?️
سچ خبریں:ایک امریکی تجزیہ کار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی مستقبل پر سوالات بڑھ رہے ہیں، ماگا تحریک میں دراڑیں گہری ہو رہی ہیں، اور واشنگٹن میں ٹرمپ کے بعد کے دور پر بحث تیز ہو گئی ہے جبکہ ایران کے ساتھ کشیدگی بھی امریکی داخلی سیاست کو متاثر کر رہی ہے۔
ایک معروف امریکی تجزیہ کار نے ٹرمپ کے حامیوں کے درمیان گہری تقسیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اور انہیں لنگڑا بطخ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی حلقے اب ٹرمپ کے بعد کے دور اور ان کی ممکنہ برطرفی پر غور کر رہے ہیں۔
امریکہ اور صہیونی حکومت کی جنگی پالیسیوں کے سائے میں جاری علاقائی کشیدگی کے دوران، سارا باکسر جو میری کولون انٹرنیشنل رپورٹنگ سینٹر کی ڈائریکٹر ہیں، نے ایک مضمون میں امریکہ میں بڑھتی ہوئی سیاسی بے یقینی پر توجہ مرکوز کی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مستقبل کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ان کے سیاسی کیمپ، جسے ماگا تحریک کے نام سے جانا جاتا ہے، میں واضح دراڑ کی طرف اشارہ کیا۔
ٹرمپ کے حامیوں میں دراڑ
تجزیہ کار نے آئی پیپر ویب سائٹ پر لکھا کہ امریکی آئین کی پچیسویں ترمیم کے نفاذ اور صدر کو ذہنی یا جسمانی اہلیت کے فقدان کی بنیاد پر ہٹانے کے بارے میں بحث اب صرف نظریاتی نہیں رہی بلکہ واشنگٹن کی سیاسی گفتگو کا حصہ بن چکی ہے، اگرچہ عملی طور پر اس کا نفاذ انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے اور یہ ایک سیاسی بغاوت کے تصور کے قریب ہے۔
انہوں نے ٹرمپ کے دائیں بازو کے حامی حلقوں میں بڑھتی ہوئی اندرونی تقسیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماگا تحریک سے وابستہ کئی نمایاں میڈیا شخصیات اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد جیسے ٹکر کارلسن، کینڈیس اوونز، میگن کیلی اور الیکس جونز نے صدر پر شدید تنقید شروع کر دی ہے اور یہاں تک کہ ان کی قیادت کی صلاحیت پر سوال اٹھا رہے ہیں، جبکہ یہ لوگ پہلے ان کے مضبوط ترین حامیوں میں شمار ہوتے تھے۔
اس امریکی برطانوی مصنفہ کے مطابق یہ تبدیلی اس اتحاد کے ٹوٹنے کی علامت ہے جو میڈیا اور عوامی سطح پر ٹرمپ کی سیاسی طاقت کا بنیادی ستون تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹرمپ اپنی مضبوط اور غیر جھکنے والی قیادت کی شبیہ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنے ناقدین کو سخت الفاظ میں شکست خوردہ اور کم عقل قرار دے کر لنگڑے بطخ کی شبیہ بننے سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تجزیے کے مطابق یہ عوامی محاذ آرائیاں اس بڑھتی ہوئی تنہائی کو ظاہر کرتی ہیں جس کا سامنا ٹرمپ اپنی سیاسی فضا اور حتیٰ کہ اپنی حکومت کے اندر بھی کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں میں وسیع تناؤ بھی پیدا ہو رہا ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق فوجی اور سیاسی حکام ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کے نتائج پر اندرونی سطح پر بحث کر رہے ہیں اور انٹیلیجنس اندازوں اور اس تنازع میں امریکی کردار پر شدید اختلافات موجود ہیں۔
ٹرمپ کے بعد کا دور
باکسر نے امریکی اعلیٰ حکام کے درمیان موجود اختلافات کی طرف بھی اشارہ کیا جن میں ٹرمپ کے قریبی مشیر اور ان کے نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہیں، جنہیں ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور جو ایران سے متعلق حساس سفارتی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
تجزیے کے مطابق اس صورتحال کے پس منظر میں ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کے سروے نتائج پر بھی بات ہو رہی ہے اور ان کی صحت اور ذہنی صلاحیتوں سے متعلق افواہیں بھی بڑھ رہی ہیں، جنہیں ان کے مخالفین اور بعض اندرونی ناقدین ان کی سیاسی بقا پر سوال اٹھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
تجزیے کار کے مطابق اگرچہ موجودہ حالات میں ٹرمپ کی برطرفی ایک غیر حقیقی تصور معلوم ہوتی ہے، لیکن یہ بات واضح ہے کہ امریکی سیاسی ماحول آہستہ آہستہ اقتدار کی ممکنہ منتقلی کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ یہ تمام اشارے، چاہے مبالغہ آمیز ہوں یا غیر مصدقہ، سیاسی اور میڈیا حلقوں میں ٹرمپ کے بعد کے دور کے مباحثے کو تقویت دے رہے ہیں۔
تجزیے کے اختتام پر یہ تصویر پیش کی گئی ہے کہ ایک انتہائی کشیدہ سیاسی مرحلہ جاری ہے جس میں ٹرمپ کے کیمپ کے اندرونی تنازعات بیرونی دباؤ اور بین الاقوامی بحرانوں کے ساتھ مل رہے ہیں، اور یہ صورتحال امریکی قیادت کے مستقبل کو ایک انتہائی حساس اور متنازع موضوع بنا رہی ہے حتیٰ کہ ان کے اپنے حامیوں کے درمیان بھی۔


مشہور خبریں۔
کابل حملوں میں طالبان کا سینئر کمانڈر ہلاک
?️ 3 نومبر 2021سچ خبریں: کل منگل کابل میں داعش دہشت گرد گروہ کے حملے
نومبر
مخالفین نے پی ٹی آئی انٹرا-پارٹی انتخابات کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھا دیے
?️ 3 دسمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کو اس کے مخالفین نے انٹرا
دسمبر
32 سال کے بعد امریکہ ایک بار پھر خطرناک ایٹمی وار ہیڈ بنا رہا ہے
?️ 30 اپریل 2023سچ خبریں:امریکہ کی جانب سے جوہری وار ہیڈز کی پیداوار 32 سال
اپریل
پاکستان ایران کے ساتھ تاریخی اور برادرانہ تعلقات کیلئے پرعزم ہے.شہبازشریف
?️ 1 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہبازشریف نے پاکستان اور ایران کے
ستمبر
بنوں واقعہ اور آپریشن عزم استحکام کے بارے میں بیرسٹر سیف کا بیان
?️ 23 جولائی 2024سچ خبریں: بیرسٹر سیف نے کہا کہ بنوں واقعے کی تحقیقات کیلئے
جولائی
افغانستان سے انخلاء میں واشنگٹن کا نقصان ؟
?️ 16 اگست 2023سچ خبریں:امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ مائیکل میک
اگست
الیکشن کمیشن نے دو وفاقی وزراء کو شوکاز نوٹس جاری کردیئے
?️ 27 اکتوبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے
اکتوبر
مشرق وسطی جنگ، حکومت کا پارلیمانی لیڈروں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ
?️ 3 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) ایران پر حملے سے پیدا صورتحال پر حکومت
مارچ