?️
سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ پر عالمی میڈیا کے ردعمل کا تفصیلی جائزہ۔ الجزیرہ، الشرق الاوسط، المسیرہ اور صہیونی میڈیا نے جنگ، حزب اللہ، ایران اور خطے کی بدلتی صورتحال پر اہم انکشافات کیے۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد نہ صرف اس آپریشن کے اعلان کردہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے بلکہ حملہ آور فریقوں کے لیے اسٹریٹجک تعطل، سیاسی ناکامی اور میدانِ جنگ میں شکست کے بڑھتے ہوئے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز کے بعد یہ جنگ تیزی سے انسانی، سکیورٹی اور اقتصادی بحران کی شکل اختیار کر گئی۔ اس جنگ کا آغاز وسیع حملوں اور عام شہریوں خصوصاً معصوم طلبہ کے قتل سے ہوا، جس نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔ اگرچہ دو ہفتوں کی جنگ بندی حاصل ہوئی اور بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس میں توسیع بھی کی گئی، تاہم اس جارحیت کے حقیقی خاتمے تک پہنچنے کے لیے اب بھی پیچیدہ راستہ درپیش ہے۔
دنیا کے مختلف ذرائع ابلاغ نے اپنے اپنے زاویۂ نظر سے اس جنگ کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان ردعمل کا جائزہ جنگ کی حقیقی صورتحال اور اس کے مستقبل کو بہتر انداز میں واضح کرتا ہے۔
عربی اور علاقائی میڈیا
الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ پاکستان کی فعال ثالثی نے دنیا کو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک بڑے بحران سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تجزیہ نگار کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے تہران دورے کے بعد جنگ کے خاتمے کے لیے ابتدائی مفاہمت کی راہ ہموار ہوئی، جس پر ٹرمپ انتظامیہ بھی پُرامید ہے، اگرچہ امریکی شدت پسند حلقے اور بنیامین نیتن یاہو اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
اس منصوبے کے مطابق تمام محاذوں پر جنگ بند کی جائے گی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا اور ایران کا بحری محاصرہ ختم ہوگا۔ اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور کشیدگی میں کمی کے حوالے سے مذاکرات شروع ہوں گے۔
امریکہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو محدود کرنے اور تہران کے علاقائی اتحادیوں کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی پر زور دے رہا ہے۔
تجزیہ میں جنگ کے باعث ایران اور خلیجی ممالک کو ہونے والے بھاری نقصانات کا بھی ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ کوئی بھی فریق جنگ جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ جوہری معاملے میں برجام جیسے معاہدے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا، جس میں یورینیم افزودگی کی حد بندی، بین الاقوامی نگرانی اور مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی شامل ہو سکتی ہے۔
تجزیہ نگار نے آخر میں پاکستان، قطر، عمان، سعودی عرب، چین اور اقوام متحدہ کے سفارتی کردار کو نمایاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کشیدگی میں کمی ممکن ہے، لیکن پائیدار امن اب بھی دور دکھائی دیتا ہے۔
الشرق الاوسط نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمت نہ مکمل کامیابی کی علامت ہے اور نہ ہی مکمل شکست، بلکہ یہ ایک مہنگی جنگ کو روکنے کی کوشش ہے۔
تجزیہ نگار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اب جنگ جاری رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور ایران بھی اسی نتیجے پر پہنچ چکا ہے۔ اس کے برعکس بنیامین نیتن یاہو جنگ بندی سے ناخوش ہیں کیونکہ انہیں امید تھی کہ دباؤ کے ذریعے ایران اور اس کے اتحادیوں کو مکمل طور پر کمزور کیا جا سکے گا۔
رپورٹ کے مطابق شدید حملوں کے باوجود ایران نے ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی اور میزائل و ڈرون حملوں کے ذریعے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا۔ دوسری جانب امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور جنگ کے طویل ہونے پر عوامی ناراضی نے بھی ٹرمپ کے فیصلوں پر اثر ڈالا۔
تجزیہ میں جنرل عاصم منیر کے کردار کو نہایت اہم قرار دیا گیا اور انہیں کشیدگی کم کرنے کا بنیادی ثالث بتایا گیا، جنہوں نے واشنگٹن، بیجنگ، تہران اور ریاض کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے مفاہمت کی راہ ہموار کی۔
تجزیہ نگار کے مطابق اگر یہ معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو عاصم منیر ایک ایسے جنرل کے طور پر یاد کیے جائیں گے جنہوں نے جنگ کے بغیر سفارتی کامیابی حاصل کی۔
رپورٹ کے اختتام پر ایران کے مستقبل کے حوالے سے سوال اٹھایا گیا کہ آیا تہران دنیا اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مفاہمت کی طرف بڑھے گا یا آئندہ مرحلے کی محاذ آرائی کے لیے خود کو تیار کرے گا۔
المسیرہ نے اپنی رپورٹ میں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم کی جنوبی لبنان کی آزادی کی پچیسویں سالگرہ پر کی گئی حالیہ تقریر کو لبنان میں ایک نئے سیاسی اور عسکری مرحلے کا آغاز قرار دیا۔ شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ لبنانی حکومت عوامی مفادات کے دفاع اور امریکہ و اسرائیل کے دباؤ کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قرض الحسن ادارے کی سرگرمیوں کو محدود کیا گیا تو عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حزب اللہ ایک واضح دفاعی حکمت عملی بننے تک اپنے ہتھیار حوالے نہیں کرے گی اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی براہ راست مذاکرات کو مسترد کرتی ہے۔
لبنانی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تقریر حکومت پر حزب اللہ کے سیاسی اور عوامی دباؤ میں اضافے کی علامت ہے کیونکہ حکومت نہ اسرائیلی حملوں کو روک سکی، نہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کر سکی اور نہ ہی لبنان کے حقوق کا دفاع کر پائی۔
عسکری ماہرین کے مطابق اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں شدید انسانی اور فوجی تھکن کا شکار ہے اور اسے مسلسل اپنی افواج کی نقل و حرکت اور زمینی کارروائیوں میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔
ان ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنانی مزاحمت اب بھی میدان میں برتری رکھتی ہے اور اس کے میزائل و ڈرون حملوں نے شمالی مقبوضہ فلسطین میں خوف اور عدم تحفظ کو بڑھا دیا ہے۔ مجموعی طور پر تجزیہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ طاقت کا توازن اب بھی حزب اللہ کے حق میں ہے کیونکہ وہ اپنے سرزمین کا دفاع کر رہی ہے۔
صہیونی میڈیا کا ردعمل
صہیونی اخبار ہارٹیز نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ شمالی اسرائیل کی بستیوں اور مقامی کونسلوں کے عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کسی معاہدے کے باوجود حزب اللہ اپنی موجودہ طاقت کے ساتھ برقرار رہی تو یہ سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔
شمالی مقبوضہ علاقوں کی مقامی کونسلوں کے عہدیداروں نے کہا کہ تل ابیب حکومت نے انہیں واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری معاہدے یا اس کے ممکنہ سکیورٹی اثرات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔
لبنان کی سرحد پر واقع شمالی ترین صہیونی بستی کے میئر نے ہارٹیز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اب ان علاقوں پر حقیقی حاکمیت نہیں رکھتا۔ مقامی حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ ممکنہ امریکہ۔ایران معاہدہ حزب اللہ کو کمزور کیے بغیر طے پا سکتا ہے، جس سے لبنان کی سرحدی بستیوں کے لیے خطرات برقرار رہیں گے۔
رپورٹ کے مطابق صہیونی بستیوں کی مقامی کونسلوں کے سربراہان نے اتوار کے روز امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مفاہمت اور حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی پر اس کے اثرات کے بارے میں تشویش ظاہر کی۔
ایسے وقت میں جبکہ تل ابیب پہلے حزب اللہ کی تباہی کا دعویٰ کر چکا تھا، صہیونی اخبار اسرائیل ہیوم نے اپنی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ لبنانی مزاحمتی تنظیم اب صہیونی حکومت کی سب سے بڑی سکیورٹی تشویش بن چکی ہے۔
اسرائیل ہیوم نے لکھا کہ حزب اللہ کے ساتھ مقابلہ اب اسرائیل کا سب سے بڑا سکیورٹی مسئلہ بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں زیادہ تر گفتگو شمالی سرحد اور لبنان کی صورتحال پر مرکوز رہی جبکہ ایران کا مسئلہ پس منظر میں چلا گیا۔
اخبار نے ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے لکھا کہ ایران اب ڈونلڈ ٹرمپ کا مسئلہ ہے جبکہ اسرائیل کو حزب اللہ لبنان کے مقابلے پر توجہ دینی چاہیے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل فی الحال ایران کے خلاف کسی نئی مہم جوئی کا ارادہ نہیں رکھتا کیونکہ اسرائیلی اندازوں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ ایران پر حملے شروع کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔
اسرائیل ہیوم کے مطابق اسرائیلی حکام اب حزب اللہ کو سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ حزب اللہ نے نومبر 2024 کی جنگ بندی کی شرائط کو عملی طور پر مسترد کر دیا ہے اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینا جاری رکھے ہوئے ہے۔
صہیونی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے مخالفین حکومت کی تبدیلی سے مایوس ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بعض عہدیداروں کو نشانہ بنایا گیا، تاہم حکومتی ڈھانچہ مکمل طور پر برقرار ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل نے لکھا کہ واشنگٹن اور تل ابیب کے حملوں کے باوجود ایران میں نظام کا مستحکم رہنا حتیٰ کہ حکومت مخالف عناصر کے لیے بھی غیر متوقع تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مخالفین کا خیال ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی کر کے انہیں مایوس کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران مخالف عناصر نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ ایران میں سیاسی نظام تبدیل ہو جائے گا، اور کہا کہ صرف شخصیات تبدیل ہوئی ہیں جبکہ نظام اپنی جگہ برقرار ہے۔
ٹائمز آف اسرائیل نے مزید لکھا کہ ایران کے مخالفین کے مطابق جنگ نے نہ صرف سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو کمزور نہیں کیا بلکہ اس کی پوزیشن مزید مضبوط کر دی ہے۔


مشہور خبریں۔
امریکہ اپنے تمام جرائم میں صہیونی دشمن کا ساتھی ہے: انصار اللہ
?️ 23 فروری 2026 سچ خبریں:یمن کی تحریک انصاراللہ کے رہنما سید عبدالملک بدرالدین الحوثی
فروری
اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، 23 ارب 80 کروڑ روپے کی ضمنی گرانٹس منظور
?️ 8 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) حکومت نے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے
جون
صنعاء میں یمنی مسلح فوج کی بڑی فوجی پریڈ
?️ 23 ستمبر 2023ؤسچ خبریں:اس فوجی پریڈ میں مسلح فوج کو حال ہی میں فراہم
ستمبر
اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے امن مشنری کو حراست میں لے لیا
?️ 7 اپریل 2026سچ خبریں: دہشت گرد اسرائیلی حکومت نے ایک نئے اقدام میں، بین
اپریل
صہیونی فوجیوں کے اہلخانہ کا نیتن یاہو اور کاتز کو سخت خط
?️ 5 اپریل 2026سچ خبریں:عبری میڈیا کے مطابق صہیونی فوجیوں کے والدین نے نیتن یاہو
اپریل
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہوگئے
?️ 5 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے زرمبادلہ
مئی
دھوکہ دہی کی کارروائیاں؛ ہمیں عراق سے امریکیوں کے انخلا کے بارے میں پرامید کیوں نہیں ہونا چاہیے؟
?️ 31 اگست 2025سچ خبریں: بغداد سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا اعلان کیا گیا
اگست
ہم غزہ کی حمایت سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے: صنعا
?️ 8 جنوری 2025سچ خبریں: یمن کی تبدیلی اور تعمیراتی حکومت کے وزیر خارجہ جمال
جنوری