ٹرمپ کے بڑھتے حملے بھی ایران کو مطالبات ماننے پر مجبور نہیں کر سکیں گے: روئٹرز

ٹرمپ کے بڑھتے حملے بھی ایران کو مطالبات ماننے پر مجبور نہیں کر سکیں گے

?️

سچ خبریں:روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فضائی حملے تیز کر دیے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتا عسکری دباؤ بھی تہران کو رعایتیں دینے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔

روئٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فضائی حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے اور تنازع کو مزید وسعت دینے کی دھمکی بھی دی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کو شبہ ہے کہ امریکہ کے بڑھتے ہوئے حملے تہران کو رعایتیں دینے پر آمادہ نہیں کر سکیں گے۔

رپورٹ کے مطابق حملوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایک ماہ قبل ہونے والا عارضی جنگ بندی معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔ ٹرمپ اس وقت ایک مشکل صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں، کیونکہ وہ آبنائے ہرمز پر ایران کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنے اور تہران کو اپنے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن گزشتہ فوجی مہم بھی ایران سے کوئی رعایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔

روئٹرز کے مطابق اگرچہ اب تک دونوں فریق مکمل جنگ کی طرف واپس جانے سے گریز کرتے رہے ہیں، لیکن موجودہ بحران نے مستقبل قریب میں کسی سیاسی حل کی امیدوں کو کمزور کر دیا ہے۔

 اس صورت حال کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مالیاتی منڈیوں میں بے چینی بھی دوبارہ بڑھنے لگی ہے۔ دونوں جانب سے جوابی حملے مسلسل چھٹے روز بھی جاری رہے، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تو وہ اپنے اتحادی انصار اللہ کو باب المندب کی آبنائے بند کرنے کی ترغیب دے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے ساتھ ممکنہ نئے اہداف پر بھی غور کیا ہے، جن میں بجلی گھر، پل، جزیرہ خارک کے تیل کے اڈے پر قبضے کے لیے زمینی افواج کی تعیناتی اور پہاڑی علاقے میں واقع جوہری تنصیبات پر بمباری جیسے اقدامات شامل ہیں۔ تاہم بعض تجاویز کو زیادہ خطرناک اور داخلی و بین الاقوامی سیاسی نتائج کے باعث غیر عملی قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی قیادت کا تختہ الٹنے کے لیے زمینی کارروائی نہ صرف انتہائی خطرناک بلکہ سیاسی طور پر بھی ناقابل قبول سمجھی جاتی ہے، جبکہ اس کے علاوہ کشیدگی میں اضافہ بھی تہران کی پالیسی تبدیل کرنے کے امکانات کو زیادہ متاثر نہیں کرے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے روئٹرز سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ امریکی صدر سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ان کے بقول ایران صرف عسکری طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے خاتمے کے وقت ٹرمپ کو اندرون ملک بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ وہ ایسی جنگ ختم کرنے کے وعدوں کی زد میں ہیں جس میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے اور جس کے باعث وسط مدتی انتخابات سے قبل ان کی عوامی مقبولیت متاثر ہوئی ہے۔

روئٹرز کے مطابق عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا معاملہ حالیہ کشیدگی کا بنیادی محور بن چکا ہے۔

 تازہ صورتحال میں امریکہ نے ایران کے پلوں اور دیگر تنصیبات پر فضائی حملوں کا دائرہ وسیع کیا ہے، جبکہ ایران نے بھی امریکہ کے اتحادی ممالک، جن میں اس تنازع میں اہم ثالث کا کردار ادا کرنے والا قطر بھی شامل ہے، کے خلاف نئے میزائل حملے کیے ہیں۔

مشہور خبریں۔

پاکستانی سفیر کی ایران پر اسرائیل کے بلا جواز حملوں کی مذمت

?️ 14 جون 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر اور مستقل نمائندے نے

انصاراللہ کی نظر میں صیہونی دفاعی نظام

?️ 3 جنوری 2025سچ خبریں:انصاراللہ یمن کے ذرائع نے صیہونی دفاعی نظام کی ناکامی پر

دنیا بھر میں غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے مظاہرے

?️ 2 جون 2024سچ خبریں: دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے

غزہ میں شہید ہونے والے صحافیوں کی تعداد

?️ 28 اکتوبر 2024سچ خبریں:حماس نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں صحافیوں

شمالی وزیرستان: فورسز کا آپریشن، پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث افغان شہری ہلاک

?️ 8 فروری 2025شمالی وزیرستان: (سچ خبریں) سیکیورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع

ہیگ کی عدالت کا چ کی مذمت کرتے ہوئے نیا حکم جاری 

?️ 22 اکتوبر 2025سچ خبریں: بین الاقوامی عدالت انصاف آج بدھ کے روز غزہ پٹی پر

قدس فورس کے کمانڈر کی دھمکی پر صیہونی سیخ پا

?️ 27 جون 2026سچ خبریں:صیہونی وزیر جنگ یسرائیل کاتس نے جنرل اسماعیل قاآنی کے بیانات

یوکرین کی جنگ کے تیسرے سال میں میدان جنگ، نقصانات اور اقتصادی اثرات کا جائزہ

?️ 24 فروری 2025 سچ خبریں:یوکرین کی جنگ روس کی برتری کے ساتھ چوتھے سال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے