?️
سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی جانب سے موسیٰ ابو مرزوق سے منسوب بیانات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے مزاحمت کے ہتھیاروں کے خاتمے پر کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کر دیا ہے۔
فلسطینی خبر رساں ادارے سما کی رپورٹ کے مطابق، حماس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیویارک ٹائمز میں 24 فروری کو شائع ہونے والے موسیٰ ابو مرزوق کے انٹرویو میں دیے گئے بیانات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
حماس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انٹرویو چند روز قبل دیا گیا تھا، مگر اخبار نے مکمل اور اصل جوابات کو توڑ موڑ کر نیز سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر کا آپریشن (طوفان الاقصی) فلسطینی عوام کے حقِ مزاحمت کا مظہر تھا، جو قبضے اور محاصرے کے خلاف ایک جائز ردعمل تھا۔
موسیٰ ابو مرزوق نے حماس کے مستقل مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ فلسطینی عوام کو ہر قسم کی مزاحمت، خاص طور پر مسلح مزاحمت کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمتی ہتھیار فلسطینی عوام کا حق ہیں اور ان کا واحد مقصد فلسطینیوں اور ان کی اقدار کا دفاع کرنا ہے، جب تک اسرائیلی قبضہ جاری ہے ان ہتھیاروں کو ترک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بھی نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت کے ہتھیار جائز اور ناقابلِ گفت و شنید ہیں، جب تک فلسطینی سرزمین پر قبضہ برقرار ہے، یہ مسئلہ مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والا مؤقف حماس کا سرکاری مؤقف نہیں ہے۔
حماس کے ایک اور رہنما اسماعیل رضوان نے کہا کہ مزاحمت کے ہتھیار سرخ لکیر ہیں، اور اسرائیل جنگ بندی معاہدے سے فرار کا راستہ تلاش کر رہا ہے، انہوں نے ثالث ممالک سے اپیل کی کہ وہ قابض قوتوں پر معاہدے پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالیں۔
یاد رہے کہ نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا کہ موسیٰ ابو مرزوق نے کہا تھا کہ حماس کو 7 اکتوبر کے حملے کی پیشگی معلومات نہیں تھیں اور اگر میں جانتا کہ اس کا نتیجہ اتنی تباہی کی صورت میں نکلے گا، تو میں اسے روک دیتا۔
اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ابو مرزوق نے کہا کہ حماس حملے کی مجموعی حکمتِ عملی سے متفق تھی، مگر اسے تفصیلات کا علم نہیں تھا۔
مزید برآں نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا کہ ابو مرزوق نے کہا کہ حماس اپنے ہتھیاروں کے مستقبل پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
مزید پڑھیں: غزہ کی جنگ کے اثرات اور اس کا مستقبل
تاہم، حماس نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور نیویارک ٹائمز پر جانبدارانہ صحافت کا الزام لگایا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
کیا امریکہ کسی کا دوست ہو سکتا ہے؟
?️ 23 اپریل 2024سچ خبریں: شامی صدر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ
اپریل
این اے 249:الیکشن کمیشن کے حکم پر فواد چوہدری کا رد عمل
?️ 1 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کراچی کے حلقے این
مئی
سبزِیاں اور پھل کھاکر صحت مند رہنے کے ساتھ عمر بڑھائیں، تحقیق
?️ 2 مارچ 2021ہارورڈ{سچ خبریں} انسان کی زندگی آج کل بھاگ دوڑ کی زندگی ہے
مارچ
حزب اللہ کے اعلی کمانڈر شہید ابرہیم عقیل کون تھے؟
?️ 22 ستمبر 2024سچ خبریں: حزب اللہ کے سینئر فوجی رہنما اور خصوصی فورسز رضوان
ستمبر
فلسطینی مزحمتی تحریک کے ہاتھوں صیہونیوں کو لگام
?️ 1 ستمبر 2021سچ خبریں:سیف القدس کی لڑائی میں فلسطینی مزاحمت نے فلسطین کے لیے
ستمبر
"جولانی” کے لیے امریکہ کی تعریف و توصیف کا راز کیا ہے/ لبنان کی "بلاد الشام” میں واپسی کی کہانی؟
?️ 13 جولائی 2025سچ خبریں: رائی الیوم اخبار نے شام کی عبوری حکومت کے سربراہ
جولائی
اسرائیلی فوجی کمانڈر شدید تناؤ کا شکار؛ وجہ ؟
?️ 23 جنوری 2025سچ خبریں: غزہ جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوج اور دیگر عسکری
جنوری
امریکی حکومت کا تائیوان کو 500 ملین ڈالر کی اسلحہ امداد بھیجنے کا منصوبہ
?️ 7 مئی 2023ایک باخبر ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ امریکی حکومت تائیوان کو
مئی