امریکہ اور سعودی عرب کے مجوزہ جوہری معاہدے کی تفصیلات

امریکہ اور سعودی عرب

?️

سچ خبریں:امریکی ذرائع نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ جوہری معاہدے کی تفصیلات سامنے لاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یہ معاہدہ آئندہ چند روز میں امریکی کانگریس میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت جلد ہی سعودی عرب کے ساتھ جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون سے متعلق معاہدہ کانگریس میں پیش کرے گی، جس میں جوہری ٹیکنالوجی کے تبادلے اور غیر فوجی جوہری پروگرام کی شقیں شامل ہیں۔

روئٹرز کے مطابق دو باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ آئندہ چند دنوں میں سعودی عرب کے ساتھ جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی کے تبادلے سے متعلق معاہدہ کانگریس میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی حکومت آرٹیکل 123 معاہدہ کے نام سے ایک دستاویز کانگریس میں جمع کرائے گی، جس پر امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور ان کے سعودی ہم منصب شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان دستخط کریں گے۔ دونوں ممالک گزشتہ سال ریاض میں اس حوالے سے ابتدائی معاہدے پر دستخط کر چکے تھے۔

یہ معاہدہ امریکہ کے 1954 کے جوہری توانائی قانون کی شق 123 کے تحت تیار کیا گیا ہے، جس کے مطابق امریکی حکومت اور کمپنیاں سعودی عرب میں کئی ارب ڈالر مالیت کی غیر فوجی جوہری صنعت کی ترقی کے لیے سعودی اداروں کے ساتھ تعاون کر سکیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں نام نہاد گولڈن اسٹینڈرڈ شامل نہیں ہے، جس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم کی افزودگی اور استعمال شدہ جوہری ایندھن کی دوبارہ تیاری سے روکا جاتا ہے۔

حساس نوعیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع نے مزید بتایا کہ اس معاہدے میں اضافی پروٹوکول بھی شامل نہیں ہوگا، جو اقوام متحدہ کے ماتحت بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کو جوہری سرگرمیوں پر وسیع اختیارات، بشمول غیر اعلانیہ مقامات کے اچانک معائنے، فراہم کرتا ہے۔

ایک ذریعے کے مطابق امریکی حکومت آج ہی یہ معاہدہ کانگریس میں پیش کر سکتی ہے، جبکہ دوسرے ذریعے نے کہا کہ اس میں تقریباً ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ ایک تیسرے ذریعے نے صرف اتنا بتایا کہ معاہدہ جلد پیش کیا جائے گا، تاہم اس نے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی کہ آیا اس میں مذکورہ ضمانتیں شامل ہیں یا نہیں۔

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ ابتدائی معاہدہ یورینیم کی افزودگی سے متعلق نہیں بلکہ امریکی جوہری توانائی قانون میں شامل عدم پھیلاؤ کے تمام سخت معیارات پر مشتمل ہے، جنہیں دنیا کے مضبوط ترین ضابطوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ایک ذریعے نے وضاحت کی کہ یہ معاہدہ جوہری ایندھن کے مکمل چکر، بشمول یورینیم کی افزودگی، کے شعبے میں قانونی تعاون کی راہ ہموار کرتا ہے، تاہم امریکہ اس کے تحت سعودی عرب کو ایسی کسی بھی صلاحیت یا ٹیکنالوجی کی منتقلی کا پابند نہیں ہوگا۔

اگر امریکی کانگریس اس معاہدے کو روکنا چاہے تو اسے مشترکہ قانون منظور کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوگی تاکہ صدارتی ویٹو کو بھی مسترد کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق متعدد ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن رہنما، جن میں موجودہ وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شامل ہیں، اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ کسی بھی جوہری معاہدے میں سخت نگرانی اور کنٹرول کی شقیں لازماً شامل ہونی چاہئیں۔

اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل نے بھی رپورٹ دی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سابقہ مؤقف سے ہٹتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ ایک بڑے اور طویل المدت جوہری معاہدے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 30 سالہ مدت پر مشتمل یہ معاہدہ امریکی کمپنیوں کو دسیوں ارب ڈالر کے منصوبے فراہم کرے گا اور سعودی عرب کو یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت رکھنے والے ممالک کے قریب لے جائے گا۔

مشہور خبریں۔

کیوبا: امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہیں

?️ 28 مارچ 2026سچ خبریں: کیوبا کے نائب وزیرِ اعظم نے امریکہ اور صیہونی حکومت

 شام کے ساتھ امن معاہدے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا:صہیونی وزیر جنگ

?️ 27 نومبر 2025  شام کے ساتھ امن معاہدے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا:صہیونی

بلوچستان کو آزاد کرنے کا خواب دیکھنے والے خام خیالی میں ہیں۔ سرفراز بگٹی

?️ 1 ستمبر 2025کوئٹہ (سچ خبریں) وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان

واشنگٹن اور دوحہ کے درمیان ٹرمپ کو دیے گئے طیارے کے حوالے سے معاہدے پر دستخط

?️ 28 جولائی 2025واشنگٹن اور دوحہ کے درمیان ٹرمپ کو دیے گئے طیارے کے حوالے

وزیراعظم کی زیرصدارت (ن) لیگی وفد نے27ویں ترمیم کی منظوری کیلئے حمایت مانگی ہے، بلاول بھٹو

?️ 3 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین

میانمار فوج کی عام شہریوں کے خلاف بربریت

?️ 27 مارچ 2021سچ خبریں:میانمار کے نیوزذرائع اور عینی شاہدین نے اطلاع دی ہے کہ

دشمن کو غزہ اور لبنان میں ہونے والے جرائم کی قیمت چکانا ہوگی : مزاحمت

?️ 28 ستمبر 2024سچ خبریں: فلسطین کے مختلف مزاحمتی گروپوں نے الگ الگ بیانات میں بیروت

عمران خان مختلف مقدمات میں ضمانت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے

?️ 8 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان توشہ خانہ ریفرنس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے