خلاف ناپاک صیہونی عزائم؛ لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی زبانی

لبنان

?️

سچ خبریں:لبنان کے پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے اس ملک کے حوالے سے صہیونی حکومت کے ناپاک عزائم کی نشاندہی کی ہے۔

لبنان کے پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے اسرائیل کے حقیقی عزائم سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ تل ابیب کا مقصد لبنانی فوج اور مزاحمتی قوتوں کے درمیان تصادم کرانا ہے۔ انہوں نے مذاکرات، جنگ بندی، حزب اللہ اور لبنان کے سیاسی مستقبل پر بھی اہم مؤقف پیش کیا۔

نبیہ بری نے روزنامہ الدیار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کا راستہ اب بھی کھلا ہے۔ اگر دوسرا فریق آمادگی ظاہر کرے تو میں اس حوالے سے مناسب حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اگر معاہدے کے لیے سنجیدہ آمادگی موجود ہو تو میں بھی تیار ہوں۔ کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ ملک سیاسی تعطل کا شکار ہو۔ میں ابتدا ہی سے دشمن کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا مخالف تھا اور جانتا تھا کہ یہ مذاکرات کس انجام تک پہنچیں گے۔

آخرکار ہم نے دیکھا کہ یہ مذاکرات ایک ایسے اشتعال انگیز، ناقص اور لبنان کے ساتھ ناانصافی پر مبنی معاہدے پر ختم ہوئے۔ جس معاہدے کی میں نے سن 2024 میں حمایت کی تھی، وہ ایک مختلف نمونہ پیش کرتا تھا اور اس کے تحت دشمن کے ساتھ براہ راست مذاکرات کیے بغیر حزب اللہ دریائے لیتانی کے جنوب سے مکمل طور پر پیچھے ہٹ گیا تھا۔

بری نے مزید کہا کہ فریم ورک معاہدے پر دستخط سے پہلے میری لبنان کے صدر کے ساتھ بات چیت ہوئی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ معاہدے میں اسرائیل کی مختلف علاقوں سے مکمل واپسی کے اصول کو بنیاد بنایا جانا چاہیے، نہ کہ آزمائشی علاقوں کی بنیاد پر، کیونکہ اس صورت میں ہمارے پاس زیادہ شفاف طریقۂ کار موجود ہوتا۔ حکومت نے بھی اس تجویز سے اتفاق کیا تھا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ معاہدے میں آزمائشی علاقوں کی شق شامل کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اس بات کے لیے تیار ہے کہ اسرائیل کے دریائے لیتانی کے جنوب سے مکمل انخلا کے ساتھ ہی وہ بھی وہاں سے واپس ہٹ جائے۔

 جہاں تک دریائے لیتانی کے شمال میں موجود ہتھیاروں کا تعلق ہے تو یہ معاملہ صرف اس علاقے تک محدود نہیں بلکہ پورے لبنان میں اس اصول پر مبنی ہے کہ اسلحہ صرف ریاست کے اختیار میں ہونا چاہیے۔

نبیہ بری نے کہا کہ اسرائیل دباؤ ڈال کر لبنانی فوج کو مزاحمتی قوتوں کے ساتھ تصادم کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے۔ یہی اسرائیل کا اصل مقصد ہے، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا کیونکہ لبنانی عوام داخلی فساد کے خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں اور نہ ہی فوج اور نہ ہی مزاحمت اسرائیل کے مطلوبہ اہداف کی تکمیل کی سمت قدم بڑھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فریم ورک معاہدے کے بارے میں میری رائے یہی ہے کہ یہ ایک اشتعال انگیز معاہدہ ہے اور میں ملک کو تقسیم اور اندرونی اختلافات کی طرف لے جانے کی سخت مخالفت کرتا ہوں۔

 لبنان کو ایک ایسے بین الاقوامی حفاظتی نظام کی ضرورت ہے جس میں امریکہ، سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ ایران شریک ہوں۔

مشہور خبریں۔

نیتن یاہو اور لیپڈ کے درمیان کنیسٹ میں جھگڑا؛ وجہ؟

?️ 14 فروری 2025 سچ خبریں: صیہونی حکومت کے 12 ٹی وی چینل نے اپنی ایک

برطانیہ کے بے شرم آدمی کی معافی بھی تنقید کی لہر کو تھام نہ سکی

?️ 20 اپریل 2022سچ خبریں:  برطانوی وزیر اعظم وارث جانسن نے منگل کی شام پارلیمنٹ

شیخ رشید کی گرفتاری، سی پی او کا جواب مسترد، آر پی او راولپنڈی ذاتی حیثیت میں طلب

?️ 22 ستمبر 2023لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر داخلہ اور عوامی مسلم

وزیراعظم ایک بہت بڑا رسکی کام کرنے جارہے ہیں:سینئر صحافی عارف حمید بھٹی

?️ 25 مارچ 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم ایک بہت بڑا رسکی کام کرنے جارہے ہیں،

ٹرمپ کی کمپنی کے خلاف ٹیکس چوری کرنے کا مقدمہ

?️ 3 جولائی 2021سچ خبریں:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک کمپنی پر الزام عائد

ایرانیوں نے ثابت کر دیا کہ وہ جو کہتے ہیں کر دکھاتے ہیں: عطوان

?️ 14 اپریل 2024سچ خبریں: ایک سینئر علاقائی تجزیہ نگار نے اس بات کی طرف

دہشت گردوں اور موساد کے خلاف میزائل حملہ کر کے ایران کیا کہنا چاہتا ہے؟عطوان

?️ 17 جنوری 2024سچ خبریں: ایک سینئر علاقائی تجزیہ کار نے شام اور عراق میں

سعودی شہزادے نے پاکستان میں 10 کروڑ ڈالر کے ’ٹیک ہاؤس‘ کا افتتاح کر دیا

?️ 9 مارچ 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سعودی عرب کے شہزادہ فہد بن منصور السعود نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے