?️
نئی دہلی (سچ خبریں) بھارت میں کورونا وائرس کا شدید قہر جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے ایک دن میں 4 ہزار 187 ہلاک ہوگئے جس کے بعد بھارت کی متعدد ریاستوں میں سخت لاک ڈاؤن لگادیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارت میں کورونا وائرس کی دوسری لہر سے متاثرہ افراد کی تعداد میں غیرمعمولی اضافے کے بعد مجموعی تعداد 2 کروڑ 19 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 40 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کے کیسز اور اموات کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔
بی ایم ڈبلیو، ڈیملر، فورڈ، نسان اور رینالٹ سمیت آٹوموبائل تیار کرنے کے لیے مشہور تامل ناڈو نے پیر سے جزوی سے مکمل لاک ڈاؤن میں منتقل ہونے کا فیصلہ کیا ہے، ریاست میں عوامی نقل و حمل کو روکنے اور سرکاری طور پر چلائے جانے والے شراب خانوں کو بند کردیا جائے گا، علاوہ ازیں ریاست کرناٹک نے مجموعی طور پر شٹ ڈاؤن میں توسیع کردی۔
واضح رہے کہ ریاست کے دارالحکومت بنگلورو ایک بہت بڑا آئی ٹی مرکز ہے جہاں گوگل، ایمیزون اور سسکو سمیت متعدد کمپنیوں کے بڑے دفاتر ہیں۔ بھارت نے تاحال ملکی سطح پر لاک ڈاؤن نہیں لگایا جیسا کہ اس نے گزشتہ سال پہلی لہر کے دوران لگایا تھا لیکن بھارت کی نصف ریاستوں نے مکمل طور پر لاک ڈاؤن لگادیا ہے جبکہ متعدد جزوی طور پر بند ہیں۔
علاوہ ازیں متعدد ریاستوں نے ہندو کے مذہبی تہوار ہولی سے پہلے بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تامل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے ایک خط میں کہا کہ اگلے دو ہفتوں میں تامل ناڈو کی میڈیکل آکسیجن کی طلب دوگنی ہوسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ تامل ناڈو میں آکسیجن کی دستیابی نہایت ہی نازک ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چنائی کے مضافات میں واقع ایک ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے 13 مریضوں کی موت ہوگئی۔
واضح رہے کہ نریندر مودی کی حکومت کو رواں سال کے آغاز میں بڑے مذہبی اور سیاسی اجتماعات کی اجازت دینے اور صحت کے نظام کو بہتر نہ کرنے پر سخت تنقید کا سامنا ہے، علاوہ ازیں متعدد ہسپتالوں اور ڈاکٹروں نے فوری نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیا کہ وہ مریضوں کے رش سے نمٹنے کے قابل نہیں ہیں۔
حالیہ کچھ ماہ کے دوران برطانیہ، جنوبی افریقہ، برازیل اور امریکا میں کورونا وائرس کی نئی اقسام سامنے آئی ہیں، جو بہت تیزی سے مذکورہ خطوں میں پھیل رہا ہے اور اس میں ایسے میوٹیشن ہیں جو ویکسینز کی افادیت کو کمزور کرسکتی ہے۔
اس نئی قسم کو بی 1526 کا نام دیا گیا ہے اور اس کے نمونے پہلی بار نومبر 2020 میں سامنے آئے تھے اور ہر 4 میں سے ایک وائرل سیکونس میں اسے دیکھا گیا تھا۔


مشہور خبریں۔
میکرون اپنے برسوں کی حکمرانی کے مثبت نتائج کو ظاہر کرنے کی کوشش میں
?️ 21 اپریل 2023سچ خبریں:مشرقی فرانس کے علاقائی اخبارات کو انٹرویو دیتے ہوئے فرانسیسی صدر
اپریل
قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان کی مسلح افواج کو جوابی کارروائی کی اجازت دے دی
?️ 7 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بھارت کے بزدلانہ حملے کے بعد وزیراعظم ہاؤس
مئی
سپریم کورٹ نے عمران خان کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق اپیلیں نمٹا دیں
?️ 23 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی
اپریل
کراچی: گلشن اقبال میں اومیکرون کی تصدیق، لاک ڈاؤن نافذ
?️ 1 جنوری 2022کراچی (سچ خبریں) شہر قائد میں ایک ہی خاندان کے بارہ افراد
جنوری
ایران جنگ کے بعد یورپ میں قدرتی گیس کی قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
?️ 21 اگست 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث
اگست
نیتن یاہو "اسرائیلی فوج کی چوری” قانون کی حمایت کرکے اتحادیوں کو بلیک میل کرتا ہے
?️ 13 نومبر 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوج میں حریدی مردوں کے لیے سروس سے استثنیٰ
نومبر
اعتماد ہے الیکشن کمیشن ملک میں صاف، شفاف انتخابات یقینی بنائے گا، آصف زرداری
?️ 19 نومبر 2023کراچی: (سچ خبریں) سابق صدر اور پی پی پی کے صدر آصف
نومبر
محصولات میں کمی کے باوجود بیوروکریٹس کی نظریں الاؤنسز میں اضافے پر مرکوز
?️ 21 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) محصولات کی وصولی میں کمی کے باوجود حکومت
دسمبر